زندگی کا سفر رواں دواں رہتا ہے۔ لوگ ملتے ہیں، بچھڑتے ہیں۔ کچھ مل کے جدا ہوتے ہیں، اور کچھ بچھڑ کر ملتے ہیں۔ بہت سے چہرے آنکھوں میں ہنستے مسکراتے رہ جاتے ہیں، اور کچھ کی بس دھندلی سی تصویر کبھی دل کے نہاں خانوں سے ابھرتی ہے، مگر آنکھ کا کیمرا اسے اس طرح نہیں دکھا پاتا، جس طرح کبھی وہ دل و دماغ پر نقش ہوتی تھی۔ یہ زندگی کا کھیل کس قدر دلچسپ ہے، اور قدرے پیچیدہ بھی کہ ہم عمر بھر اسے پوری طرح سمجھ نہیں پاتے۔ لوگ بعض اوقات حادثاتی طور پر آپکو ملتے ہیں، اور آپکی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ چھوڑ بھی جائیں تو آپ بھلا نہیں پاتے۔ ویسے بھی دوستیاں، تعلق اور رشتہ داریاں تو ملتے رہنے سے ہی قائم ریتی اور دوام پاتی ہیں۔ ہم جس دور میں رہ رہے ہیں، اس میں رشتوں اور تعلق کو قائم رکھنے کے لئے پہل کرنی پڑتی ہے۔ آپ کچھ عرصہ کے لئے یہ پہل کرنا چھوڑ دیں، لوگ آپ سے تعلق ختم کر دیں گے۔ دوستی اور تعلق کا بھی دلچسپ کھیل ہے۔ کچھ لوگ آپ کے بچپن اور زمانہء طالب علمی کے سنگی ساتھی ہوتے ہیں۔ ان سے زیادہ ربط نہ بھی رہے تو پھر بھی ایک قلبی ربط اور تعلق رہتا ہے۔ کئی لوگ حادثاتی طور پر ملتے اور بڑی جلد قربت کی منزلیں طے کر جاتے ہیں، مگر عہدہ اور اختیار چلے جانے کے بعد ان میں دوری آجاتی ہے، اور کچھ لوگ آپکو اس سفر میں ایسے بھی ملتے ہیں، کہ زندگی میں رنگ بھر دیتے ہیں۔ دوستی اور تعلق توڑنے میں جلد بازی نہ کریں۔ موقع اور space دیں۔ پھر بھی اگر کوئی چھوڑ کر جانا چاہتا ہے، تو اسے مت روکیں، کہ جانے والے کہاں رکتے ہیں، اور جو آپ کو چھوڑ کر جانا چاہتا ہے، وہ آپکا تھا ہی کب۔ بندہ یادوں میں جی سکتا ہے، مگر سرابوں میں نہیں۔ جو آپکو چھوڑ جائے، اسکا برا ذکر نہ کریں، کہ ایسا کرنے سے آپکے ظرف کی شناخت ہوتی ہے۔ زندگی بامقصد جینے کی کوشش کریں۔ اپنے لئے تو بندہ جی ہی لیتا ہے، کبھی دوسروں کے لئے جینے کی کوشش بھی کریں۔ نیکی اور احسان اس جگہ کریں، تو زیادہ لطف ہے، جہاں سے واپسی صلہ کی تمنا نہ ہو، مگر صلہء رحمی میں چوک نہ کھائیں کہ یہ اللہ کو بڑی عزیز ہے۔ زندگی میں مثبت رویے آپکی عزت و شہرت کے ضامن ہوتے ہیں۔ ہر وقت لوگوں پر تنقید اور دوسروں کے بارے میں منفی جزبات ذہنی ہیجان کا سبب بنتے ہیں۔ لوگوں میں خوبیاں ڈھونڈو ، عیب تلاش نہ کرو۔ ورنہ تنہا رہ جاو گے۔ ہم مزاج نہ بھی ملے ، تو ہم شناس سے بھی کام چل جاتا ہے۔ زندگی کو خوشگوار اور ہموار رکھنا چاہتے ہیں تو زندگی میانہ روی، اعتدال اور توازن سے بسر کریں، اسکا مزا ہی الگ ہے۔کم توقعات، زیادہ دیرپا تعلق قائم رکھتی ہیں۔ کم آرزو والے انسان زیادہ مطمئن رہتے ہیں۔ لوگ اسے کمتر سمجھتے ہیں، جسے سمجھ نہیں سکتے۔ ہر بندے کو سمجھنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو مصیبت میں ڈال دیتا ہے۔ جو ہے، جیسا ہے کی بنیاد پر تعلق چل جاتے ہیں۔
زندگی کے سفر کی دلچسپ کہانی



