تحریر: عابد حسین قریشی
ریٹائرمنٹ ہر سرکاری و غیر سرکاری ملازم و افسر کے حصّہ میں ضرور آتی ہے۔ آجکل سوشل میڈیا کے غیر معمولی استعمال اور اس پر شیئر ہونے والے ہر طرح کے جملے، اقوال اور لطائف وغیرہ منٹوں میں وائرل ہو جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ریٹائرمنٹ کے حوالہ سے بے شمار لطائف اور کہانیاں گردش کر رہی ہوتی ہیں۔ کہیں تو ریٹائرڈ افسران کو چلے ہوئے کارتوس اور کہیں بجھے ہوئے سگریٹ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ ہمارے خیال میں یہ ساری باتیں جزوی طور پر ٹھیک ہو سکتی ہیں۔ مگر یہ انفرادی سطح پر مختلف نظر آتی ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے اثرات میں سب سے خوفناک اثر جس سے تقریباً سبھی سرکاری ملازمین اور خصوصاً افسران گھبراتے ہیں وہ سرکاری پروٹوکول، کروفّر، مراعات از قسم سرکاری گھر، سرکاری ٹرانسپورٹ اور ملازمین کا چھن جانا ہوتا ہے۔ اور ان سب چیزوں کے چھن جانے کے بعد ریٹائرڈ سرکاری افسر کا جو آفس کی گھنٹی بجا کر چشم زدن میں حکم جاری کرنے کا عادی ہوتا ہے وہ اس نشہ یا حالت سے باہر آنے کو کافی دیر تک ذہنی طور پر تیار نہیں ہوتا۔ پھر ریٹائرمنٹ کے فوری بعد آپکا سوشل سرکل سُکڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ جن پتوں پر کبھی بڑا تکیہ ہوتا تھا وہ ہوا دینا تو درکنار کوئے یار سے گزرنا بھی محال سمجھتے ہیں۔ شروع میں تو فون کی گھنٹی کافی دیر نہ بجنے پر بار بار فون ٹٹولنا پڑتا ہے کہ یہ ٹھیک بھی ہے یا نہیں۔اور اُن دوستوں اور چاہنے والوں سے بھی دوری ہوتی چلی جاتی ہے جن کی صحبت اور زلف گرہِ گیر کے ہم زمانہ تک اسیر رہے ہوتے ہیں۔
ریٹائرڈ سرکاری ملازم سے گھر میں کیا گزرتی ہے یہ ایک الگ، منفرد اور دلچسپ کہانی ہے۔ بعض تو اسے ایک مصیبت اور عذاب سمجھتے ہیں اور بعض رحمت الٰہی۔ فراغت میں بڑا مزا ہے۔ اگر قدرت نے آپکو اچھی صحت دے رکھی ہے اور تنگ دستی کا احتمال نہ ہو اور صالح اور تابعدار اولاد۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہو تو ریٹائرڈ آدمی عذابی کیفیت سے ہمکنار نظر آتا ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد کے مشاغل بھی آپکی ذہنی اور جسمانی ساخت، سکون اور راحت میں ممد و معاون ہوتے ہیں۔ اکثر ریٹائرڈ لوگ از سرِ نو سروس یا جاب کی تگ و دو شروع کر دیتے ہیں اور بسا اوقات اس میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ اور یوں زندگی میں نئی بہاروں اور خوشیوں کا اہتمام کر لیتے ہیں۔ جو ملازمت نہیں پاتے وہ کسی دیگر شعبہ یا بزنس وغیرہ کی طرف قسمت آزمائی کرتے ہیں۔ جو بلکل “فارغ” رہ جاتے ہیں وہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمہ وقت حملوں کی زد میں ہوتے ہیں۔ اور گھر میں اکثر ہلکی پھلکی گولہ باری کا شکار بنتے ہیں۔ سخت جان ہوں تو سہہ جاتے ہیں۔ کمزور اعصاب کے ہوں تو بستر کا سہارا لیتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اکثر لوگ مذہب کی طرف بھی رجوع کر لیتے ہیں۔ ہمارے خیال میں مذہب کی طرف رحجان بہت اچھی بات ہے بشرطیکہ ریاکاری اور ظاہر پن سے پاک ہو۔ کہ عبادت کا ماخذ خوفِ خدا اور نیکی کے ساتھ خشوع و خضوع ہے۔
ریٹائرمنٹ پر دوسروں کے رویّوں سے شاقی ہونے کی بجائے ملازمت کے دوران اپنے رویّوں کو یاد کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کسی صاحبِ اختیار نے اپنے اقتدار و اختیار کے دنوں میں لوگوں سے اچھا سلوک کیا ہوتا ہے تو اُسے ریٹائرمنٹ پر پہلے سے زیادہ پیار، محبت اور وارفتگی ملتی ہے۔ وہ جو کہتے ہیں کہ جب آپ اوپر کی طرف سفر کر رہے ہوں تو راستہ میں پھول پھینکتے جاؤ کہ واپسی پر آپکو پھول ہی ملیں گے۔ آپکو یقیناً تکلیف تو ہوتی ہو گی جب آپکو لوگ پہچان کر بھی سلام نہ کریں یا آپکو نظر انداز کریں۔ لہٰذا ان سب باتوں سے بچنے کا شافی علاج ہے کہ دورانِ ملازمت اپنے رویّے بہتر رکھیں۔ اعتدال و توازن اور حُسن سلوک کا مظاہرہ کریں۔ اور یہ صرف بوجہ مجبوری آپکے جائے ملازمت پر نہ ہو بلکہ گھر میں بھی ہو، عزیزوں، رشتہ داروں اور دوستوں میں بھی ہو۔ ورنہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ بھی آپکو اُسی طرح ڈیل کرتے ہیں جیسے آپ کرتے رہے۔
ہمارے خیال میں ریٹائرمنٹ ایک کیفیت کا نام ہے ایک ذہنی اور قلبی کیفیت کہ اگر آپ اپنے آپ کو ریٹائرڈ سمجھ کر دنیا سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں اور بلکل اپنے آپ کو ہر چیز سے لا تعلق کر لیتے ہیں تو وہ ایک بوجھ بن جاتا ہے نہ صرف آپ کے لیے بلکہ آپ کے اہلِ خانہ اور سوسائیٹی کے لیے بھی۔ لیکن اگر آپ ریٹائرمنٹ کے بعد تہیہ کر لیتے ہیں کہ ہم نے سوسائیٹی میں کچھ مثبت رول ادا کرنا ہے اور ایک عضوِ معطل بننے کی بجائے ایک فعال، کارآمد اور مفید انسان بن کر معاشرہ کی بہتری اور اصلاح کے لیے کام کرنا ہے تو میرے خیال میں اس سے بہتر موقع زندگی میں شاید پہلے نہیں ملتا۔ اگر آپ کسی بھی طریقہ سے اس معاشرہ میں اپنے علم، تجربات اور مشاہدات وغیرہ کو احسن انداز سے تقسیم کر دیتے ہیں تو اس سے بہتر ریٹائرڈ لائف کا تصوّر ممکن نہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کو اپنی کامیابیوں پر فخر ہو نہ ہو پر آپ کو اپنے ضمیر کے ہاتھوں کسی قسم کی گھٹن، پچھتاوا، ندامت اور پشیمانی نہ ہو تو پھر ریٹائرڈ لائف کی اپنی ہی ایک چاشنی ہوتی ہے۔
ہمارے خیال میں ریٹائرمنٹ کے بعد سب سے بہترین آپکا اطمینانِ قلب، قناعت، اچھی صحت، مالی آسودگی، اچھی اور تابعدار اولاد، ہمدرد و غمگسار لائف پارٹنر، اچھا اور صاف ستھرا ماحول، اچھے اور مخلص دوست، بچپن اور جوانی کے خوبصورت ہم نشین سبھی مل کر راحت و آسودگی بلکہ پُر کیف اور دلنشین بعد از ریٹائرمنٹ زندگی کا مزا دیتے ہیں۔ رہا خوفِ خدا اور عبادت تو یہ جوانی میں بھی اتنی ہی لازم ہیں جتنی بڑھاپے اور بعد از ریٹائرمنٹ اور اگر آپ ریٹائرمنٹ کے بعد اس معاشرہ کی اصلاح اور بہتری، کارِ خیر اور رفاہی اور فلاحی کاموں میں حصّہ ڈالنے کی سکت اور حوصلہ رکھتے ہیں تو اس سے بڑھکر خوش قسمتی کوئی نہیں اور ایسی ریٹائرڈ لائف ایک نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں۔



