بیجنگ (شِنہوا) انسانی امدادی ادارے کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ہلال احمر سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) چین کو افریقہ میں پائیدار حل تلاش کرنے اور معاشروں کو قدرتی آفات سمیت مختلف مشکلات سے نمٹنے کے قابل بنانے کے لئے ایک اہم شراکت دار سمجھتی ہے۔ اس سلسلے میں غربت کے خاتمے اور معاشرتی ترقی کے حوالے سے چین کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
آئی ایف آر سی کے نائب علاقائی ڈائریکٹر برائے افریقہ پیئر کریمر نے یہ بات بیجنگ میں چین۔افریقہ تعاون لائحہ عمل کے تحت ریڈ کراس اور ہلال احمر سوسائٹیز کے لئے لچکدار معاشروں کی تعمیر سے متعلق سیمینار کے موقع پر شِنہوا کو انٹرویو میں کہی۔
دو ہفتے جاری رہنے والے اس سیمینار میں 19 افریقی ممالک کی قومی ریڈ کراس اور ہلال احمر سوسائٹیز کے 26 نمائندوں اور آئی ایف آر سی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے لیکچرز، دوروں اور باہمی تبادلہ خیال کے دوران آفات کے خطرات میں کمی، معاشروں کو مشکلات سے نمٹنے کے قابل بنانے اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں تجربات کا تبادلہ کیا اور چین کے طریقہ کار سے آگاہی حاصل کی۔
کریمر نے کہا کہ ریڈ کراس سوسائٹی آف چائنہ کے تربیتی مرکز کی میزبانی اور آئی ایف آر سی کے تعاون سے منعقد ہونے والا یہ سیمینار چین اور افریقی ممالک کی قومی ریڈ کراس اور ہلال احمر سوسائٹیز کے لئے تجربات اور مہارتوں کے تبادلے، بہترین طریقوں کا اشتراک اور تعاون کو مضبوط بنانے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔
افریقی ممالک کی قومی ریڈ کراس اور ہلال احمر سوسائٹیز اور چینی شراکت داروں کے درمیان ماضی کے تعاون کا جائزہ لیتے ہوئے کریمر نے گیمبیا میں ملیریا کے خاتمے کے عمل کو تیز کرنے کے منصوبے کو شراکت داری کی ایک موثر مثال قرار دیا۔
یہ منصوبہ گیمبیا میں ملیریا کے خاتمے کے عمل کو تیز کرنے کے لئے شروع کیا گیا تھا۔ اس کے تحت مقامی سطح پر ملیریا سے بچاؤ، بروقت طبی امداد حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی اور مریضوں کے علاج کے انتظام کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لئے مخصوص موسم میں ملیریا سے بچاؤ کی ادویات خریدیں اور تقسیم کی گئیں۔
2021 میں چین میں کام کرنے والے کریمر نے کہا کہ انہوں نے خود دیکھا کہ مقامی سطح پر صحت کا نظام کس طرح موثر انداز میں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا یقین ہے کہ یہ تجربہ افریقہ میں موثر، عوام پر مرکوز اور مربوط مقامی صحت کے نظام اور عملے کی تشکیل میں مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملیریا سے متعلق یہ منصوبہ چین کے افریقہ میں ترقیاتی تعاون اور آئی ایف آر سی کے انسانی امدادی طریقہ کار کے درمیان ایک وسیع تر مشترکہ پہلو کی بھی عکاسی کرتا ہے، جس میں مقامی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور پائیدار ترقی میں معاونت کرنا شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر آئی ایف آر سی کا بھوک سے پاک افریقہ اقدام مختصر مدت کی امداد کے بجائے لوگوں کو طویل عرصے تک مشکلات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے پر زور دیتا ہے۔ اس کا مقصد ایسے پائیدار اور مقامی سطح پر شروع کئے گئے حل تلاش کرنا ہے جنہیں طویل عرصے تک جاری رکھا جا سکے اور مزید علاقوں تک وسعت دی جا سکے۔
چین کی جانب سے غربت کے خاتمے کی کوششوں نے بھی اس طریقہ کار کے لئے ایک نئی مثال فراہم کی ہے۔ کریمر نے کہا کہ معاشروں کو مشکلات سے نمٹنے کے قابل بنانے میں چین کا تجربہ مالی معاونت سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ انہوں نے چین کی مہارت، مختلف سطحوں پر قیادت اور مسلسل عملدرآمد کو نمایاں کیا۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں آئی ایف آر سی ایک کثیرجہتی پلیٹ فارم کے طور پر چین۔افریقہ شراکت داری کے موثر پروگراموں کو مزید ممالک تک وسعت دینے میں مدد کر سکتی ہے جبکہ خصوصاً نوجوانوں کی نئی نسل میں قیادت کی صلاحیتیں پیدا کرنے کے لئے صلاحیتوں میں اضافے کی کوششوں کو مضبوط اور بہتر بنا سکتی ہے۔
افریقی معاشروں کو مضبوط بنانے میں چین اہم شراکت دار ہے، عہدیدار عالمی انسانی امدادی ادارہ



