صحرائی پھیلاؤ کی روک تھام کے متعلق اقوام متحدہ کنونشن کے فریقین کی 17 ویں کانفرنس منگولیا کے دارالحکومت میں شروع

اولان باتور (شِنہوا) صحرائی پھیلاؤ کی روک تھام کے متعلق اقوام متحدہ کنونشن (یو این سی سی ڈی)کے فریقین کی 17 ویں کانفرنس (کوپ 17) کا پیر کے روز منگولیا کے دارالحکومت اولان باتور میں باضابطہ آغاز ہوگیا ہے۔
’’زمین کی بحالی، امید کی بحالی‘‘ کے موضوع کے تحت منعقد ہونے والی کوپ 17 میں یو این سی سی ڈی کے 197 فریقوں کے 12 ہزار نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ عالمی سطح کا یہ اہم فورم صحرائی پھیلاؤ، زمین کی تنزلی اور خشک سالی سے نمٹنے کے لئے اقدامات کو تیز کرنے کے مقصد سے منعقد کیا جا رہا ہے۔
منگولیا کے وزیراعظم نیام اوسر اوچھرل نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا اس حوالے سے اجتماعی فیصلہ سازی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے کہ کرہ ارض کے زمینی وسائل کا تحفظ اور بحالی کیسے کی جائے اور آنے والی نسلوں کے لئے کس طرح کی دنیا چھوڑی جائے۔
اوچھرل نے کہا کہ “اب بڑے پیمانے پر یہ تسلیم کیا جا چکا ہے کہ صحرائی پھیلاؤ، زمین کی تنزلی اور خشک سالی ایسے چیلنجز ہیں جو قومی سرحدوں سے بالاتر ہیں اور انسانیت کی جانب سے اجتماعی ردعمل کا تقاضا کرتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ “ہمیں اب مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صحرائی پھیلاؤ اور زمین کی تنزلی سے نمٹنے کے عزم کو مناسب مالی معاونت، ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی مدد سے عملی اقدامات میں تبدیل کیا جا سکے۔ لہٰذا کوپ17ایسی کانفرنس نہیں ہونی چاہیے جو گزشتہ اجلاسوں کے فیصلوں اور اعلانات کو محض دہراتی رہے بلکہ اسے ان فیصلوں پر عملدرآمد تیز کرنے والی کانفرنس ہونا چاہیے۔”
کوپ 17 کے اعلیٰ سطح اجلاس میں وزارتی سطح کے مذاکرات ہوں گے، جبکہ وسیع تر پروگرام میں مختلف فریقوں پر مشتمل فورمز اور سائنس اور پالیسی کے انضمام، اختراع اور حل، آلات و ٹیکنالوجیز اور مالی معاونت سے متعلق موضوعاتی مباحث شامل ہوں گے۔پروگرام میں 4 موضوعاتی دن بھی شامل ہیں، جن میں مالی معاونت، پانی، زمین اور عوام اور غذائی نظام و مٹی کی صحت پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
یہ کانفرنس اقوام متحدہ کی جانب سے 2026 کو چراگاہوں اور چرواہوں کا بین الاقوامی سال (آئی وائی آر پی 2026) قرار دیئے جانے کے موقع پر بھی منعقد ہو رہی ہے، جس کی منگولیا نے بھرپورحمایت کی ہے۔یہ سال قدرتی چراگاہوں کے پائیدار انتظام، بحالی اور تحفظ کو فروغ دینے اور ان چرواہا برادریوں کی ضروریات کو اجاگر کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے، جن کا ذریعہ معاش براہ راست ان ماحولیاتی نظاموں پر منحصر ہے۔



  تازہ ترین   
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کا سٹاف لیول معاہدہ طے
ایران مذاکرات کے ساتھ مزاحمت اور استقامت کا سلسلہ بھی جاری رکھے گا، مسعود پزشکیان
سعودی عرب کے 2 ہوائی اڈوں پر حوثیوں کے حملے، 3 افراد جاں بحق، 36 زخمی
بھارتی فوج اور گودی میڈیا کا پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈا بھارت میں بھی ناکام
ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں پاکستانی فوجی دستوں کی موجودگی کی تصدیق
مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ نہیں منوایا جا سکتا: رانا ثناء
وزیراعظم شہباز شریف کی ایم ایل ون منصوبہ تیزی سے آگے بڑھانے کی ہدایت
فیلڈ مارشل سے انتونیو گوتریس کی ملاقات: سکیورٹی، کشمیر اور سندھ طاس معاہدے پر تبادلہ خیال





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر