وہ ننھی سی کلی پوچھ رہی ہے دنیا سے سوال، میرا قصور کیا تھا کہ میرا گھر اجاڑ دیا گیا۔
یہ منظر آنکھوں کو نہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ غزہ کی ایک معصوم بچی اپنے ننھے بھائی کو سینے سے لگائے بیٹھی ہے، جیسے وہ اپنے بھائی کو نہیں بلکہ خود کو حوصلہ دے رہی ہو۔ اس کے چہرے پر بچپن نہیں، ایک ایسی عمر سے پہلے کی تھکن ہے جسے دیکھ کر انسان اپنے وجود سے شرمندہ ہو جائے۔ جس عمر میں بچوں کے ہاتھوں میں کھلونے ہونے چاہئیں، آنکھوں میں خواب ہونے چاہئیں، لبوں پر مسکراہٹ ہونی چاہیے اور ماؤں کی گود ان کے لیے دنیا کی محفوظ ترین جگہ ہونی چاہیے، وہاں غزہ کے بچے بھوک، خوف، ملبے، بارود اور بے بسی کے درمیان اپنا بچپن دفن کر رہے ہیں۔ ایک بہن اپنے بھائی کو تھامے بیٹھی ہے، ایک ماں اپنے بچے کو ڈھونڈ رہی ہے، ایک بوڑھا اپنے گھر کے ملبے پر بیٹھا آسمان کی طرف دیکھ رہا ہے اور دنیا خاموش ہے۔ یہ خاموشی شاید بموں سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔
غزہ کی پکار صرف فلسطین کی پکار نہیں، یہ انسانیت کی پکار ہے۔ یہ ان بے بس، لاچار، مظلوم مگر غیور مسلمانوں کی پکار ہے جن کے گھر اجڑ گئے، جن کے پیارے چھن گئے، جن کے بچے بھوک سے تڑپے، جن کے بیمار دوا کے منتظر رہے اور جن کے خیمے بھی موسم کی سختیوں کے سامنے پناہ نہ بن سکے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹس بھی اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ غزہ میں لاکھوں لوگ اب بھی بے گھر ہیں، بنیادی صحت، پانی، خوراک اور پناہ کی ضروریات شدید ہیں اور بچوں پر اس بحران کے دیرپا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ غزہ کے بچے کس کو پکاریں؟ وہ اپنی امت کو پکار رہے ہیں، وہ مسلم دنیا کے حکمرانوں کو پکار رہے ہیں، وہ علماء کو پکار رہے ہیں، وہ اربوں مسلمانوں کے ضمیر کو پکار رہے ہیں، مگر افسوس کہ جس امت کا ذکر قرآن نے اخوت اور باہمی ہمدردی کے ساتھ کیا، اس کا اجتماعی ضمیر جیسے کسی گہری نیند میں جا سویا ہے۔ اور المیہ دیکھیے کہ جن لوگوں کا غزہ سے براہِ راست کوئی مذہبی یا جغرافیائی تعلق نہیں، ان میں سے بہت سے غیر مسلم شہری آج فلسطینی بچوں کے حق میں سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ برطانیہ ہو یا امریکہ، یورپ کے دوسرے ممالک ہوں یا دنیا کے مختلف شہر، فلسطین کے حق میں بڑے بڑے مظاہرے ہوئے ہیں، لوگ گرفتاریوں کا سامنا کرتے ہیں، اپنے حکمرانوں سے سوال کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ انسانی جان کی حرمت کو سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔ حالیہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو خطاب کے لیے کھڑے ہوئے تو درجنوں مندوبین نے احتجاجاً ہال سے واک آؤٹ کیا۔ یہ منظر مسلم دنیا کے حکمرانوں کے لیے آئینہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ احتجاج کرنے والے کس مذہب سے تعلق رکھتے تھے، سوال یہ ہے کہ ان کا انسانیت سے تعلق ابھی زندہ تھا، جبکہ ہم اپنے ایمان، اپنی اخوت اور اپنے دعوائے غیرت کے باوجود کہاں کھڑے ہیں؟
مسلم دنیا کے حکمرانوں سے پوچھنا چاہیے کہ غزہ کے بچوں کی چیخیں ان کے ایوانوں تک کیوں نہیں پہنچتیں؟ ماؤں کے آنسو ان کے دلوں کو کیوں نہیں ہلاتے؟ ملبے سے نکلنے والے بچوں کے جسم کے ٹکڑے ان کی نیند کیوں نہیں چھینتے؟ کیا اقتدار اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ انسانیت اس کے سامنے چھوٹی پڑ گئی؟ کیا سفارتی مصلحتیں اتنی مقدس ہو گئی ہیں کہ مظلوم کی آہ ان تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دے؟ آج مسلم دنیا کے کئی حکمران طاقتور مغربی دارالحکومتوں سے قربت کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں، کسی کے لیے واشنگٹن دوستی کی علامت ہے، کسی کے لیے نئی دہلی سے تعلقات سیاسی مفاد کا ذریعہ ہیں، مگر غزہ کے لیے ان کے پاس کتنے واضح اور عملی اقدامات ہیں؟ یہی اصل سوال ہے۔
قرآن ہمیں عدل، حق اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کا درس دیتا ہے۔ دین ہمیں ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ لیکن اس تعلیم کا مطلب یہ نہیں کہ بے گناہوں کے خلاف تشدد کو جائز سمجھ لیا جائے۔ آج امت کا حقیقی امتحان یہ ہے کہ وہ غزہ کے بچوں کے لیے اپنی آواز بلند کرے، انسانی امداد پہنچانے کے لیے حکومتوں پر دباؤ ڈالے، دوا، خوراک، خیمے، صاف پانی اور علاج کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے عالمی اداروں کو متحرک کرے اور سفارتی و قانونی محاذ پر ظلم کے خلاف کھڑی ہو۔ اگر علماء امت کو جگانا چاہتے ہیں تو انہیں جذبات کو بے سمت کرنے کے بجائے ایمان، اخلاق، عدل اور انسانی ذمہ داری کا شعور بیدار کرنا ہوگا۔ جہاد کا مفہوم بھی محض جنگ نہیں، بلکہ حق کے لیے جدوجہد، ظلم کے مقابلے میں ثابت قدمی اور مظلوم کی مدد کے لیے ہر جائز راستہ اختیار کرنا بھی ہے۔
اور پاکستان؟ پاکستان کے نام کے ساتھ اسلام کا حوالہ دیا جاتا ہے، پاکستان کی بنیاد کے ساتھ فلسطین کی حمایت کی ایک طویل سیاسی تاریخ بھی جڑی ہوئی ہے، تو پھر آج جب غزہ کے لیے آواز اٹھانے والے پاکستانی شہری سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ان کی آواز اتنی کمزور کیوں دکھائی دیتی ہے؟ اگر کسی احتجاج کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے، مظاہرین کو منتشر کیا جاتا ہے یا انہیں پرامن طور پر بیٹھنے اور اپنی بات کہنے کا حق نہیں دیا جاتا، تو یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ آخر حکمران کس آواز سے خوفزدہ ہیں؟ کیا انہیں ڈر ہے کہ غزہ کی پکار اسلام آباد کے ایوانِ اقتدار تک پہنچ جائے گی؟ کیا انہیں خدشہ ہے کہ اگر پاکستانی عوام فلسطین کے حق میں متحد ہو گئے تو ان کے ضمیر کی خاموشی بھی موضوعِ بحث بن جائے گی؟
پاکستان کی موجودہ اشرافیہ کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ اقتدار کسی کی جاگیر نہیں، کرسی کسی کے باپ کی میراث نہیں اور طاقت ہمیشہ کے لیے کسی انسان کے پاس نہیں رہتی۔ تاریخ کے صفحات اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ جنرل ایوب خان سے جنرل یحییٰ خان تک، جنرل ضیاء سے جنرل مشرف تک، طاقت کے کئی پہاڑ آئے اور وقت کی گرد میں گم ہو گئے۔ سیاست کے بڑے بڑے سورما آئے، ایوانوں میں بیٹھے، فیصلے کیے، مخالفین کو دبایا اور پھر ایک دن تاریخ کے حاشیے پر جا بیٹھے۔ نواز شریف کی سیاسی زندگی بھی اقتدار کے عروج و زوال کی ایک بڑی مثال ہے۔ تین مرتبہ وزارتِ عظمیٰ تک پہنچنے والا شخص بھی اقتدار کے ایوانوں سے اس طرح باہر ہوا کہ طاقت کی حقیقت سمجھنے والوں کے لیے یہ پورا واقعہ ایک سبق بن گیا۔ آج جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ یہ اقتدار ٹرمپ کا مرہونِ منت نہیں، یہ اقتدار کسی غیر ملکی طاقت کا عطیہ نہیں، یہ اقتدار کسی طاقتور ادارے کی دائمی ضمانت نہیں۔ اصل طاقت اللہ کی ہے اور اس کے بعد عوام کے دلوں میں جگہ بنانے کی طاقت ہے۔ جس حکمران کے پاس عوام کی محبت، اعتماد اور اخلاقی جواز نہیں رہتا، اس کی ظاہری طاقت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ آپ کچھ عرصہ لوگوں کو دباؤ میں رکھ سکتے ہیں، آوازیں بند کر سکتے ہیں، گرفتاریاں کر سکتے ہیں، قوانین اور آرڈیننس کے ذریعے خوف پیدا کر سکتے ہیں، مگر تاریخ کے پہیے کو نہیں روک سکتے۔ ظلم کی عمر ہمیشہ مختصر ہوتی ہے۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز ضرور ہے، مگر بے اثر نہیں۔
غزہ ہمیں یہی سبق دے رہا ہے کہ آج اگر ہم کسی مظلوم کی آواز نہیں بنیں گے تو کل ہماری آواز کون بنے گا؟ آج فلسطین کے بچوں کے لیے اٹھنے والی آواز دراصل کل ہماری اپنی نسلوں کے تحفظ کی آواز ہے۔ آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم خاموش تماشائی بن کر تاریخ کے مجرموں میں شمار ہوں گے یا انسانیت کے ساتھ کھڑے ہو کر آنے والی نسلوں کو بتائیں گے کہ جب غزہ جل رہا تھا تو کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی بساط کے مطابق آواز اٹھائی تھی۔ غزہ کو ہماری ہمدردی کے صرف الفاظ نہیں، عملی مدد چاہیے۔ انہیں دوائی چاہیے، خوراک چاہیے، صاف پانی چاہیے، محفوظ پناہ چاہیے، خیمے چاہیے، بچوں کے لیے دودھ چاہیے، زخمیوں کے لیے علاج چاہیے اور سب سے بڑھ کر یہ یقین چاہیے کہ دنیا نے انہیں بھلایا نہیں۔ موسم بدل رہا ہے، خیموں میں بیٹھے خاندان ایک بار پھر سردی، بارش اور بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہیں، جبکہ امدادی ادارے مسلسل بنیادی ضروریات کی کمی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
اے مسلم دنیا کے حکمرانو! غزہ کی طرف دیکھیے۔ وہاں کوئی تخت نہیں، کوئی اقتدار نہیں، کوئی پروٹوکول نہیں، صرف ملبے میں دبی ہوئی انسانیت ہے۔ وہاں ایک بچی اپنے بھائی کو سینے سے لگائے بیٹھی ہے اور شاید دنیا سے صرف ایک سوال پوچھ رہی ہے کہ اگر ہم تمہارے بچے ہوتے تو کیا تم پھر بھی خاموش رہتے؟
غزہ کی پکار آج بھی آ رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ غزہ پکار رہا ہے اور ہم خاموش ہیں۔ مگر یاد رکھیے، تاریخ خاموش نہیں رہتی۔ وہ ہر خاموشی کا حساب لکھتی ہے، ہر ظلم کا حساب لکھتی ہے اور ہر اس شخص کا نام بھی لکھتی ہے جو ظلم کے سامنے کھڑا ہوا۔ وقت گزر جائے گا، حکمران بدل جائیں گے، ایوان خالی ہو جائیں گے، طاقت کے تاج اتر جائیں گے، مگر غزہ کے بچوں کے آنسو تاریخ کے چہرے پر ہمیشہ موجود رہیں گے۔ سوال صرف یہ ہے کہ جب تاریخ ہمارا نام پکارے گی تو ہم کس صف میں کھڑے ہوں گے۔



