منیلا (شِنہوا) ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی بدھ کو جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق بڑھتے ہوئے تنازعات اور طاقتور ایل نینو ایشیا اور بحر الکاہل کی ترقی پذیر معیشتوں کے لئے دو بڑے خطرات ہیں۔
ستمبر 2026 کے ایشیائی ترقیاتی جائزہ (اے ڈی او) کے مطابق ایشیا اور بحر الکاہل کی ترقی پذیر معیشتوں میں شرح نمو 2025 کے 5.5 فیصد سے کم ہو کر رواں سال 5 فیصد رہے گی جس کے بعد 2027 میں یہ ہلکے سے اضافے کے ساتھ 5.1 فیصد ہو جائے گی۔ یہ تخمینہ جولائی کے پچھلے جائزے کے مقابلے میں 0.1 فیصد پوائنٹ زیادہ ہے۔
اے ڈی بی کے مطابق ایشیا بحر الکاہل کی ترقی پذیر معیشتوں کے لئے 2026 کی مہنگائی کی پیشگوئی جولائی کے 4.3 فیصد سے کم کر کے 4.2 فیصد کر دی گئی ہے کیونکہ قیمتیں مستحکم کرنے کے اقدامات نے توانائی کی مسلسل بلند قیمتوں کے اثرات کو جزوی طور پر زائل کر دیا ہے۔
تاہم 2027 کے لئے مہنگائی کی پیشگوئی جولائی کی 3.4 فیصد کے مقابلے میں معمولی اضافے سے 3.5 فیصد کر دی گئی ہے۔ دونوں برسوں کے لئے مہنگائی کے نظرثانی شدہ تخمینے 2025 میں ریکارڈ کئے گئے 3 فیصد سے اوپر ہیں۔
اے ڈی بی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں وسعت اور روس۔ یوکرین تنازع میں شدت عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں کو بلند اور اتار چڑھاؤ کا شکار رکھ سکتی ہے، اس کے اثرات دیگر اجناس تک وسیع ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ 2027 کی پہلی سہ ماہی تک ایک انتہائی طاقتور ایل نینو جاری رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ ایسے موسمی حالات کی وجہ سے خشک سالی کے نتیجے میں فصلوں اور پن بجلی کی پیداوار کم ہو سکتی ہے جبکہ توانائی کی طلب میں اضافہ، زرعی پیداوار میں کمی اور ایندھن و خوراک کی قیمتیں اوپر جا سکتی ہیں۔
اے ڈی بی کے صدر ماساتو کانڈا نے کہا کہ ایل نینو کے بڑھتے اثرات، توانائی کے طویل بحران اور مالیاتی منڈیوں میں نئے خطرات کے تناظر میں حکومتوں کو تیاری کرنے اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والے لوگوں کا تحفظ کرنے کی ضرورت ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے بڑھتے ہوئے تنازعات اور طاقتور ایل نینو کو ایشیا بحرالکاہل کی ترقی پذیر معیشتوں کے لئے خطرہ قرار دے دیا



