ہوانا (شِنہوا) واشنگٹن کی جانب سے کیوبا کے خلاف تجارتی پابندیوں میں مزید سختی کے باعث مارچ 2025 سے فروری 2026 تک جزیرے کو 8.083 ارب امریکی ڈالر کا ریکارڈ معاشی نقصان ہوا جو گزشتہ سال کے اعداد و شمار سے 7 فیصد زیادہ ہے۔ کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگویز نے کیوبا کی زندگی کے تمام شعبوں پر پابندیوں کے تباہ کن اثرات کی مذمت کی۔
کیوبا 6 دہائیوں سے زائد عرصے سے امریکی تجارتی پابندیوں کی زد میں ہے۔ حکومت کے مطابق موجودہ قیمتوں کے حساب سے مجموعی معاشی نقصان 178.7 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جو گزشتہ مدت کے مقابلے میں 4.7 فیصد زیادہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایسے انتظامی احکامات کے ذریعے پابندیوں میں مزید سختی کی ہے جن کے تحت کیوبا کو ایندھن کی فراہمی موثر طور پر روک دی گئی ہے اور ٹینکرز یا شپنگ لائنز چلانے والی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں کیوبا شدید توانائی کے بحران کا شکار ہو گیا ہے۔
روڈریگویز نے کہا کہ’’یہ پابندی کسی حکومت کو نہیں بلکہ ہر شعبے میں عوام کی روزمرہ زندگی کے لئے سزا ہے۔ یہ اجتماعی سزا کا ایک عمل ہے جس کا اظہار کئی ماہ تک روزانہ صرف 2 یا 3 گھنٹے یا اس سے بھی کم بجلی کی فراہمی کے ساتھ زندگی گزارنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس نے خاندانی زندگی کے پورے ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے۔‘‘
روڈریگویز نے کہا کہ ایک لاکھ میٹرک ٹن خام تیل لے جانے والا ایک بحری جہاز تقریباً 2 ہفتوں تک بجلی کی بندش میں نمایاں کمی لا سکتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پابندیوں کے باعث تھرمو الیکٹرک بجلی گھروں کے لئے ضروری پرزہ جات کے ساتھ ساتھ فوٹو وولٹک پارکس کے لئے درکار سولر پینلز اور بیٹریاں بھی حاصل نہیں کی جا سکیں جنہیں 45 دن میں نصب کیا جا سکتا ہے۔
روڈریگویز نے کہا کہ توانائی کے بحران سے پانی کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ بجلی کی بندش نے پانی کے ذرائع، پمپنگ اسٹیشنز اور پائپ لائن پمپس کو متاثر کیا ہے جبکہ امریکی پابندیوں کے باعث ایندھن کی قلت سے جنریٹر چلانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
روڈریگویز نے بتایا کہ بجلی کی قلت نے ہسپتالوں اور دیگر طبی مراکز کو بھی متاثر کیا ہے، جن میں نومولود بچوں کو ضروری طبی نگہداشت فراہم کرنے والے مراکز بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات سرجنوں کو ری چارج ہونے والے لیمپوں یا موبائل فونز کی روشنی میں آپریشن کرنے پر مجبور ہونا پڑا جبکہ ایندھن کی قلت نے ایمبولینسوں کی آمدورفت اور ادویات تک رسائی میں بھی رکاوٹ پیدا کی ہے۔
روڈریگویز نے کہا کہ کیوبا کی حکومت عوام کی ضروریات پوری کرنے کو بدستور ترجیح دے گی اور قومی عوامی اسمبلی سے منظور شدہ اقتصادی اور سماجی اصلاحات کو آگے بڑھاتی رہے گی۔
امریکی پابندیوں سے کیوبا کو 8 ارب ڈالر سے زائد کا ریکارڈ معاشی نقصان



