دنیا میں سرحدیں کسی بھی ملک کی شناخت ہی نہیں ہوتیں بلکہ اس کے وقار خودداری اور قومی غیرت کی وہ آخری لکیر ہوتی ہیں جس کے پار قدم رکھنے والے کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی پاکستان کی سرحدیں بھی محض نقشے پر کھینچی ہوئی لکیریں نہیں بلکہ ان کروڑوں پاکستانیوں کی عزت کا نشان ہیں جنہوں نے اس وطن کو اپنے خون پسینے اور دعاؤں سے سینچا ہے ان سرحدوں کی حفاظت پاکستان کی فوج بخوبی جانتی ہے اور دشمن کو یہ خوش فہمی پالنے کی قطعاً ضرورت نہیں کہ وہ چند گولیوں کی آواز سے پاکستان کے عزم کو متزلزل کرسکتا ہے پاکستان کی فوج کو معلوم ہے کہ سرحدوں کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے شہریوں کی جان و مال کو دہشت گردی اور بیرونی جارحیت سے کیسے محفوظ رکھا جاتا ہے اور دشمن کی ہر شرارت کا جواب کس زبان میں دینا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس ملک کے افسر اور جوان اپنی جوانیاں وطن کے نام کرکے اپنے سینوں پر گولیاں کھاتے ہیں اور شہادت کا وہ مرتبہ پاتے ہیں جس کے سامنے دنیا کی بڑی سے بڑی دولت بھی ہیچ دکھائی دیتی ہے
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی فوج نے ایک بات روز روشن کی طرح واضح کردی ہے کہ وطن کی سرحدیں کسی مصلحت کی منڈی میں فروخت ہونے والی چیز نہیں اور نہ ہی پاکستان کی خودمختاری کسی طاقتور ملک کی مرضی کی محتاج ہے بھارت اگر یہ سمجھتا ہے کہ سرحد پر فائرنگ کرکے عام پاکستانیوں کو خوفزدہ کیا جاسکتا ہے تو اسے اپنی اس خوش فہمی کا ماتم ابھی سے شروع کردینا چاہیے کیونکہ پاکستان کی فوج صرف بندوق چلانا نہیں جانتی بلکہ دشمن کی نیت پڑھنا بھی جانتی ہے اور جب نیت میں شرارت ہو تو جواب بھی ایسا دیا جاتا ہے کہ آنے والی نسلیں اسے مثال بنا کر سناتی ہیں
حال ہی میں لاہور اور قصور کے قریب بھارتی فائرنگ سے دو بے گناہ پاکستانی شہریوں کی شہادت نے ایک مرتبہ پھر بھارتی جارحیت کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا ہے دو پاکستانی شہری جو اپنی زمین پر اپنے گھروں میں اپنے معمول کی زندگی گزار رہے تھے بھارتی گولیوں کا نشانہ بن گئے ان کا جرم کیا تھا کیا وہ پاکستانی تھے یہی ان کا جرم تھا کیا وہ اپنی سرزمین پر آباد تھے یہی ان کی خطا تھی اگر بھارت کے نزدیک کسی پاکستانی شہری کا اپنے وطن میں زندہ رہنا بھی جرم ہے تو پھر بھارت کو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان کے کروڑوں شہری اپنی آزادی اور اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے کسی قربانی سے پیچھے ہٹنے والے نہیں
یہ پہلا واقعہ نہیں بھارت بارہا سرحدی علاقوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنا چکا ہے کبھی کسان کی جان جاتی ہے کبھی کسی مزدور کا گھر اجڑتا ہے کبھی کسی بچے کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جاتا ہے اور پھر بھارتی حکومت کے ترجمان ایسے چہرے بنا کر دنیا کے سامنے آتے ہیں جیسے ظلم بھی انہوں نے برداشت کیا ہو اور ماتم بھی وہی کررہے ہوں یہ وہی روش ہے جس میں جارح خود کو مظلوم اور مظلوم کو مجرم بنانے کی کوشش کرتا ہے مگر زمانہ اب اتنا بھولا نہیں کہ بھارتی ریاستی بیانیے کے پردے میں چھپی حقیقت کو پہچان نہ سکے
پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے مگر امن کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ دشمن کو اپنے شہریوں کے خون سے ہولی کھیلنے کا لائسنس دے دیا جائے پاکستان نے کبھی بھارت کے عام شہریوں کو اپنی طاقت دکھانے کے لیے نشانہ نہیں بنایا پاکستان نے کبھی عام آبادی کو جنگ کا میدان بنانے کو بہادری نہیں سمجھا لیکن بھارت کی طرف سے بار بار شہری آبادی کو خطرے میں ڈالنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں طاقت کے نشے نے عقل کی کھڑکیاں بند کردی ہیں بھارت کو شاید یہ گمان ہے کہ پاکستان کی امن پسندی بزدلی ہے مگر اسے تاریخ کا وہ سبق دوبارہ پڑھ لینا چاہیے جس میں پاکستان نے ہر جارحیت کا جواب دیا ہے
بھارت کو یہ حقیقت بھی ہضم نہیں ہورہی کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا وہ پرانا توازن باقی نہیں رہا جس میں نئی دہلی خود کو خطے کا مختار سمجھتا تھا پاکستان نے اپنی دفاعی قوت سفارتی حکمت عملی اور قومی عزم کے ذریعے یہ واضح کردیا ہے کہ جنوبی ایشیا کسی ایک ملک کی جاگیر نہیں اور نہ ہی یہاں کسی ایک طاقت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دوسروں کی خودمختاری کے فیصلے کرے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے بدلتے ہوئے حالات میں اپنی دفاعی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے اور دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان نہ کسی سے جنگ مانگتا ہے نہ کسی کے سامنے جھکتا ہے
بین الاقوامی حالات میں بھی پاکستان نے امن کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے دنیا کو ایک بار پھر اس حقیقت کے سامنے کھڑا کردیا ہے کہ جنگ شروع کرنا آسان اور جنگ ختم کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے ایسے حالات میں پاکستان نے امن مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے یہی فرق ہے ایک ذمہ دار ریاست اور طاقت کے زعم میں مبتلا ریاست کے درمیان پاکستان امن چاہتا ہے مگر اپنی عزت کی قیمت پر نہیں پاکستان مذاکرات چاہتا ہے مگر اپنی خودمختاری گروی رکھ کر نہیں پاکستان ہمسائیگی چاہتا ہے مگر اپنے شہریوں کے خون پر خاموش رہ کر نہیں
بھارت کی بکھلاہٹ اب اس کے طرز عمل سے صاف دکھائی دیتی ہے جب سیاسی حکمران داخلی مسائل میں گھر جائیں تو اکثر سرحد کو سیاست کا میدان بنانے کی کوشش کرتے ہیں مگر پاکستان کوئی آسان شکار نہیں جسے وقتی اشتعال انگیزی سے خوفزدہ کیا جاسکے بھارتی قیادت کو شاید یہ معلوم نہیں کہ پاکستان کے سپاہی سرحد پر صرف بندوق لے کر نہیں کھڑے ہوتے ان کے پیچھے شہیدوں کی ایک پوری تاریخ کھڑی ہوتی ہے ان کے پیچھے ماؤں کی دعائیں ہوتی ہیں ان کے پیچھے باپوں کی امیدیں ہوتی ہیں ان کے پیچھے بچوں کی آنکھوں میں وطن کا خواب ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر ان کے پیچھے ایک پوری قوم کھڑی ہوتی ہے
پاکستانی فوج کے جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف بھی بے مثال قربانیاں دی ہیں اندرونی دہشت گرد ہوں یا بیرونی سرپرستی حاصل کرنے والے عناصر ہوں پاکستان کی فوج نے ہر محاذ پر اپنا فرض ادا کیا ہے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو اندر سے کمزور کیا جاسکتا ہے انہیں بھی یہ جان لینا چاہیے کہ یہ قوم لاشیں اٹھا کر بھی کھڑی ہوئی ہے گھروں کے چراغ بجھنے کے باوجود کھڑی ہوئی ہے اپنے جوانوں کو کفن پہنا کر بھی کھڑی ہوئی ہے اور جب قوم اس طرح کھڑی ہوجائے تو دشمن کی تمام تدبیریں ریت کی دیوار بن جاتی ہیں شہادت کا مقام ان لوگوں کے نصیب میں آتا ہے جو وطن کی حفاظت کو زندگی کی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
