کراچی (نیشنل ٹائمز)آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ میر رضا قتل کیس کی تحقیقات نئے زاویوں سے جاری ہیں، ابتدائی تفتیش میں کوتاہی ہوئی، تاہم پولیس پر کسی قسم کا دباؤ نہیں، تمام حقائق سامنے لائے جائیں گے ۔
کراچی میں بلڈرز اور تعمیراتی شعبے کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے گی جبکہ جرائم میں ملوث کسی بھی پولیس افسر کو بخشا نہیں جائے گا۔آباد کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ میر رضا قتل کیس کو حل کیے بغیر سکون سے نہیں بیٹھیں گے ، تمام شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ملوث افراد کا سراغ لگا کر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور میڈیکو لیگل نظام میں اصلاحات اور تربیت کی ضرورت ہے ۔جاوید عالم اوڈھو نے بتایا کہ صمد کاٹھیاواڑی سمیت دیگر بڑے گینگسٹرز کے خلاف کارروائی جاری ہے ، 42 بڑے گینگسٹرز کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے جبکہ بعض مطلوب ملزمان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ بھی جاری کرائے گئے ہیں۔
کراچی میں بھتہ خوری کی نئی شکایات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نئی بھتے کی کالز موصول ہو رہی ہیں، ممکن ہے ان کے پیچھے کوئی نیا گروہ سرگرم ہو۔انہوں نے ملیر، سرجانی اور سپر ہائی وے پر لینڈ مافیا کی سرگرمیوں کے خلاف متعلقہ ڈی آئی جیز کو انکوائری کا حکم دینے کا اعلان کیا۔چیئرمین آباد حسن بخشی نے کہا کہ مقتول علی رضا کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرجانی، ایم نائن اور ملیر میں لینڈ مافیا دوبارہ سرگرم ہے ، جس کے باعث اربوں روپے کے تعمیراتی منصوبے رک گئے ہیں۔ انہوں نے بیرون ملک فرار جرائم پیشہ عناصر کو واپس لانے کا مطالبہ کیا۔دریں اثنا آئی جی سندھ نے سندھ بار کونسل اور سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ میر رضا کیس میں میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات جاری ہیں، پولیس سے ہونے والی کوتاہیوں کا تدارک کیا جا رہا ہے ۔ پولیس اور وکلا مسائل مذاکرات اور ادارہ جاتی طریقہ کار سے حل کریں۔



