اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ فوت شدہ ریٹائرڈ ملازم کی پنشن اور پنشنری مراعات کی قانونی حق دار اس کی بیوہ یا متعلقہ قانون کے تحت نامزد شخص ہی ہو سکتا ہے جبکہ صرف قانونی وارث ہونے کی بنیاد پر بہن بھائی پنشن کے مستحق نہیں بنتے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے تحریر کردہ فیصلے میں عدالت نے پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے مرحوم ملازم کے بہن بھائیوں کو وراثت نامہ جاری کرنے کی اپیل مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پنشن کی ادائیگی متعلقہ قوانین، سروس رولز اور ادارے کے ضوابط کے مطابق ہی کی جا سکتی ہے اور اس پر وراثت کے عمومی اصولوں کا اطلاق نہیں ہوتا۔ فوت شدہ ملازم کے بہن بھائیوں کی وراثت نامہ جاری کرنے کی درخواست قانونی طور پر قابل قبول نہیں، اپیل خارج کی جاتی ہے ۔ سپریم کورٹ نے سینئر قانون دان اعتزاز احسن کی اہلیہ بشریٰ اعتزاز کو اسلام آباد میں واقع رہائشی گھر پر ٹیکس استثنیٰ دینے کے مقدمے میں ان لینڈ ریونیو کی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر کر دی ہیں، جسٹس نعیم افغان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ 7 اگست کو سماعت کرے گا۔
بشریٰ اعتزاز کی رہائشی گھر پر ٹیکس استثنیٰ کی درخواست ان لینڈ ریونیو حکام نے درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ اسی جائیداد پر ان کے شوہر اعتزاز احسن ٹیکس استثنیٰ حاصل کر چکے ہیں دوبارہ استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا۔ بشریٰ اعتزاز نے فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جس نے ان لینڈ ریونیو کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کے حق میں فیصلہ دیا۔ ان لینڈ ریونیو نے لاہور ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی ہیں۔



