اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) وفاقی آئینی عدالت نے 126 صفحات پر مشتمل قواعد و ضوابط (رولز) پبلک کر دیئے جن کے تحت عدالت توہینِ عدالت کا از خود نوٹس لے سکے گی اور کسی شخص کی درخواست پر بھی توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کی جا سکے گی۔ جاری رولز کے مطابق بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواست دائر کرنے پر وکیل کے خلاف تادیبی کارروائی اور کم از کم 25 ہزار روپے اخراجات عائد کیے جا سکیں گے ۔فریق کی بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواست دائر کرنے پر بھی کم از کم 25 ہزار روپے اخراجات عائد ہوں گے ، نظرثانی درخواست کی سماعت سے قبل درخواست گزار کو 50 ہزار روپے زرِ ضمانت جمع کرانا ہوگا، درخواست خارج یا بے بنیاد قرار دیئے جانے کی صورت میں 50 ہزار زرِ ضمانت ضبط کیا جا سکے گا۔ نظرثانی کی درخواست حتی الامکان اسی بینچ کے سامنے مقرر ہوگی جس نے فیصلہ یا حکم جاری کیا تھا۔
نظرثانی حکم کے خلاف مزید نظرثانی درخواست دائر نہیں کی جا سکے گی اور ایسی درخواست رجسٹری میں قبول نہیں کی جائے گی۔ سزائے موت سے متعلق نظرثانی درخواست کے فیصلے تک سزائے موت پر عملدرآمد خودکار طور پر معطل رہے گا اور الگ حکم کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اپیل، نظرثانی اور رحم کی درخواست سمیت تمام قانونی چارہ جوئی مکمل ہونے پر خودکار معطلی کا اصول لاگو نہیں ہوگا۔ وفاقی آئینی عدالت آئین کی تشریح سے متعلق اہم سوال موجود ہونے پر کسی عدالت میں زیر سماعت مقدمے کا ریکارڈ طلب کر سکے گی۔ رِٹ آف ہیبیس کارپس سے متعلق رولز کے تحت درخواست کے ساتھ زیر حراست شخص کا حلف نامہ منسلک کرنا ہوگا۔ آئین کے آرٹیکل 175E کی شق 3 کے تحت ہیبیس کارپس درخواست سات دن کے اندر سماعت کے لیے مقرر کی جائے گی اور ایسی درخواست یا مذکورہ شق کے تحت فوجداری کارروائی پر کوئی عدالتی فیس عائد نہیں ہوگی۔
رولز میں فوجداری مقدمات میں اپیل کی اجازت کی درخواست فیصلے یا حتمی حکم کی تاریخ سے 60 دن کے اندر دائر کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے ۔ فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 کے مقدمات میں اگر اسٹیٹ بینک فریق نہ ہو تو بھی اسے نوٹس جاری کیا جائے گا۔مقررہ وکیل پیش نہ ہو سکے تو ایڈووکیٹ آن ریکارڈ عدالت کی معاونت اور کارروائی آگے بڑھانے کا پابند ہوگا۔ التوا کو استثنائی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کسی فریق کو التوا کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ حقیقی ہنگامی یا ناقابل اجتناب حالات میں التوا منظور کیا جا سکے گا۔ قانون اجازت دے تو عدم پیروی کی بنیاد پر مقدمہ خارج کیا جا سکے گا اور قصوروار فریق، وکیل یا ایڈووکیٹ آن ریکارڈ پر تلافیاتی اخراجات عائد کیے جا سکیں گے ۔ رجسٹرار قواعد کے خلاف یا توہین آمیز الفاظ پر مشتمل درخواست وصول کرنے سے انکار کر سکتا ہے ۔ آئین کے آرٹیکل 63A سے متعلق رولز کے مطابق الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کی جا سکے گی۔
ایسی اپیل الیکشن کمیشن کے فیصلے کی تاریخ سے 30 دن کے اندر دائر کرنا ہوگی اور ہر اپیل کا فیصلہ دائر ہونے کے 90 دن کے اندر کیا جائے گا۔ ہر مقدمے ، درخواست یا اپیل میں ہر فریق کو زبانی دلائل کے لیے 10 منٹ دیئے جائیں گے ، قانون کے اہم سوال پر ہر فریق کو عموماً 30 منٹ کا وقت حاصل ہوگا۔ وفاقی آئینی عدالت میں ہر مقدمہ، معاملہ یا اپیل کم از کم دو ججز پر مشتمل بینچ سنے گا۔ چیف جسٹس مقدمے کی اہمیت، پیچیدگی یا عوامی اہمیت کے پیش نظر کسی بھی مرحلے پر بڑا بینچ تشکیل دے سکتے ہیں اور ججز کی تعداد حکم کے ذریعے مقرر کریں گے ۔ پاکستان بار کونسل کا انرولمنٹ سرٹیفکیٹ پیش کیے بغیر کسی وکیل کو رول پر دستخط کی اجازت نہیں ہوگی۔ پیشہ ورانہ بدعنوانی یا بدسلوکی کی صورت میں چیف جسٹس اور ججز وکیل کا نام رول سے خارج کر سکیں گے ۔رولز کے مطابق ایڈووکیٹ کے طور پر انرولمنٹ کے لیے کم از کم سات سال ہائیکورٹ کا ایڈووکیٹ رہنا لازم ہوگا۔ سینئر ایڈووکیٹ کو دیگر وکلاء پر ترجیح حاصل ہوگی اور ان کے لیے انرولمنٹ فیس ایک لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔



