بیجنگ (شِنہوا) چین کے شمال مشرقی صوبے حئی لونگ جیانگ کے دارالحکومت ہاربن کی رہائشی ژانگ شن تونگ کے لئے اس سال قومی دن کی تعطیلات گھر پر سکون سے گزارنے کا ارادہ تھا۔ لیکن نئی شروع ہونے والی تیز رفتار ریلوے نے انہیں اسی صوبے کے شہر یی چھون جانے کا خیال دیا جہاں وہ گھنے سبز جنگلات اور صاف ہوا سے لطف اندوز ہونے کا تصور کرنے لگی۔
چین کی انتہائی شمالی تیز رفتار ریلوے لائن ہاربن کو یی چھون سے ملاتی ہے۔ یہ 318 کلومیٹر طویل لائن اسی صوبے میں واقع یی چھون کو ہاربن سے جوڑتی ہے۔ یی چھون موسم گرما میں سیر اور جنگلاتی سیاحت کے لئے مشہور ہے۔ یہ ریلوے لائن 28 ستمبر کو باقاعدہ سروس میں شامل ہوئی جس کے بعد دونوں شہروں کے درمیان ٹرین کا سفر تقریباً سات گھنٹے سے کم ہو کر تقریباً دو گھنٹے رہ گیا ہے۔
ژانگ نے یکم اکتوبر کو اپنے ٹرین کے سفر کے بارے میں بتایا کہ ہر نشست پر مسافر بیٹھے تھے اور کچھ مسافر کونے میں فولڈنگ کرسیاں اور سٹول رکھ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ ٹرین میں کاروباری مسافر، اپنے آبائی علاقوں کو جانے والے خاندان اور مقامی افراد بھی موجود تھے جو سیاحوں کو سفر کے بارے میں مفید معلومات دے رہے تھے۔
چائنہ ریلوے ہاربن گروپ کمپنی لمیٹڈ کے مطابق یہ ریلوے لائن سرحدی علاقوں، جنگلاتی خطوں اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں ٹرانسپورٹ کے بنیادی سہولتوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی چین کی کوششوں کو ظاہر کرتی ہے اور چین کے شمال مشرقی سرحدی علاقوں کی ترقی اور خوشحالی میں مدد دے گی۔
ملک بھر میں چین پہلے ہی دنیا کا سب سے بڑا تیزرفتار ریلوے نیٹ ورک قائم کر چکا ہے اور اسے مزید وسیع کر رہا ہے۔ اس کا مقصد سفر کو آسان بنانا، سیاحت کے مزید مواقع فراہم کرنا اور مختلف علاقوں کی مربوط ترقی کو فروغ دینا ہے۔
28 ستمبر کو چین نے تیز رفتار ریلوے کے مزید تین حصے بھی کھولے، جنہوں نے صوبہ ہیبے کے شیونگ آن کو صوبہ ہینان کے شانگ چھیو، شانشی صوبے کے شی آن کو آن کانگ اور صوبہ ہوبے کے یی چھانگ کو شِنگ شان سے ملا دیا۔
شانشی کے جنوبی پہاڑی علاقے میں واقع آن کانگ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ شی آن۔آن کانگ تیزرفتار ریلوے سروس شروع ہونے کے بعد دونوں شہروں کے درمیان سفر کا وقت تین گھنٹے سے کم ہو کر صرف 45 منٹ رہ گیا ہے۔
آن کانگ کے ثقافتی و سیاحتی عہدیدار چھو شیاؤ یوآن کے لئے نئی ریلوے لائن خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے بھائی شی آن میں کام کرتے ہیں۔ ریلوے لائن کے افتتاح کے روز بھائی نے انہیں فون کر کے مذاق میں کہا کہ اگر گھر والے مزیدار کھانا بنائیں تو وہ رات کے کھانے کے لئے فوراً آن کانگ آ سکتے ہیں اور اسی رات واپس شی آن بھی پہنچ سکتے ہیں۔ چھو نے کہا کہ اب شہر صرف نقشے پر ہی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئے ہیں۔
چھو نے کہا کہ نئی ریلوے لائنوں کے ذریعے زیادہ دور دراز علاقوں سے بھی سیاح آنے لگیں گے، جس سے ہفتہ وار تعطیلات اور مختصر چھٹیوں کے دوران سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس سے مختلف مقاصد اور نئے تجربات پر مبنی سیاحتی مصنوعات کی طلب بڑھے گی۔ اس کے پیش نظر سیاحتی مقامات اپنی منفرد خصوصیات کو اجاگر کریں گے اور معیار بہتر بنانے پر توجہ دیں گے تاکہ ایک جیسی اور نقل شدہ تفریحی سہولیات پیش کرنے سے بچا جا سکے۔
مشرق میں یی چھانگ۔شِنگ شان تیز رفتار ریلوے نے ووہان، ژینگ ژو اور چھونگ چھنگ کو شنگ شان سے دو گھنٹے کے فاصلے پر کر دیا ہے۔ اس طرح راستے میں واقع تھری گورجز، گھنے جنگلات اور بادلوں سے ڈھکی پہاڑی چوٹیوں کی سیر اب آسانی سے اور اچانک بنائے گئے سفری منصوبوں کے ذریعے بھی ممکن ہے۔
نئی ریلوے لائنیں صرف سیاحت کو فروغ نہیں دے رہیں بلکہ مختلف علاقوں کے درمیان افرادی قوت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کی آمدورفت میں بھی اضافہ کر رہی ہیں۔
نئی تیز رفتار ریلوے لائنوں سے نیٹ ورک مزید وسیع، سفر اور علاقائی ترقی کا فروغ



