عمان(شِنہوا) اردن کے وزیر سیاحت و آثار قدیمہ عماد حجازین نے شِنہوا کو ایک انٹرویو میں کہا ہےکہ اردن چینی سیاحوں کی تعداد بڑھانے کے لیے سیاحتی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور ان کی ضروریات کے مطابق خدمات فراہم کرنے کے اقدامات کر رہا ہے۔
حجازین نے کہا کہ اردن کے پاس آثار قدیمہ اور قدرتی سیاحتی مقامات کی بھرپور دولت موجود ہے، جبکہ ثقافتی، تعلیمی، طبی اور ایڈونچر سیاحت کے شعبوں میں بھی مختلف سہولیات دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنا رہا ہے، چینی زبان بولنے والے مزید سیاحتی گائیڈز کو تربیت دے رہا ہے اور خدمات کے معیار کو بلند کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزارت نے چینی زبان میں سڑکوں کے نشانات اور معلوماتی بورڈز نصب کرنا شروع کر دیے ہیں، جبکہ اردن سیاحتی بورڈ نے چین میں اپنا نمائندہ دفتر قائم کر لیا ہے اور اپنی ویب سائٹ پر چینی زبان کا ورژن بھی شامل کر دیا ہے۔
حجازین نے کہا کہ اردن اگست میں شاہ عبداللہ دوم کے دورہ چین کے نتائج پر عمل درآمد کر رہا ہے تاکہ سیاحت کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ ان اقدامات میں رائل اردن ایئر لائنز کی جانب سے عمان اور بیجنگ کے درمیان براہ راست پرواز شروع کرنے کی تیاریاں اور اگلے سال اردن میں چینی نئے سال کی تقریبات منعقد کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔ یہ تقریبات 2027 میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 50ویں سالگرہ کے سلسلے میں منعقد ہونے والی تقریبات کا حصہ ہوں گی۔
حجازین نے کہا، “سیاحت کے شعبے میں تعاون ہمارے دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور باہمی مفاہمت کو فروغ دینے کے لیے ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔”
انہوں نے آثار قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے شعبوں میں اردن اور چین کے درمیان مزید مضبوط تعاون کی امید بھی ظاہر کی۔
حجازین نے کہا کہ چین نے حالیہ برسوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے ترقی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ تعاون سے اردن کو آثار قدیمہ کے مقامات کی نگرانی، دستاویز سازی اور تجزیے کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے، جس سے ان کے تحفظ کے لیے زیادہ مئوثر حل فراہم ہوں گے۔
اردن چینی سیاحوں کو راغب کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے، وزیر



