نیامی(نیشنل ٹائمز)نائجر کے دارالحکومت نیامی میں ہفتے کی صبح باغی فوجیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان مسلح جھڑپیں ہوئیں، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم فوجی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کئی گھنٹوں کی شدید لڑائی کے بعد اہم حساس مقامات کا کنٹرول بڑی حد تک دوبارہ حاصل کرلیا۔علاقائی سکیورٹی ذرائع اور ایک افریقی سفارتی ذریعے کے مطابق لڑائی رکنے کے باوجود باغی فوجیوں کا نیامی میں دو بیرکوں پر قبضہ برقرار تھا، جن میں دارالحکومت کے ہوائی اڈے کے قریب واقع ایک بڑے فضائی اڈے کی بیرک بھی شامل ہے۔
جھڑپیں ہفتے کو نصف شب کے کچھ دیر بعد شروع ہوئیں۔ باغی فوجیوں نے صدارتی محل اور سرکاری ٹیلی ویژن سٹیشن ٹیلی ساحل تک رسائی روک دی۔ ٹیلی ویژن نشریات ایک گھنٹے سے زائد معطل رہنے کے بعد صبح تقریباً 10 بجے بحال ہوگئیں۔نائجر کی حکمران فوجی کونسل نے سرکاری ٹیلی ویژن پر جاری بیان میں کہا کہ سکیورٹی فورسز نے بتدریج دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا۔ایک سکیورٹی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ مسلح فوجیوں نے صدارتی محل میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم صدارتی محافظوں نے انہیں پیچھے دھکیل دیا۔



