مشرق وسطیٰ جنگ:ایک اور امریکی بحری بیڑا روانہ ،حوثیوں کیخلاف بڑی سعودی کارروائی کی تیاری

تہران،ریاض،واشنگٹن(نیشنل ٹائمز)امریکاایران کے قریب اپنی فوجی طاقت بڑھانے کیلئے مشرق وسطٰی میں ایران کے قریب تیسرا طیارہ بردار بحری بیڑا اور مزید فوجی تعینات کر رہاہے ۔امریکی عہدیدار نے عرب ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ طیارہ بردار بحری بیڑے کا سٹرائیک گروپ اتوار کو سان ڈیاگو سے خطے کی جانب روانہ  ہوا۔امریکی عہدیدار نے کہا 2 ہزار سے زائد میرینز پر مشتمل میکن آئی لینڈ میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ بھی روانہ کیا گیا۔امریکی عہدیدار کے مطابق نومبر کے اختتام تک ایران کے گرد 3 طیارہ بردار بحری بیڑے اور 2 ایمفی بیئس لینڈنگ گروپس موجود ہوں گے ، رپورٹ کے مطابق خطے میں پہلے سے موجود تقریباً 50 ہزار امریکی فوجیوں کے علاوہ ہزاروں مزید اہلکار اور ایف 35 لڑاکا طیارے بھی تعینات کیے جارہے ہیں۔امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس تعیناتی کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے فوجی آپشنز کو برقرار رکھنا ہے جبکہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہاہے کہ صدر کے حکم پر نئی کارروائی کیلئے امریکی فورسز تیار ہیں۔امریکی فوج نے ایران پر ممکنہ نئے فوجی حملوں کی تیاریوں کے پیشِ نظر سعودی عرب اور قطر میں توانائی کی اہم تنصیبات کے تحفظ کیلئے 2 اضافی پیٹریاٹ میزائل بیٹریز تعینات کردی ہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’’ایکسیوس ‘‘کے مطابق ایک پیٹریاٹ بیٹری گزشتہ ماہ سعودی عرب کی ایک اہم تیل تنصیب کی حفاظت کیلئے بھیجی گئی تھی جبکہ دوسری بیٹری قطر میں قدرتی گیس کی ایک بڑی تنصیب کے دفاع کیلئے نصب کی گئی ہے ۔ویب سائٹ کے مطابق ان دفاعی نظاموں کی تعیناتی کا بنیادی مقصد دونوں خلیجی ممالک کو یہ یقین دہانی کرانا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر عسکری کارروائی شروع کرتے ہیں تو امریکا ان کے توانائی کے حساس اور اہم ڈھانچے کا مکمل تحفظ کرے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ موجودہ کشیدگی بہت جلد ختم ہو جائے گی، تاہم تہران کی جانب سے واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ نہ کرنے کی صورت میں اسے سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ ٹیکساس کے شہر ڈینٹن میں پیٹربلٹ موٹرز کے پلانٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران یا تو کوئی انتہائی مناسب اور دانشمندانہ قدم اٹھائے گا یا پھر زیادہ دیر تک اس کا وجود باقی نہیں رہے گا۔ انہوں نے ایران کی جانب سے کسی بھی معاہدے کی پاسداری پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب میں اس کمپنی کے ساتھ معاہدہ کرتا ہوں تو آپ اس کی پاسداری کریں گے ، لیکن جب آپ ایران کے ساتھ معاہدہ کریں گے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اس کی پاسداری نہیں کریں گے ۔

دوسری جانب ایران نے حملے کی صورت میں زیادہ سخت جوابی کارروائی کی تیاری شروع کردی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، جن کے کامیاب ہونے کے امکانات ایرانی حکام نجی طور پر کم سمجھتے ہیں۔رائٹرز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ اعلیٰ فوجی کمانڈر ممکنہ اہداف کا دائرہ امریکی مفادات سے منسلک تنصیبات سے آگے بڑھا کر ان ممالک تک وسیع کرنے کے منصوبوں کا جائزہ لے رہے ہیں جو امریکی فوجی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں، اور ممکنہ طور پر مشرقِ وسطیٰ سے باہر موجود مقامات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم منصوبہ بندی میں تیزی آگئی ہے کیونکہ دونوں فریقوں کی جانب سے سمجھوتے پر آمادگی کے آثار نظر نہیں آ رہے ۔ادھر ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان و بلوچستان میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے پاسداران انقلاب کے 5 اہلکار جاں بحق ہوگئے ۔دھماکا اس وقت ہوا جب سکیورٹی قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا۔مزید براں سعودی عرب ایران نواز حوثی جنگجوؤں کے خلاف یمن میں ایک فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔ زیرِ غور منصوبوں میں بحیرۂ احمر کی بحری گزرگاہ کو محفوظ بنانے کیلئے ساحلی علاقے میں پیش قدمی یا یمن کے متعدد محاذوں پر بیک وقت حملہ شامل ہے ۔

رائٹرز نے بتایا کہ تیاریوں سے واقف چھ افراد کے مطابق یہ کارروائی آئندہ چند ہفتوں میں شروع کیے جانے کی توقع ہے ۔ زمینی کارروائی کی قیادت یمنی فورسز کریں گی، جن کی نگرانی ریاض کرتا ہے ، جبکہ سعودی فضائی حملے ان کی معاونت کریں گے ۔ ان افراد نے سکیورٹی معاملات پر بات کرنے کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکہ پہلے ہی یمن میں سعودی کارروائیوں کے لیے انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے ، جبکہ بعض علاقائی اور یورپی ممالک سعودی عرب کو بنیادی طور پر دفاعی فوجی امداد دے رہے ہیں۔ تاہم سعودی اتحادیوں سے توقع نہیں کہ وہ براہِ راست جنگی کارروائیوں میں حصہ لیں گے ۔خلیجی اور یمنی حکام کے مطابق سعودی عرب حملے کیلئے دو ممکنہ راستوں پر غور کر رہا ہے ،یا تو باب المندب کے آس پاس کے علاقے تک محدود حملہ کیا جائے ، یا ایک وسیع تر فوجی کارروائی کی جائے جس میں یمن کے مختلف محاذوں، یعنی البیضاء، مارب، تعز اور الجوف کے گورنریٹس میں بیک وقت مربوط حملے بھی شامل ہوں۔ حکام نے بتایا کہ کارروائی کے پیمانے کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ یمنی فوجی متحرک کیے جا سکتے ہیں۔

ایک پاکستانی سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ گزشتہ ماہ پاکستان نے چار کارگو طیاروں کے ذریعے عدن میں فوجی سازوسامان بھیجا، جن میں فضائی دفاعی نظام، ہلکی توپخانہ، ڈرون اور ڈرون شکن نظام شامل تھے ۔ عدن سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کا مرکز ہے ۔دوسرے پاکستانی عہدیدار، خلیجی عہدیدار اور ایک مغربی سفارت کار کے مطابق پاکستانی فوجی مشیر بھی سعودی ہم منصبوں کے ساتھ یمن میں موجود ہیں اور یمنی فورسز کی معاونت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ جنگ سے پہلے سعودی عرب کی جانب سے خریدے گئے ترک ڈرون بھی یمن میں تعینات کیے گئے ہیں۔علاقائی حکام کے مطابق یمن میں نئی کارروائی شروع کرنے کے حوالے سے سعودی عرب کی ایک بڑی تشویش یہ ہے کہ حوثیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں سے اپنی تیل کی تنصیبات اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو کیسے محفوظ رکھا جائے ۔ ان حکام کے مطابق ریاض نے کئی اتحادیوں سے دفاعی نظام کیلئے مدد طلب کی ہے ۔دوسرے پاکستانی عہدیدار کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب میں 30 ہزار سے 40 ہزار فوجی تعینات کیے ہیں، جو مملکت کی زمینی سرحدوں کے دفاع اور ڈرون و میزائل حملوں کو روکنے میں مدد دے رہے ہیں۔

ان کے مطابق یہ فوجی گزشتہ سال سے مختلف مرحلوں میں سعودی عرب پہنچے ، جبکہ حالیہ کشیدگی کے بعد بھی مزید فوجی پہنچے ہیں۔عہدیدار نے کہا کہ اسلام آباد نے ابھی تک پاکستانی فوجیوں کو جنگی کردار میں یمن بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ فرانس نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ بحیرۂ احمر کے بندرگاہی شہر ینبع کے تحفظ میں مدد کیلئے سعودی عرب کو دفاعی نظام اور فوجی اہلکار بھیجے گا۔



  تازہ ترین   
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب، مشترکہ اعلامیہ تیار
پاکستانی شہریوں کے قتل پر بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، باضابطہ احتجاج
گورنر راج یا ایمرجنسی سے پہلے سیاسی جماعتوں کو راستہ تلاش کرنا چاہیے: بلاول بھٹو
خیبر پختونخوا حکومت نے لانگ مارچ کے ذریعے بدامنی کا منصوبہ بنا لیا: خواجہ آصف
سسٹم ری سیٹ ہونے والا ہے، چیزیں بہت بہتر ہو جائیں گی: محسن نقوی
حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات، آج دوبارہ دو بجے ملاقات ہوگی
اب تحمل کی پالیسی مزید برقرار نہیں رکھی جا سکتی، شہزادہ ترکی الفیصل
بلاول بھٹو کا حکومت اور اپوزیشن میں ملاقات کا خیر مقدم





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر