چھنگ دو میں اپیک اجلاسوں میں مصنوعی ذہانت کی ترقی اور تعاون کو فروغ دینے پر زور

چھنگ دو (شِنہوا) اس سے پہلے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا کوئی چیٹ بوٹ بنکاک میں کسی طالب علم کو جواب دے، اس کے پیچھے کارفرما ٹیکنالوجی ایشیا کے مختلف ممالک کی سرحدیں عبور کر چکی ہوتی ہے۔
یہ چیٹ بوٹ ‘اے آئی کلاس آسیان’ پر دستیاب ہے جو گوگل ڈاٹ او آر جی کے تعاون سے جکارتہ میں قائم آسیان فاؤنڈیشن کا چلایا جانے والا ایک ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارم ہے۔ یہ ‘ساؤتھ ایسٹ ایشین لینگویجز ان ون نیٹ ورک’ (سی-لائن) سے لیس ہے جو سنگاپور کے مصنوعی ذہانت کے ادارے کا تیار کردہ اوپن سورس کثیر لسانی ماڈلز کا ایک ایسا سلسلہ ہے جو خطے کی زبانوں، ثقافتوں اور سیاق و سباق کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے بنایا گیا ہے۔
یہ پلیٹ فارم اور اس سے وابستہ وسیع تر سی-لائن فیملی، جس میں علی بابا کے اوپن سورس چھوین ماڈل پر مبنی ایک اہم ماڈل بھی شامل ہے، اس بات کی ایک دلچسپ جھلک پیش کرتے ہیں کہ اوپن سورس ترقی، علاقائی مطابقت اور سرحد پار استعمال کے ذریعے ایشیا بحرالکاہل خطے میں مصنوعی ذہانت کس طرح تشکیل پا سکتی ہے۔
سرحد پار تعاون کا یہ انداز چین کے جنوب مغربی شہر چھنگ دو میں مزید نمایاں ہو کر سامنے آیا جہاں ایشیا بحرالکااہل اقتصادی تعاون (اپیک) معیشتوں کے 500 سے زائد نمائندے 16 تا 29 جولائی کی ڈیجیٹل ویک تقریبات کے سلسلے میں جمع ہوئے۔ ان تقریبات میں 23 جولائی کا اپیک ڈیجیٹل اینڈ اے آئی وزارتی اجلاس بھی شامل تھا جس کا موضوع “ایشیا بحرالکاہل برادری کو بااختیار بنانے کے لئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور اے آئی” تھا۔
اپیک کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2025 میں اپیک کی 21 رکن معیشتوں میں 3 ارب افراد آباد تھے اور انہوں نے عالمی حقیقی جی ڈی پی کا 61.6 فیصد حصہ حاصل کیا۔ ان معیشتوں کی صلاحیتیں مصنوعی ذہانت کی ویلیو چین کے کئی شعبوں پر محیط ہیں، جن میں ماڈل کی تیاری، سیمی کنڈکٹرز کی پیداوار اور مینوفیکچرنگ شامل ہیں۔
اپیک رہنماؤں نے کہا ہے کہ یہ تنوع خطے کو “مصنوعی ذہانت کی سٹریٹجک صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لئے منفرد طور پر موزوں” بناتا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ ان صلاحیتوں کو کس طرح آپس میں مربوط کیا جائے تاکہ جدت طرازی کو وسیع تر ترقی میں تبدیل کیا جا سکے۔
اجلاس میں وزراء نے 2026 کا ‘اپیک ڈیجیٹل اینڈ اے آئی وزارتی اعلامیہ’ منظور کیا جسے “چھنگ دو اعلامیہ” کا نام دیا گیا ہے۔ یہ اعلامیہ رکن معیشتوں کی مصنوعات کی تیاری، زراعت اور خدمات کے شعبوں میں ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کی تبدیلی کو فروغ دینے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور بنیادی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں (ایم ایس ایم ایز) کو مناسب قیمت اور آسانی سے نافذ ہونے والی ڈیجیٹل مصنوعات اور حل فراہم کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
چین کے وزیر صنعت و اطلاعاتی ٹیکنالوجی لی لے چھنگ کے مطابق اس خطے میں چین کے پاس مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کو فروغ دینے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔ 2025 کے اختتام تک ملک میں مصنوعی ذہانت سے منسلک 6 ہزار 200 سے زائد کمپنیاں قائم ہو چکی تھیں اور کم از کم 2 کروڑ یوآن (29 لاکھ 40 ہزار امریکی ڈالر) کی سالانہ بنیادی آمدن رکھنے والے 30 فیصد سے زائد صنعتی اداروں نے مصنوعی ذہانت کا استعمال شروع کر دیا تھا۔
فورم نے ایشیا بحر الکاہل خطے میں مصنوعی ذہانت کی ترقی کو فروغ دینے سے متعلق اعلامیہ جاری کیا جس میں محفوظ مصنوعی ذہانت کی ترقی اور اس کے نفاذ، ذمہ دارانہ استعمال، جدت طرازی کے لئے سازگار ماحول اور وسیع بنیادوں پر تعاون کے خاکے پیش کئے گئے۔ مصنوعی ذہانت کی ارتقائی نوعیت کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کی جدت، اس کے استعمال اور رسائی پر مبنی اپیک کی پالیسی بات چیت جاری رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔



  تازہ ترین   
مکہ معاہدہ خطے میں استحکام کی ضمانت، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج
سعودی عرب کی سلامتی کیلئے پُرعزم، حوثی ملیشیا حملے فوری بند کر دے: وزیراعظم
بہتر عوامی خدمات کیلئے ٹیکس وصولی، مالی وسائل کی فراہمی اور جوابدہی بدستور اہم چیلنجز
ٹرمپ پھر محروم، امن کا نوبیل انعام جنوبی افریقا کی خاتون وکیل کے نام
ریاض ایئرپورٹ پر حوثی میزائل حملہ، سعودی طیارے میں آگ بھڑک اٹھی
فیلڈ مارشل سے بحرینی وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال
امریکی صدر کا وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان
یوکرین میں مسافر بسوں پر روسی گلائیڈ بم حملے، 30 افراد ہلاک





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر