انطالیہ، ترکیہ (شِنہوا) چین کے پہلے خلا باز اور چین کے انسان بردار خلائی ادارے کے نائب چیف ڈیزائنر یانگ لی وے نے کہا ہے کہ چین کا خلائی سٹیشن دنیا بھر کے سائنس دانوں کے لئے عالمی تحقیقی کا ایک مرکز بنے گا۔
یانگ نے یہ بات ترکیہ کے بحیرہ روم کے ساحلی شہر انطالیہ میں جاری 77ویں بین الاقوامی خلائی کانگریس کے دوران کہی۔ انہوں نے بتایا کہ چین سائنسی تحقیق، خلا بازوں کی تربیت، خلائی پرواز کے مواقع فراہم کرنے اور سائنسی تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں دوسرے ممالک کے ساتھ تبادلے اور تعاون کو فعال طور پر فروغ دینا چاہتا ہے۔
یانگ کے مطابق خلا بازی کے دو پاکستانی امیدوار، جو اس وقت اپنے چینی ہم منصبوں کے ساتھ مشترکہ تربیت حاصل کر رہے ہیں، تربیتی عمل کے دوران غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چینی خلائی سٹیشن رواں سال کی دوسری ششماہی میں اپنے پہلے غیر ملکی خلا باز کا خیرمقدم کرے گا۔ اس دوران ایک پاکستانی خلا باز مختصر دورانیے کے خلائی مشن میں بطور پے لوڈ سپیشلسٹ حصہ لے گا۔
چین کے انسان بردار قمری پروگرام کے حوالے سے یانگ نے کہا کہ چین دوسرے ممالک کے ساتھ مزید تعاون اور تبادلوں کا خواہاں ہے اور تمام فریقوں کو بین الاقوامی قمری سائنسی تحقیقی سٹیشن کی تعمیر میں حصہ لینے کی دعوت دیتا ہے۔
پانچ روزہ کانگریس میں دنیا بھر سے خلائی اداروں کے عہدیداروں، خلا بازوں، سائنس دانوں، انجینئروں اور صنعت سے وابستہ نمائندوں نے شرکت کی۔
چین کی قومی خلائی انتظامیہ، تحقیقی اداروں اور چینی نجی خلائی کمپنیوں نے اپنی ٹیکنالوجیز پیش کیں اور بین الاقوامی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
بیجنگ میں قائم خلائی ٹیکنالوجی کمپنی فائنل فرنٹیئر کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جن لین چھن نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران چین کی تجارتی خلائی صنعت نے تیزی سے ترقی کی ہے۔
چھن نے شِنہوا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’چین کے نجی شعبے میں خلائی صنعت نے صفر سے آغاز کرکے نمایاں پیش رفت کی ہے۔‘‘ انہوں نے دوبارہ استعمال کے قابل راکٹوں کی تیاری میں پیش رفت کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا، جس سے خلائی پروازوں کے اخراجات کم ہوں گے اور کم لاگت والے سیٹلائٹس کو وسیع پیمانے پر خلا میں بھیجنا ممکن ہو سکے گا۔
فائنل فرنٹیئر جدید کمپیوٹنگ سیٹلائٹس تیار کر رہی ہے۔ کمپنی سیمی کنڈکٹرز کے ڈیزائن اور تیاری میں ہونے والی پیش رفت کو خلائی ٹیکنالوجی میں بروئے کار لانے کی کوشش کر رہی ہے۔
چھن نے کہا کہ ’’ہم ترکیہ کی کمپنیوں کے ساتھ ہر شعبے میں تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ کانگریس کے دوران ممکنہ صارفین اور شراکت داروں کے ساتھ بات چیت بھی شروع ہو چکی ہے۔
تقریب میں چین کی بڑھتی ہوئی شرکت نے میزبان ملک ترکیہ کے خلائی حکام کی توجہ بھی حاصل کی ہے، جو خود بھی چاند اور خلائی تحقیق کے حوالے سے بلند عزائم رکھتا ہے۔
ترک خلائی ایجنسی کے سربراہ یوسف کراچ نے کانگریس میں چینی اداروں اور کمپنیوں کی شرکت کو سراہا۔
کراچ نے شِنہوا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’چین کے ساتھ ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں اور ہم اپنے چینی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کر رہے ہیں۔‘‘
چین کا خلائی سٹیشن عالمی تحقیقی مرکز بنے گا، چین کے پہلے خلا باز کی پیش گوئی