یہ صرف شعر نہیں بلکہ ان ہزاروں پاکستانی سپاہیوں کی داستان ہے جنہوں نے اپنی جانیں اس وطن کے نام کردیں پاکستان کے جوانوں نے ثابت کیا ہے کہ وطن کی حفاظت محض تقریروں سے نہیں ہوتی اس کے لیے خون دینا پڑتا ہے راتوں کی نیند قربان کرنا پڑتی ہے اپنے بچوں سے دور رہنا پڑتا ہے اور وقت آنے پر اپنے سینے دشمن کے سامنے پیش کرنے پڑتے ہیں
لاہور اور قصور کے قریب شہید ہونے والے دونوں پاکستانی شہریوں کا خون بھی اسی قومی داستان کا ایک دردناک باب ہے ان کے خاندانوں کے لیے یہ سانحہ کبھی ختم نہیں ہوگا مگر ریاست کے لیے یہ واقعہ ایک واضح انتباہ ضرور ہے کہ سرحدوں پر ہونے والی ہر شرارت کو معمول سمجھ کر نظر انداز کرنا مستقبل کی بڑی مشکلات کو دعوت دینا ہے بھارت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ شہریوں کے خون سے لکھی جانے والی ہر سطر تاریخ کے دفتر میں محفوظ رہتی ہے اور ایک دن اسی دفتر سے حساب بھی لیا جاتا ہے
بھارت اگر یہ سمجھتا ہے کہ عام شہریوں کو نشانہ بنا کر وہ پاکستان کو دباؤ میں لے آئے گا تو یہ اس کی سب سے خطرناک غلط فہمی ہوگی پاکستان کی فوج کو جنگ کی خواہش نہیں مگر جنگ مسلط کردی جائے تو دفاع کرنا بھی جانتی ہے اور دشمن کو یہ باور کرانا بھی جانتی ہے کہ پاکستان کی سرحدوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کوئی معمولی کھیل نہیں پاکستان کی فوج امن کی محافظ ہے مگر جب امن کو کمزوری سمجھا جائے تو یہی محافظ دشمن کے لیے ناقابل عبور دیوار بن جاتا ہے
اب بھارت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسے خطے میں امن چاہیے یا مسلسل اشتعال انگیزی بھارت کو یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ترقی اور امن کی میراث چھوڑنا چاہتا ہے یا نفرت اور جنگ کی آگ اگر اس نے عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا راستہ جاری رکھا اگر اس نے سرحدی جارحیت کو اپنی سیاست کا ہتھیار بنائے رکھا تو پھر اسے یہ شکایت نہیں کرنی چاہیے کہ حالات اس کے قابو سے باہر کیوں ہوگئے
پاکستان امن پسند ہے مگر بے غیرت نہیں پاکستان صلح چاہتا ہے مگر سرحدوں کی حرمت پر سمجھوتہ نہیں کرتا پاکستان کسی ملک کی زمین پر قبضہ نہیں چاہتا مگر اپنی ایک انچ زمین بھی کسی کو چھیننے نہیں دے گا پاکستان جنگ نہیں چاہتا مگر اگر جنگ اس کے دروازے پر لائی گئی تو پھر فیصلہ صرف الفاظ سے نہیں ہوگا پھر جواب پاکستان کی طاقت اور قومی عزم دے گا
بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ سرحد پر کھڑا پاکستانی سپاہی صرف ایک سپاہی نہیں وہ پاکستان کی خودمختاری کا نگہبان ہے وہ اس قوم کی آنکھ ہے جو دشمن کی ہر حرکت دیکھ رہی ہے وہ اس وطن کی ڈھال ہے جس کے لیے لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دی ہیں اور وہ اس عہد کی علامت ہے کہ پاکستان کی سرحدوں کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا
اب وقت بھارت کے پاس ہے کہ وہ عقل کے دروازے کھولے یا غرور کے دروازے سے نکل کر ایک ایسی راہ پر چلے جہاں ہر قدم اسے اپنے ہی کیے ہوئے فیصلوں کا حساب دے گا پاکستان کسی کی دھمکی سے مرعوب نہیں ہوگا کسی دباؤ سے جھکے گا نہیں اور کسی جارحیت کو اپنی تقدیر نہیں بننے دے گا پاکستان کی فوج سرحدوں کی محافظ ہے پاکستان کے جوان وطن کے امین ہیں اور پاکستانی قوم اپنے شہیدوں کے خون کی حرمت جانتی ہے بھارت کو اگر یہ حقیقت اب بھی سمجھ نہیں آئی تو آنے والا وقت اسے بہت سخت لہجے میں سمجھانے والا ہے۔



