گھر اینٹوں سے بنتے ہیں مگر ریاستیں کردار سے بنتی ہیں اور جب کسی حکومت کے ہاتھ میں قانون کی کتاب کے بجائے تکبر کا ہتھوڑا آ جائے تو پھر سب سے پہلے گھروں کی دیواریں نہیں گرتیں بلکہ ریاست کے وقار کی دیواریں منہدم ہوتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ سہیل آفریدی ڈسکہ گئے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ ایک سیاسی شخصیت کے قیام کے بعد اگر کسی شہری کا گھر واقعی انتظامی طاقت کے استعمال سے تباہ کیا گیا تو اس کارروائی کا قانونی جواز کیا تھا اور اس کا حکم کس نے دیا تھا۔ سوال یہ بھی ہے کہ سیاسی اختلاف کا بدلہ کسی گھر کی اینٹوں سے کیوں لیا گیا؟ اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر آج ایک پشتون شہری کے گھر پر طاقت کا سایہ پڑا ہے تو کل یہی سایہ کسی پنجابی، سندھی، بلوچ یا کشمیری کے گھر تک پہنچنے سے کون روکے گا؟
خبر یہ ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پنجاب میں اپنی سیاسی اسٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں موجود تھے اور اس دوران پنجاب حکومت اور پولیس کے ساتھ ان کی شدید کشیدگی سامنے آئی۔ خیبر پختونخوا حکومت نے پنجاب میں گرفتاریوں اور رکاوٹوں پر اعتراضات اٹھائے، جبکہ پنجاب حکومت نے اپنے موقف میں کہا کہ سہیل آفریدی کو سکیورٹی فراہم کی گئی اور راستوں کی بندش کا تعلق امن و امان سے تھا۔ یعنی سیاست کا میدان پہلے ہی گرم تھا، مگر اگر اس سیاسی معرکے کے بعد حسنین رفیق کے گھر کی تباہی کا واقعہ اسی سلسلے کا حصہ ثابت ہوتا ہے تو یہ سیاست نہیں بلکہ ریاستی طاقت کے استعمال پر ایک انتہائی سنگین سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
اور یہاں ایک بات بہت صاف کہنے کی ضرورت ہے کہ سیاسی مخالف آپ کا دشمن نہیں ہوتا، وہ آپ کا سیاسی مخالف ہوتا ہے۔ اس سے اختلاف کیجیے، اس کے جلسے میں جواب دیجیے، اس کے بیانیے کو شکست دیجیے، اپنی کارکردگی سے اسے خاموش کیجیے، مگر اگر جواب دلیل کے بجائے چھاپہ بن جائے اور اختلاف کا جواب گھر کی دیواروں پر ہتھوڑے کی ضرب بن جائے تو پھر سوال صرف ایک جماعت یا ایک خاندان کا نہیں رہتا بلکہ جمہوریت کے پورے تصور کا بن جاتا ہے۔ جمہوریت کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ حکومت کے پاس طاقت ہوتی ہے مگر اس طاقت کے استعمال پر قانون کی پابندی ہوتی ہے۔ حکومت کے پاس پولیس ہوتی ہے مگر پولیس حکومت کی سیاسی خواہش کی محافظ نہیں بلکہ قانون کی محافظ ہوتی ہے۔ حکومت کے پاس اختیار ہوتا ہے مگر اختیار کے ساتھ جواب دہی بھی ہوتی ہے۔ ورنہ بادشاہت اور جمہوریت میں فرق صرف تخت کا رہ جاتا ہے۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
تکبر نے ہمیشہ تخت تو رکھے ہیں مگر تاج چھین لیے
جو خود کو وقت سمجھ بیٹھے انہیں وقت نے مٹا دیا
مریم نواز پنجاب کی منتخب وزیراعلیٰ ہیں اور اس منصب کے ساتھ پنجاب کی پوری آبادی کی نمائندگی کا اخلاقی بوجھ بھی ان کے کندھوں پر ہے۔ ان کے سیاسی مخالفین بھی اسی پنجاب کے شہری ہیں اور دوسرے صوبوں سے آنے والے پاکستانی بھی اسی ملک کے شہری ہیں۔ اس لیے پنجاب کے وزیراعلیٰ کا منصب کسی سیاسی خاندان کی ملکیت نہیں بلکہ آئینی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی مخالف سیاسی جماعت پنجاب میں آتی ہے تو حکومت کا کام اس کے کارکنوں کو قانون کے دائرے میں رکھنا ہے نہ کہ انہیں ایسا احساس دلانا کہ پنجاب میں داخل ہونا ہی جرم بن گیا ہے۔
