نیویارک (شِنہوا) چین کے دازو سنگی نقوش جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہیں، پر مبنی ایک نمائش جمعہ کے روز نیویارک میں شروع ہوگئی جس کے ساتھ ہی اس کے امریکہ بھر کے دورے کا بھی آغاز ہوگیا۔
اعلیٰ معیار کی نقول، ڈیجیٹل تصاویر اور ہمہ جہت نمائشوں پر مشتمل اس نمائش کے ذریعے امریکی عوام کو چین کا سفر کئے بغیر دازو سنگی نقوش کے فنی اور ثقافتی ورثے کو قریب سے دیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔
دازو سنگی نقوش کے متعلق تحقیقاتی ادارے کے نائب ڈائریکٹر شیونگ زی ہوا نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ انہیں اامید ہے کہ نیویارک سے شروع ہونے والی یہ نمائش تہذیبوں کے درمیان باہم سیکھنے کے عمل کو فروغ دے گی اور مختلف ثقافتوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور باہمی تفہیم پیدا کرے گی۔
نمائش کی نگران اور میمور عجائب گھر کی ڈائریکٹر ویلا آؤ نے کہا کہ اگرچہ دازو سنگی نقوش خود سفر نہیں کر سکتے لیکن ان سے وابستہ کہانیاں ضرور دنیا بھر تک پہنچ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے اس عالمی ثقافتی ورثے کو ایک بھی پتھر اپنی جگہ سے ہٹائے بغیر دنیا کا سفر کرنے کے قابل بنا دیا ہے۔
چین کی جنوب مغربی چھونگ چھنگ بلدیہ میں واقع دازو سنگی نقوش کی تاریخ تانگ خاندان (618 تا 907) کے ابتدائی دور سے شروع ہوتی ہے جبکہ ان کی تعمیر و ترقی سونگ خاندان (960 تا 1279) کے دور میں اپنے عروج پر پہنچی۔
یہ مقام 1999 میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ اپنے وسیع و عریض چٹانی مجسموں اور بدھ مت، تاؤ مت اور کنفیوشس روایات کے حسین امتزاج کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔
یہ نمائش 30 اگست تک نیویارک میں جاری رہے گی، جس کے بعد اسے امریکہ کے مغربی حصے میں بھی پیش کیا جائے گا۔
نیویارک میں چین کے دازو سنگی نقوش کی نمائش کا آغاز



