راولپنڈی ،اسلام آباد،لاہور،مظفرآباد (نیشنل ٹائمز)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دھاندلی کے الزامات میں تضا د ہے ، پہلے 13 پھر 2 نشستوں کا دعویٰ کیا۔وفاقی وزیر امیر مقام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ کا عمل مکمل ہو چکا ہے ۔ آزاد کشمیر کے عوام نے بھرپور انداز میں ووٹنگ میں حصہ لیا اور مجموعی طور پر انتخابی عمل پرامن ماحول میں مکمل ہوا۔ ایک سیاسی جماعت نے پولنگ کے آغاز سے ہی دھاندلی کے الزامات لگانا شروع کر د یئے تھے ، ابتدا میں 13 نشستوں پر دھاندلی کا دعویٰ کیا گیا تاہم بعد میں پیپلزپارٹی نے یہ تعداد کم کرکے صرف دو نشستوں تک محدود کر دی ،انتخابی عمل کے دوران صرف تین واقعات پیش آئے ، آٹھ نشستوں پر پولنگ مکمل طور پر پرامن انداز میں ہوئی۔مشیر وزیراعظم نے لطیف اکبر سے متعلق پیش آنے والے واقعہ پر کہا کہ یہ مخالف برادری کے افراد کے ساتھ تلخ کلامی کا معاملہ تھا ،پیپلزپارٹی کی جانب سے اسے قاتلانہ حملہ قرار دینا درست نہیں۔ مقامی افراد کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کو دل کا دورہ پڑا تھا اور وہ پیپلزپارٹی کا کارکن بھی نہیں تھا۔
انہوں نے بلاول بھٹو سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ ایک اہم سیاسی رہنما ہیں، تاہم پیپلزپارٹی کے بعض افراد انہیں غلط حقائق سے آگاہ کر رہے ہیں، اس لیے حقائق کو سامنے رکھ کر موقف اختیار کیا جانا چاہیے ۔ادھر وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے آزاد کشمیر انتخابات کے پرامن انعقاد کی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے کہا کہ لوگ مریم نواز کی کارکردگی سے متاثر ہو کر “شیر” کو ووٹ ڈال رہے ہیں۔ “رونا دھونا پارٹی” کا وجود کہیں نظر نہیں آ رہا، کشمیر میں پھر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بڑے مارجن سے کامیاب ہوں گے ، الحمدللہ، لیگی امیدواروں کی کامیاب انتخابی مہم ہی ان کی جیت ہے ، دھاندلی کا رونا رونے والے پھر چیختے چلاتے رہیں گے اور عوام مسلم لیگ (ن) کو کامیاب کرواتے رہیں گے ۔دریں اثنا سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم آزادکشمیر میں جیت رہے ہیں تو کہا جا رہا ہے دھاندلی ہو گئی۔ گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی کی کامیابی پر وزیراعظم نے انہیں مبارکباد دی تھی لیکن آج آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی پر بلاجواز دھاندلی کا شور مچایا جا رہا ہے ۔ انتخابات میں ہزاروں ووٹ کاسٹ ہوتے ہیں، ایسے میں ایک یا دو ووٹوں پر غلط مہر کا حوالہ دے کر پورے انتخابی عمل کو متنازعہ قرار دینا درست نہیں۔
پیپلزپارٹی نے پولنگ شروع ہونے کے فوراً بعد ہی دھاندلی کے الزامات لگانا شروع کر د یئے جبکہ ساڑھے دس بجے ہی شکست کا اعلان کرتے ہوئے پریس کانفرنس بھی کر دی، کشمیری عوام نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ پیپلزپارٹی اگر عوامی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے تو سندھ میں اپنی کارکردگی بہتر بنائے ، دوسری طرف مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے الیکشن سیل نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے جس میں پیپلز پارٹی کے ایل اے 31 اور 40 میں دھاندلی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے ۔ ایل اے 31 میں پیپلز پارٹی کی شکایت پر مسلم لیگ ن نے الیکشن کمیشن کو جوابی خط بھیجا اور کہا کہ راجہ ثاقب مجید اور کارکنان نے ضابطۂ اخلاق کے مطابق انتخابی عمل میں حصہ لیا، ایل اے 31 میں پولنگ مجموعی طور پر پرامن، شفاف اور منظم رہی، ہر شکایت کا فیصلہ صرف شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق کیا جائے ، ثبوت کے بغیر کسی امیدوار یا کارکن کے خلاف کارروائی نہ کی جائے ۔اسی طرح ن لیگ کے الیکشن سیل نے ایل اے 40 ویلی ون بھی پی پی کی شکایات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو جواب داخل کیا کہ محمد نعیم خان، پولنگ ایجنٹس اور کارکنوں نے ضابطۂ اخلاق کے مطابق انتخابی عمل میں حصہ لیا، انتظامی امور سے متعلق الزامات بے بنیاد اور غیر مصدقہ ہیں، بغیر شواہد انتخابی عمل کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر الیکشن کمیشن پر مکمل اعتماد کرتی ہے ۔



