شی کے سرکاری دورے سے تزویراتی استحکام پر مبنی تعمیری چین-امریکہ تعلقات میں نئی پیش رفت ہوئی ہے، چینی وزیرخارجہ

بیجنگ (شِنہوا) چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہےکہ چینی صدر شی جن پھنگ کے امریکہ کے سرکاری دورے سے تعمیری اور تزویراتی استحکام پر مبنی چین۔امریکہ تعلقات میں نئی پیش رفت ہوئی ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن وانگ یی نے یہ بات 23 سے 25 ستمبر تک شی کے امریکہ کے سرکاری دورے کے حوالے سے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔
وانگ نے کہا کہ صدر شی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باہمی احترام پر مبنی دوستانہ ماحول میں چین۔امریکہ تعلقات اور وسیع تر عالمی صورتحال سے متعلق تزویراتی اور مجموعی نوعیت کے امور پر کھل کر اور تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
وانگ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے آغاز سے دونوں سربراہان مملکت کے درمیان قریبی روابط برقرار رہے ہیں، جن میں3 بالمشافہ ملاقاتیں اور 5 ٹیلی فونک گفتگو شامل ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی احترام اور خلوص پر مبنی روابط کا ایک طریقہ کار تشکیل دیا ہے، جو چین۔امریکہ تعلقات میں سب سے قیمتی تزویراتی اثاثہ بن چکا ہے۔
وانگ نے کہا کہ اس دورے کا ایک اہم سیاسی نتیجہ یہ ہے کہ صدر شی اور صدر ٹرمپ نے چین۔امریکہ تعلقات کی نئی نوعیت کو مزید تقویت دی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی احترام، انصاف اور باہمی مفاد کی بنیاد پر تعمیری اور تزویراتی استحکام پر مبنی چین۔امریکہ تعلقات استوار کیے جائیں۔
وانگ نے کہا کہ احترام کا مطلب ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، ہر ملک کے سماجی نظام اور ترقی کی راہ کے انتخاب کا احترام، نیز ایک دوسرے کے بنیادی مفادات اور اہم خدشات کا احترام ہے۔
انہوں نے کہا کہ انصاف کا مطلب باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو فروغ دینا اور مشاورت کے ذریعے اختلافات سے نمٹنا، ایسے زیرو-سم کھیل کو مسترد کرنا ہے جس میں ایک فریق کا فائدہ دوسرے کے نقصان کی قیمت پر حاصل ہو، اور یکطرفہ مطلق برتری حاصل کرنے کی کوشش نہ کرنا ہے۔
وانگ نے کہا کہ باہمی مفاد کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ممالک خودمختاری کے اعتبار سے برابر ہیں، کوئی ایک دوسرے سے بالاتر نہیں، کوئی فریق بالادستی یا دھونس پر مبنی طرز عمل اختیار نہیں کرتا، دونوں فریقوں کے خدشات کو مساوی بنیادوں پر دور کیا جاتا ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون متوازن انداز میں فروغ پاتا ہے۔
وانگ نے کہا کہ صدر شی نے نشاندہی کی ہے کہ چین۔امریکہ کے مستحکم اقتصادی و تجارتی تعلقات کے لیے ضروری ہے کہ تعاون کے شعبوں کی فہرست کو وسیع اور مسائل کی فہرست کو مختصر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو چینی کمپنیوں کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کرنا چاہیے، مسائل کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے اور چین۔امریکہ اقتصادی و تجارتی تعلقات کی مسلسل، مستحکم اور مثبت ترقی کو فروغ دینا چاہیے۔
وانگ نے نشاندہی کی کہ امریکہ میں فینٹانائل کے غلط استعمال کا مسئلہ چین کی وجہ سے پیدا نہیں ہوا، تاہم چین نے ہمیشہ انتہائی خیرسگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ کو فینٹانائل کے بحران سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں سربراہان مملکت نے دونوں ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تعاون مزید مضبوط بنانے اور سرحد پار جرائم کے خلاف مشترکہ طور پر کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔



  تازہ ترین   
آبنائے ہرمز اور باب المندب کا بلیک میلنگ کیلئے استعمال ناقابلِ قبول: سعودیہ وزیرِ خارجہ
ایران نے فضائی پابندیوں کا جواب فوجی کارروائی سے دینے کی خبروں کی تردید کر دی
آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا فیصلہ مذاکراتی معاہدے سے مشروط ہے، عباس عراقچی
نسل کشی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا، ترک صدر
یوکرین مذاکرات کی بحالی کا فیصلہ روسی مفادات کو سامنے رکھ کر کریں گے، صدر پوتن
بہاولپور: این اے 168 ضمنی انتخاب کیلئے 20 امیدوار میدان میں، مقابلہ آج ہو گا
اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز کے باہر کشمیری امریکی کمیونٹیز کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ
ڈی آئی خان میں پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکا، 12 افراد شہید، 35 زخمی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر