کوئٹہ (نیشنل ٹائمز) صوبائی وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اﷲلانگو کے قافلے پر مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ(کنڈ عمرانی)کے مقام پر نا معلوم مسلح افراد نے حملہ کیا شدید فائرنگ کے تبادلے میں ان کے سکواڈ کے چھ اہلکار زخمی ہوگئے ، تاہم وزیر داخلہ حملے میں محفوظ رہے ،صوبہ بھرمیں موبائل فون، انٹرنیٹ معطل، ٹرین سروس 2روز کیلئے بند، ذرائع کے مطابق میر ضیاء اﷲ لانگو قلات میں یوم آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد کوئٹہ واپس آرہے تھے کہ مستونگ کے علاقے کنڈ عمرانی کے قریب ان کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا حملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو فوری طور پر مستونگ کے شہید نواب غوث بخش میموریل ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد بعض زخمیوں کو مزید علاج کے لیے کوئٹہ روانہ کردیا گیا شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے جبکہ اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا ۔
حملے کے بعد میر ضیاء اللہ لانگو نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ‘حملہ آور باغ کے اندر موجود تھے اور دونوں جانب سے ہماری گاڑیوں کو نشانہ بنا رہے تھے ۔وزیر داخلہ کے مطابق ان کے سکواڈ نے فوری جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں تقریباً 20 منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی گاڑی کی اگلی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے اور حملے کے دوران ان کی بلٹ پروف گاڑی کے ڈرائیور سائیڈ کے شیشے پر پانچ گولیاں لگیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے ان پٹاخوں سے نہیں ڈرایا جاسکتا،پاکستان زندہ باد تھا ، زندہ باد ہے ، زندہ باد رہے گاحکومت، پولیس اور سکیورٹی ادارے امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے ۔ دریں اثناء وزیرداخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے اپنے ایک بیا ن میں کہا کہ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو کے قافلے پر مستونگ کے علاقے فتنہ الہندوستان نے بزدلانہ حملہ کیا،پولیس کے بہادر جوانوں نے دہشتگردوں کے حملے کو بہادری سے پسپا کیا ۔دریں اثنا ریلوے حکام نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کی روانگی منسوخ کردی۔
ریلوے حکام کے مطابق کوئٹہ سے پشاور کے لیے جعفر ایکسپریس (آج) 15 اگست کو بھی روانہ نہیں ہوگی۔حکام کے مطابق پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس جیکب آباد تک چلائی جائے گی۔ریلوے حکام کے مطابق جعفر ایکسپریس کی روانگی ریلوے ٹریک کی مرمت کے سلسلے میں منسوخ کی گئی ہے ۔کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس جمعہ کو دوسرے روز بھی معطل رہی۔کوئٹہ شہر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں انٹرنیٹ سروس جمعرات کی دوپہر معطل کی گئی تھی جو کہ جمعہ کودوسرے روز بھی معطل رہی ۔موبائل فون انٹرنیٹ سروس بند ہونے سے صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے ۔بی بی سی کے مطابق اگرچہ سرکاری سطح پر انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ نہیں بتائی گئی تاہم گذشتہ اتوار کو جب کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی تو وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے اس کی وجہ سکیورٹی خدشات بتائی تھی۔



