لاہور(نیشنل ٹائمز)وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے پمز واقعے پر آواز اٹھاتے کہا ہے کہ پرسوں جب 14 لاشیں دیکھیں تو احساس ہوا کہ میں محفوظ نہیں ہوں، مجھے احساس ہوا کہ ملک محفوظ نہیں، یہ ایک غیر محفوظ ملک ہے، میں خود اس حکومت میں ہوں، آج تین انگلیاں میری طرف اٹھ رہی ہیں، کسی سیاستدان کے بچے پمزہسپتال نہیں جاتے، پمز واقعے میں کوتاہی کے ذمہ داروں کا احتساب ضروری ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایکسپو سنٹر لاہور میں ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے مصدق ملک نے مزید کہا کہ اس معاملے کو فکس اپ کرنا پڑے گا، جب تک یہ معاملہ حل نہیں ہوتا تو آگے بات نہیں ہوگی،عام آدمی کو معاشی اعدادو شمار سے غرض نہیں، عام آدمی کو اپنے بچے کی تعلیم اور علاج سے غرض ہے، سماجی انصاف معاشرے میں تفریق ختم کرنے کیلئے ضروری ہے ،سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں میں ہمارے بچوں کیلئے بلاتفریق سہولتیں موجود ہیں، ہماری بنیادی ذمے داری ہے کہ عام آدمی کو بہترین زندگی مہیا کریں۔
مصدق ملک نے کہا کہ آپ کو حیرت نہیں ہوئی کسی ڈاکٹر کی انگلی نہیں کٹی، کوئی نرس زخمی نہیں ہوئی، کسی فائرمین کو آگ نہیں لگی اور 14 بچے زندہ جل کر راکھ ہو گئے۔وفاقی وزیر نے سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا سروس ڈلیوری ہوئی، کہاں تھے یہ تمام لوگ، یہ تو فکس اپ ہوگا، اور یہ فکس اپ ہوگا تو باقی تمام چیزوں پر گفتگو ہوگی، اسے فکس اپ کیے بغیر اب کوئی گفتگو نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صحت و تعلیم کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ تمام بچوں کو بلا تفریق معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرے ، کسی بچے کو محض مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم اور صحت کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں ہونا چاہیے ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جب تک غریب شہری اپنے بچوں کو معیاری سکول میں تعلیم اور اپنے والدین کو قریبی کلینک یا ہسپتال میں باعزت طریقے سے علاج کی سہولت نہیں دلا سکتا ترقی اور سماجی انصاف کے دعوے بے معنی رہیں گے ،اگر فیصلہ ساز طبقہ خود سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں سے مستفید نہیں ہوتا تو صرف سماجی انصاف اور سروس ڈلیوری کی اصطلاحات استعمال کرنے سے عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔



