لاہو(نیشنل ٹائمز)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ میرا برانڈ پاکستان محض ایک نمائش نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے ، پاکستانی مصنوعات کسی بھی لحاظ سے دنیا کی مصنوعات سے پیچھے نہیں، ضرورت صرف پالیسیوں کو درست کرنے ، صنعتوں کو سہولیات فراہم کرنے ، پیداواری لاگت کم کرنے اور برآمدات بڑھانے کی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور ایکسپو سینٹر میں میرا برانڈ پاکستان کی نمائش کا افتتاح کرنے کے بعدمیڈیا سے گفتگو اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مشتاق احمد مانگٹ صدر پاک انٹرنیشنل بزنس فورم، فہیم الرحمن سہگل صدر لاہور چیمبر، سینئر نائب صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز خالد عثمان، سہیل عزیز،عاصم سنجرانی،شیخ تنویر احمد اور پاک بزنس فورم کے سیکرٹری اعجاز تنویر نے بھی اظہار خیال کیا۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ میرا برانڈ پاکستان کی نسبت اب پاکستان کے یومِ آزادی سے بن چکی ، گزشتہ سال ایک ہال میں اس نمائش کا انعقاد کیا تھا جبکہ اس مرتبہ ایکسپو سینٹر میں ہر طرف میرا برانڈ پاکستان کے سٹالز سجے ہیں ،پاکستانی مصنوعات معیار کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں تاہم صنعتوں کو حکومتی سطح پر سہولیات فراہم کرنا ہوں گی، حکومتی نظام اور پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا مسائل ختم کرنے کی ضرورت ہے ، حکومت کو بجلی اور پٹرول کی قیمتوں سمیت صنعتوں کے بنیادی مسائل پر توجہ دینا ہوگی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ میرا برانڈ پاکستان مکمل طور پر پاکستان کا برانڈ ہے اور اس کا مقصد پاکستانی مصنوعات کو ملک کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں متعارف کرانا اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے ،میرا برانڈ پاکستان کی نمائش نومبر میں اسلام آباد میں بھی منعقد کی جائے گی جبکہ اسے ترکی، بنگلہ دیش اور دیگر مسلم ممالک تک لے جانے کا منصوبہ ہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے نوجوانوں کو پاکستان کی اصل طاقت قرار دیتے کہا کہ نوجوانوں کو مایوس کرنے کے بجائے انہیں تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے ، نوجوانوں کو چھوٹے کاروبار کی طرف متوجہ ہونے اور مثبت سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ضرورت ہے ،جماعت اسلامی پہلے ہی بنو قابل کے نام سے منصوبے پر کام کررہی ہے اور اس میں 17 لاکھ نوجوان رجسٹرڈ ہوچکے ،اب نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھانے پر بھی توجہ دی جارہی ہے ،جنریشن زی میں کروڑوں کی تعداد میں موجود نوجوان نسل پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے ، ان کے مسائل کے لیے موثر آواز اٹھانا ہوگی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اگر بجلی اور پٹرول انتہائی مہنگا ہوجائے گا تو پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں کس طرح آگے بڑھ سکیں گی ،حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ ایسے معاہدے کیے جن کا بوجھ عوام اور صنعتوں پر پڑ رہا ہے ،حکومت نے ایک سال میں 1900 ارب روپے صرف لیوی کی مد میں وصول کیے ،حکومت پٹرولیم لیوی کایہ اضافی بوجھ ختم کرے ۔



