بچپن سے ہی یہ بات کانوں میں پڑتی رہی کہ صحافت ایک عبادت ہے، صحافت ایک ریاضت ہے، صحافت اس معاشرے اور اس ملک کا چوتھا ستون ہے، اور صحافی جو ہے، وہ معاشرے کا عکس پوری سوسائٹی کے سامنے رکھتا ہے، جس سے معاشرے کی برائیاں اور اچھائیاں دونوں واضح ہو جاتی ہیں۔ حکمرانوں کو جو صحافی ہیں، وہ توجہ دلاتے ہیں کہ عوام کس مصیبت میں ہے، کس کرب میں ہے یا عوام خوشحال ہے اور حکومتی پالیسیوں پر وہ خوش ہے۔ اگر حکومتی پالیسیوں پر وہ ناراض، نالاں ہو، غم زدہ ہو تو بھی صحافی کا قلم بڑی خوبصورتی کے ساتھ ان الفاظ کا انتخاب کرتا ہے اور عوام کی آواز بن کر ابھرتا ہے۔میرا تعلق ایک ایسے قبیلے سے ہے جو پشتون روایت کا حامی ہے اور میرے والد دی نیوز میں سینئر کورٹ کارسپونڈنٹ ہیں، عدالت عظمیٰ کی رپورٹنگ کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر ہی مجھے صحافت میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ اخبارات کا مطالعہ شروع سے کرنے کی عادت تھی اور سوسائٹی میں ناانصافیوں کو جب میں دیکھتا تھا، اپنے اردگرد معاشرے میں، تو دل کرتا تھا اور پھر یہ طے کر لیا کہ میں بھی اپنے والد کی طرح صحافت میں آؤں گا۔جب میں نے کوشش کی تو میرے والد سہیل خان نے مجھے یہ سمجھایا کہ اگر تم نے اس پیشے میں آنا ہے تو اس میں شروع میں بے تہاشا مصائب کا سامنا، مشکلات کا سامنا اور خصوصی طور پر صحافتی برادری کے اندر سے بھی تمہیں بہت زیادہ تنقید کا سامنا برداشت کرنا پڑے گا، تو اگر یہ کر سکتے ہو تو آنا، اور کبھی اپنے قلم کی حرمت کو بیچنا مت۔ بھوکے رہ کے گزارا کر لینا، مگر اپنی قلم کی حرمت پر کبھی آنچ نہ آنے دینا۔ قلم غریب اور مظلوم عوام کی آواز ہوتی ہے اور اس آواز کا گلا گھونٹنا گناہِ کبیرہ کے مترادف ہے، تو لہٰذا یہ گناہ تم نے نہیں کرنا۔ اگر تم نے آنا ہے تو پھر تم یہ طے کر لو کہ کبھی تم خالی پیٹ بھی سو سکتے ہو اور کبھی پیٹ بھر کر بھی کھانا کھا سکتے ہو، اور کبھی میلوں پیدل بھی چل سکتے ہو اور کبھی تمہیں کوئی شاہانہ سواری بھی میسر آ سکتی ہے۔تو یہ ساری چیزیں جو تھیں، وہ میں نے اپنے والد سے سیکھی، اور انہوں نے بڑی محنت کر کے اپنا یہ مقام حاصل کیا۔ اور اب مجھے یہ، جب میں عدالتِ عظمیٰ کی پرشکوہ عمارت کے اندر داخل ہوتا ہوں اور مختلف عدالتوں میں جب جاتا ہوں، تو جو لوگ سہیل خان کے حوالے سے مجھے جانتے ہیں کہ یہ ان کا بیٹا ہے، تو میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ اور میں نے کسی کے منہ سے یہ نہیں سنا کہ یہ نوجوان جو ہے، اس سے کام کرنا نہیں آتا یا اس کی دلچسپی نہیں ہے۔تو اسی طرح کسی میڈیا ایونٹ میں جب میں جاتا ہوں تو جو لوگ مجھے جانتے ہیں، والد سہیل خان کی وجہ سے، تو وہ میرے والد کا نام بڑے عزت و احترام سے لیتے ہیں، تو میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ پھر مجھے اپنے والد کی وہ تمام باتیں یاد آتی ہیں جو انہوں نے مجھے کہا تھا کہ صحافت میں آپ نے مسکرات برداشت کرنی ہے اور آپ نے اپنے قلم کو نہیں گھنچنا اور کمپرومائز نہیں کرنا، کسی بھی طور پر، تو اسی ڈگر پر میں چل رہا ہوں، اپنے والد کی انہی روایات کو میں آگے لے کر چلتا ہوں، اسی کا پاسدار ہوں۔اور دلشبا صحافت ایک انتہائی مشکل پیشہ بن چکا ہوا ہے۔ اس وقت موجودہ صورتحال میں جب بھی آرڈیننس ہو، جب سیاسی اور مذہبی منافرت اور اس میں شدت پسندی عروج پر ہو، جب قلم کی حرمت جو ہے وہ سرعام بک رہی ہو، جب اہلِ قلم اور اہلِ دانش کو بھی ہتھکڑیاں لگا کر پی ای سی اے کے تحت جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے، جب عدالتیں ان کی آواز نہیں بنتیں اور وہ خاموش ہو جاتی ہیں، اور اس دوران پھر یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ واقعی اب کتنا کڑا وقت ہے، کتنا مشکل دور سے اس وقت ہماری سوسائٹی گزر رہی ہے۔مگر کیونکہ میں نے جدوجہد کرنے کی ٹھان لی ہے، میرا کیونکہ پشتون قبیلے سے تعلق ہے اور پشتون روایات کے مطابق ہمارے خون کے اندر جدوجہد اور جستجو اور آگے بڑھنے کی صلاحیت اور آگے بڑھنے کا رجحان اور مقابلہ، یہ ہمارے خون کے اندر شامل ہے۔ ہاں، شکست تسلیم کرنا ہم لوگ نہیں جانتے۔ شکست کا لفظ جو ہے، ہمارے لیے موت کے لفظ سے زیادہ بدترین ہے، تو لہٰذا میں منفی سوچ میں نہیں پڑتا ہوں۔اور ابھی تک جو چند سالوں کا تجربہ مجھے ہوا ہے، اس میں میں نے یہی حاصل کیا ہے کہ اپنے سینئرز کا احترام کریں اور اپنے قلم کا احترام کریں، اپنے الفاظ کا احترام کریں اور جو آپس دیکھیں، اسے اسی طرح رپورٹ کریں۔ اپنے تمام سیاسی، نظریاتی، مذہبی وابستگیاں ایک طرف رکھ کر حقائق پر مبنی رپورٹنگ کریں، معاشرے کو حقائق سے آگاہ کریں، حکمرانوں کو جگاتے رہیں۔ حکمران سو رہے ہوں، انہیں جگاتے رہیں۔ مہنگائی کا معاملہ ہو، دہشت گردی کا معاملہ ہو، حکومتی پالیسیاں ہوں، بے روزگاری ہو، انصاف کا فقدان ہو، بیشک، مگر یہ ہے کہ ایک اچھے صحافی کا جو ہے، قلم وہ کبھی حق اور سچ کے لیے رکنا نہیں چاہیے، وہ اسے اسی طرح لکھتے رہنا چاہیے۔صحافت دراصل معاشرے کے ضمیر کی آواز ہے، جو خاموشی اختیار کر لے تو پورا معاشرہ اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔ جب صحافی حق بات کہنے سے ڈر جائے تو حکمرانوں کی غلطیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں اور عوام کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ میرے والد نے مجھے ہمیشہ یہ سکھایا کہ قلم بیچنے والا صحافی دراصل اپنی روح بیچتا ہے۔ وہ معاشرے کا دشمن بن جاتا ہے کیونکہ وہ مظلوم کی آواز دبا دیتا ہے اور ظالم کی حمایت میں کھڑا ہو جاتا ہے۔اس لیے میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا ہے کہ چاہے حالات کتنے ہی سخت ہو جائیں، چاہے تنقید کا سامنا کرنا پڑے، چاہے بھوک پیاس برداشت کرنی پڑے، میں کبھی اپنے قلم کی حرمت کو داغدار نہیں ہونے دوں گا۔ پشتون خون میں جو جرات اور ثابت قدمی ہے، وہ مجھے اس راستے پر چلتے رہنے کی طاقت دیتی ہے۔جب میں عدالتِ عظمیٰ کی عمارت میں داخل ہوتا ہوں تو مجھے یاد آتا ہے کہ میرے والد نے کتنی راتیں جاگ کر رپورٹیں تیار کیں، کتنی محنت سے حقائق جمع کیے اور کبھی بھی دباؤ کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ ان کی وہ محنت آج میرے لیے مشعلِ راہ ہے۔ میں جب بھی کسی واقعے کی رپورٹنگ کرتا ہوں تو اپنے دل میں یہ بات دہراتا ہوں کہ یہ الفاظ صرف میرے نہیں، بلکہ لاکھوں غریب، مظلوم اور بے بس لوگوں کی آواز ہیں جن کی طرف سے میں بات کر رہا ہوں۔ اگر میں نے سچ چھپایا تو میں نے ان سب کے ساتھ خیانت کی۔صحافت کا پیشہ آج کل بہت مشکل ہو گیا ہے۔ سیاسی دباؤ، مذہبی انتہا پسندی اور قانونی پابندیاں صحافیوں کے لیے بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔ بہت سے اہلِ قلم کو گرفتار کر لیا جاتا ہے، ان پر مقدمات چلائے جاتے ہیں اور عدالتیں بھی بعض اوقات خاموش رہتی ہیں۔ ایسے میں ایک صحافی کے لیے ثابت قدم رہنا بہت بڑی آزمائش ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہی آزمائش اصل امتحان ہے۔ جو شخص اس امتحان میں کامیاب ہو جاتا ہے، وہی حقیقی صحافی کہلانے کا حق دار ہے۔میرے تجربے نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ سینئر صحافیوں کا احترام کرنا ضروری ہے کیونکہ ان کے تجربے سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ اپنے الفاظ کا احترام کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے کیونکہ الفاظ ہی صحافی کی اصل طاقت ہیں۔ اگر الفاظ میں سچائی اور دیانت داری نہ ہو تو قلم بے معنی ہو جاتا ہے۔ حقائق پر مبنی رپورٹنگ ہی صحافت کی جان ہے۔ کوئی بھی سیاسی، نظریاتی یا مذہبی وابستگی رپورٹنگ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ صحافی کا کام صرف یہ ہے کہ جو کچھ دیکھے اور جانے، اسے ویسے ہی پیش کرے، معاشرے کو بیدار رکھے اور حکمرانوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا رہے۔مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی اور دہشت گردی جیسے مسائل پر مسلسل لکھنا صحافی کا فرض ہے کیونکہ یہ مسائل عوام کی زندگی کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔ ایک اچھا صحافی کبھی سچ کے سامنے رک نہیں سکتا۔ اس کا قلم ہمیشہ حق کی حمایت میں چلتا رہنا چاہیے، چاہے اس کے لیے کتنا ہی بڑا نقصان اٹھانا پڑے۔میں اپنے والد کی روایات کا پاسدار بن کر آگے بڑھ رہا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آنے والی نسل بھی اسی جذبے کے ساتھ صحافت کے اس مقدس پیشے کو اپنائے گی تاکہ معاشرہ ہمیشہ حقائق سے روشناس رہے اور حکمران عوام کی آواز سننے پر مجبور ہوں۔ قلم کی حرمت برقرار رہے اور صحافت معاشرے کا حقیقی چوتھا ستون بنی رہے۔
قلم کی حرمت اور صحافی کی جدوجہد



