واشنگٹن(نیشنل ٹائمز)امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے ایران کے خلاف جنگ میں مزید شدت لانے پر خدشات کا اظہار کیا ہے ۔ امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ ایران پر بڑے حملے کے امکان پر غور کر رہے تھے ، تاہم فوجی قیادت نے اس کے ممکنہ نتائج سے آگاہ کیا۔ جنرل کین نے خبردار کیا کہ اگرچہ امریکی فوج کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہے ، لیکن اس سے اسلحے کے ذخائر میں مزید کمی، خطے میں کشیدگی اور دیگر سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایران کے اندر ممکنہ شہری ہلاکتوں، مہاجرین کے بحران، خلیجی ممالک کے توانائی کے انفراسٹرکچر پر ایرانی جوابی حملوں اور پورے خطے میں جنگ کے پھیلنے جیسے خدشات بھی زیر بحث آئے ۔ مشیروں نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ کسی بھی بڑے فوجی اقدام کے فوری نتائج کے ساتھ ساتھ اس کے طویل مدتی اثرات پر بھی غور کیا جائے ۔
امریکا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنا ممکن ہے ، لیکن اس سے امریکی فوج کے پاس موجود میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو جائیں گے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں اجلاس کے دوران نائب صدر جے ڈی وینس اور جوائنٹس چیفس آف اسٹاف ڈین کین نے ایران جنگ میں شدت لانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر کیے بغیر کہا کہ ایران پر حملوں کا نتیجہ توقعات کے برعکس نکلا ہے ، امریکی حملے ایران کو اندر سے متحد ہونے اور ایرانی رہنماؤں کو بیرونی خطرات پر توجہ مرکوز رکھنے کا موقع دے رہے ہیں۔