یہاں ایک پرانی یاد بھی دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔ مشرف دور میں مسلم لیگ نون کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف ریاستی دباؤ اور گرفتاریاں کوئی پوشیدہ تاریخ نہیں، مگر اسی زمانے میں ایسے سیاسی کارکن بھی تھے جنہوں نے گرفتاری کے خوف میں اپنے گھروں سے نکل کر دوستوں کے گھروں میں پناہ لی۔ ایسے لوگ بھی تھے جو چند دن کسی صحافی کے گھر میں چھپ کر اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھتے رہے۔ ایسے واقعات کی پوری تاریخ موجود ہے۔
یہاں میں ایک ایسا واقع اپنے قارئین کو لازمی طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ جب مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف جنرل مشرف کے ساتھ سعودی حکمرانوں کی ضمانت پر ایک معاہدہ کر کے سعودی عرب چلے گئے، پھر سعودی عرب سے وہ برطانیہ گئے اپنے علاج کے لیے، اور اس کے بعد انہوں نے جو معاہدہ کیا تھا، جنرل مشرف نے مشرف کے ساتھ اسے توڑ کر وہ پاکستان، برطانیہ سے ایک خصوصی پرواز کے ذریعے اسلام آباد آئے۔ جنرل مشرف کے اس دور میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ ہو رہی تھی، گھروں پر چھاپے پڑ رہے تھے۔ تو اس دوران مسلم لیگ ن کے میڈیا سیل کے ترجمان عاصم خان، جو احسان اقبال کے قریبی ساتھی تھے اور دو دفعہ ان کی وزارت میں بھی احسان اقبال کے ساتھ کام کر چکے ہیں، تو وہ میرے پاس دی نیوز اور جیو نیوز کے اسلام آباد دفتر میں روزانہ آیا کرتے تھے۔ ایک روز آئے تو بہت پریشان تھے۔ انہوں نے بتایا تھا، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور میرے گھر پر چھاپہ پڑنے کا خطرہ ہے، میں گھر جا نہیں سکتا۔ میرا چونکہ کبھی کسی سیاسی جماعت کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں رہا، البتہ انسانیت کے ناتے بحیثیت انسان دل پسیج کے رہ گیا، تو میں نے عاصم خان کو تسلی دی اور انہیں اپنے اسلام آباد میں گلشن جناح میں اپنے فلیٹ پہ لے آیا اور تین دن تک عاصم خان کی میزبانی کی۔ اس دوران مسلم لیگ ن کی پوری میڈیا مہم، میاں نواز کی لندن سے اسلام آباد آمد اور اسلام آباد سے پھر انہیں جس طرح پیک کر کے واپس لندن بھجوایا گیا، سے متعلق تمام خبریں اور میڈیا مہم میرے گھر میں بیٹھ کے چلائی اور میں نے باقاعدہ ان کی نہ صرف میزبانی کی بلکہ ان کی حفاظت بھی کی اور تین دن بعد عاصم خان پھر اپنے گھر گئے، مگر آج تک میں نے کبھی اس واقعے کو منظر عام پر نہیں لایا اور نہ کبھی کسی کو اس طرح بتانے کی ضرورت محسوس کی، مگر حسنین رفیق کے واقعے نے مجھے اندر سے جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔ کیا ہم اس حد تک گر سکتے ہیں؟ سیاسی مخالفت اپنی جگہ، پر کیا کسی کے خوابوں کا دریچہ جس طرح توڑا گیا، اس کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟ سیاسی نفرت کو اس حد تک لے جانے سے جو مثال قائم کی گئی ہے، خصوصی طور پر خود ایک ایسی جماعت کی جانب سے جس نے خود ماضی میں بے تحاشا مشکلات کا سامنا کیا، ان کے کارکنوں اور رہنماؤں نے ظلم و زیادتیاں برداشت کیں، خود میاں نواز شریف نے اپنی بیگم بیگم کلثوم نواز سمیت اپنے والدین کی وفات کے صدمے جس طرح برداشت کیے، ان کے جنازے کو کندھا نہیں دے سکے، تو اس سے بڑا دکھ اور کیا ہو سکتا ہے؟ انہوں نے یہ سارے دکھ برداشت کیے ہیں تو ان کی بیٹی، جو اس وقت پنجاب کی حکمران ہے، اور اس کی حکمرانی کی ناک کے نیچے اس طرح ظلم و زیادتی کے کام ہو رہے ہیں، یہ باعث شرمندگی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ اگر کل کسی مخالف نے کسی مسلم لیگی کارکن کو اپنے گھر میں جگہ دی تھی تو کیا اس کے گھر کو سیاسی انتقام کا میدان بنا دیا گیا تھا؟
میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے زمانے بھی دیکھے ہیں جب سیاسی کارکن گرفتاری کے خوف سے اپنے بچوں کو چھوڑ کر دوستوں کے گھروں میں پناہ لیتے تھے، مگر صحافت نے اس وقت بھی انسانیت کا دروازہ بند نہیں کیا تھا۔ سیاسی وابستگی اپنی جگہ، مگر مصیبت میں انسان کا ساتھ دینا ایک الگ معاملہ ہے۔ یہی وہ روایت تھی جس نے معاشرے کو زندہ رکھا۔ یہی وہ اخلاق تھا جس نے سیاست کو مکمل دشمنی بننے سے روکے رکھا۔ آج اگر ہم اس روایت کو بھول گئے ہیں تو پھر ہم صرف سیاسی مخالف نہیں بناتے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے نفرت کے نئے مدرسے قائم کرتے ہیں۔
آج سب سے خطرناک چیز یہ نہیں کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں میں اختلاف ہے۔ اختلاف تو جمہوریت کا حسن ہے۔ خطرناک چیز یہ ہے کہ اختلاف اگر صوبائی تعصب میں بدلنے لگے، ایک صوبے کا شہری دوسرے صوبے میں خود کو اجنبی سمجھنے لگے، پشتون پنجاب میں خوف محسوس کرے اور پنجابی خیبر پختونخوا میں عدم تحفظ محسوس کرے تو پھر نقصان کسی مریم نواز یا کسی سہیل آفریدی کا نہیں ہوگا، نقصان پاکستان کا ہوگا۔ بلوچستان پہلے ہی تشدد اور بداعتمادی کے شدید بحرانوں سے گزر رہا ہے۔ خیبر پختونخوا بھی دہشت گردی کے سنگین چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر سیاسی زبان بھی صوبائی خلیج کو مزید گہرا کرے گی تو اس کے نتائج سیاست کے جلسوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ نفرت کا بیج سیاست دان بوتے ہیں مگر اس کا پھل عام شہری کھاتا ہے، کبھی بازار میں، کبھی بس میں، کبھی دفتر میں، کبھی کسی چیک پوسٹ پر اور کبھی کسی ایسے گھر میں جہاں صرف اتنا جرم ہوتا ہے کہ وہاں کسی مخالف خیال رکھنے والے شخص نے رات گزار لی تھی۔
یہ بھی عجیب زمانہ آ گیا ہے کہ سیاست دان ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے مگر عوام سے برداشت کی توقع رکھتے ہیں۔ حکمران کہتے ہیں قانون سب کے لیے برابر ہے مگر عوام پوچھتی ہے کہ پھر قانون کا دروازہ سب کے لیے ایک جیسا کیوں نہیں کھلتا؟ اگر کسی شخص پر پولیس اہلکار کو اغوا کرنے یا کسی دوسرے جرم کا الزام ہے تو عدالت موجود ہے، تفتیش موجود ہے، گرفتاری کا قانونی طریقہ موجود ہے، مقدمہ موجود ہے، پھر گھر گرانا کس قانون کی کتاب میں لکھا ہے؟ اور اگر گھر گرانا قانون کا حصہ نہیں تو پھر یہ اختیار کس نے دیا؟ یہاں ایک بات اور بھی سمجھنے کی ضرورت ہے، اگر کسی شخص نے جرم کیا ہے تو سزا اس شخص کو ملنی چاہیے، اس کے گھر کو نہیں، اس کے بچوں کو نہیں، اس کے پڑوسیوں کو نہیں، اس کے خاندان کو نہیں۔ اور اگر کسی شخص نے سیاسی مخالفت کی ہے تو اس کا جواب سیاسی میدان میں ہونا چاہیے۔ سیاسی مخالف کو سیاسی طور پر شکست دینا جمہوریت ہے، اسے انتظامی طاقت سے دبانا جمہوریت نہیں۔
نہ تخت باقی ہے نہ تاج باقی رہے گا
جو آج حاکم ہے کل محتاج باقی رہے گا
حکومتیں ہمیشہ نہیں رہتیں، عہدے ہمیشہ نہیں رہتے، پروٹوکول ہمیشہ نہیں رہتا، سرکاری گاڑیاں ہمیشہ نہیں رہتیں، پولیس کا دستہ ہمیشہ ساتھ نہیں چلتا، مگر فیصلوں کی یاد رہ جاتی ہے۔ تاریخ کے صفحات پر نام رہ جاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر لوگوں کے دلوں میں حکومتوں کے رویے رہ جاتے ہیں۔ آج طاقت کے نشے میں جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ ریاست اس کے ہاتھ میں ہے، اسے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ریاست کسی فرد کی جاگیر نہیں ہوتی۔ آج اگر ایک جماعت اقتدار میں ہے تو کل دوسری جماعت آ سکتی ہے۔ آج جس پولیس موبائل کا دروازہ کسی مخالف کے لیے کھلتا ہے، کل وہی دروازہ کسی حکمران کے اپنے کارکن کے لیے بھی کھل سکتا ہے۔ آج جس گھر کی دیوار پر سرکاری طاقت کا سایہ پڑا ہے، کل وہ سایہ کسی اور کے گھر پر بھی پڑ سکتا ہے اور یہی جمہوریت کا سب سے بڑا سبق ہے۔ طاقت کو قانون کے تابع رکھیے کیونکہ طاقت کا نشہ اتر جاتا ہے مگر طاقت کے غلط استعمال کا داغ نہیں اترتا۔ پنجاب کی اصل عظمت اس کے رقبے یا آبادی میں نہیں، پنجاب کی اصل عظمت اس کی مہمان نوازی میں ہے، اس کی تہذیب میں ہے، اس کی زبان کی شیرینی میں ہے، اس روایت میں ہے کہ دشمن بھی گھر آئے تو پانی ضرور دیا جائے۔ اگر کوئی پشتون سیاسی کارکن یا سیاسی رہنما پنجاب میں آئے اور اسے یہ احساس ہونے لگے کہ یہاں اس کے لیے صرف پولیس کی لاٹھی اور بند دروازے ہیں تو پھر ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے پنجاب کی صدیوں پرانی روایت کے ساتھ کیا کیا؟ یہ پنجاب کے عام آدمی کا چہرہ نہیں ہے۔ عام پنجابی نے کبھی کسی پشتون کو دشمن نہیں سمجھا۔ بازاروں میں پنجابی اور پشتون ساتھ کاروبار کرتے ہیں، ہسپتالوں میں ایک دوسرے کے علاج کراتے ہیں، یونیورسٹیوں میں ایک ساتھ پڑھتے ہیں، صحافت میں ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے ہیں، فوج اور پولیس میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں، پاکستان کی معیشت میں دونوں صوبوں کے لوگ اپنا حصہ ڈالتے ہیں، پھر سیاست دانوں کی لڑائی کو عوام کی لڑائی کیوں بنایا جائے؟
مریم نواز کے لیے بھی یہ لمحہ غور کا ہے۔ اقتدار کا مطلب یہ نہیں کہ ہر اختلاف کو بغاوت سمجھ لیا جائے، ہر تنقید کو دشمنی سمجھ لیا جائے اور ہر مخالف کو کچلنے کے لیے انتظامی طاقت حرکت میں آ جائے۔ اقتدار کا اصل امتحان مخالف کو خاموش کرانا نہیں بلکہ مخالف کو بولنے کا حق دیتے ہوئے قانون نافذ کرنا ہے۔
اور اگر حسنین رفیق کے گھر کے بارے میں سامنے آنے والے الزامات درست ہیں تو اس واقعے کی غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے۔ یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کارروائی کس ادارے نے کی، کس قانون کے تحت کی، کس افسر نے حکم دیا، کس بنیاد پر کی گئی اور کیا کسی عدالت یا مجاز اتھارٹی کا حکم موجود تھا؟ کیونکہ ایک گھر صرف ایک مکان نہیں ہوتا۔ اس کے اندر بچوں کی یادیں ہوتی ہیں، بزرگوں کی دعائیں ہوتی ہیں، عورتوں کا تحفظ ہوتا ہے، خاندان کی عزت ہوتی ہے۔ اگر ریاست کسی شہری کا گھر گراتی ہے تو اسے صرف دیواریں نہیں گرانا پڑتیں بلکہ اسے یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ قانون اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ اور اگر قانون اس کے ساتھ نہیں تو پھر وہ طاقت کے استعمال کا ایسا باب کھول رہی ہوتی ہے جس کا اختتام کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ پاکستان کو اس وقت نفرت کی مزید دیواروں کی ضرورت نہیں۔ ہمیں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان پل چاہیے، بلوچستان اور پنجاب کے درمیان اعتماد چاہیے، سندھ اور باقی صوبوں کے درمیان احترام چاہیے۔ ہمیں یہ ثابت کرنا ہے کہ سیاسی اختلاف کے باوجود ہم ایک دوسرے کے شہری ہیں۔
حکومتیں آتی جاتی رہیں گی، مریم نواز رہیں گی یا نہیں رہیں گی، مسلم لیگ نون رہے گی یا نہیں رہے گی، تحریک انصاف رہے گی یا نہیں رہے گی، سہیل آفریدی آئیں گے یا کوئی اور آئے گا، مگر پاکستان رہے گا اور پاکستان تب ہی رہے گا جب حکمران یہ سمجھیں گے کہ ریاست ان کی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے۔
گھر توڑنے سے سیاست نہیں جیتی جاتی
خوف پھیلانے سے دل نہیں جیتے جاتے
اور تکبر سے اقتدار شاید کچھ وقت کے لیے بچ جائے مگر تاریخ کبھی کسی کے تکبر کی مستقل محافظ نہیں بنی۔



