نیو یارک(نیشنل ٹائمز)نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری کی کوشش کرنیوالے عالمی عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان برطرف کر دئیے گئے ۔ عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے پراسیکیوٹرکریم خان کو جمعہ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں ہونے والی رائے شماری میں رکن ممالک نے جنسی بدسلوکی کے الزامات پر برطرف کیا۔ خفیہ اجلاس اور رائے شماری میں عدالت کے 125 میں سے 82 رکن ممالک نے کریم خان کو ہٹانے کے حق میں ووٹ دیا۔کریم خان پر عدالت کی ایک جونیئر خاتون سٹاف ممبر کی جانب سے جنسی بدسلوکی اور طاقت کے غلط استعمال کے سنگین الزامات تھے ، جن کی تحقیقات کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا۔ فرانس، نیدرلینڈز اور ناروے نے عوامی سطح پر کہا ہے کہ انہوں نے ان کی برطرفی کی حمایت کی ہے ، کریم خان اور ان کی قانونی ٹیم نے ان الزامات اور برطرفی کے عمل کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ اور سیاسی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے ۔کریم خان مئی 2024 میں اس وقت معروف ترین عالمی پراسیکیوٹرزمیں سے ایک بن گئے تھے ، جب انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کے اعلان نے آئی سی سی کو امریکا کے ساتھ محاذ آرائی میں لا کھڑا کیا۔ کریم خان پہلی بار بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز اس وقت بنے جب انہوں نے لائبیریا کے سابق صدر چارلس ٹیلر کے جنگی جرائم کے مقدمے کے دوران وکیل صفائی کی حیثیت سے کام کیا۔ایڈنبرا میں ایک پاکستانی ماہرِ امراضِ جلد اور ایک برطانوی نرس کے ہاں پیدا ہونے والے 56 سالہ کریم خان نے لندن میں قانون کی تعلیم حاصل کی۔احمدیہ برادری سے تعلق رکھنے والے کریم خان نے آئی سی سی پراسیکیوٹرکے طور پر اپنے دور میں جنسی جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کرنے اور بچوں کے حقوق کے دفاع کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا تھا۔مئی 2024 میں کریم خان نے اعلان کیا کہ وہ نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر وارنٹ کا اعلان کرنے والی ایک ویڈیو میں کریم خان نے کہا کہ کوئی بھی سزا سے بچ کر من مانی نہیں کر سکتا۔ ان وارنٹس کی، جن کی آئی سی سی کے ججوں نے اسی سال کے آخر میں تصدیق کی تھی، نہ صرف اسرائیل اور امریکا بلکہ اٹلی اور ہنگری جیسے آئی سی سی کے کچھ رکن ممالک کی جانب سے بھی مخالفت کی گئی۔
اس کے بعد سے امریکا نے کریم خان سمیت عدالت کے 11 اہلکاروں اور غزہ کیس پر عدالت کے ساتھ کام کرنے والی کئی غیر سرکاری تنظیموں پر پابندیاں عائد کر دیں۔وارنٹ گرفتاری حاصل کرنے کے فیصلے پر عدالت اور کریم خان پر دباؤ کے ماحول میں، اکتوبر 2024 میں یہ خبر سامنے آئی کہ کریم خان کے دفتر کی ایک جونیئر وکیل نے ان پر جنسی بدسلوکی کا الزام لگایا۔کریم خان نے ان الزامات کی تردید کی لیکن وہ مئی 2025 میں چھٹی پر چلے گئے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کی کڑی نظر نے ان کیلئے اپنے کام پر توجہ مرکوز کرنا مشکل بنا دیا ہے ۔رائٹرز کے مطابق 8 جون کو آئی سی سی کی گورننگ باڈی کے ایگزیکٹو بیورو نے ، جو رکن ممالک کے سفارتکاروں پر مشتمل ہے ، ایک فیصلہ جاری کیا جس میں پتہ چلا کہ کریم خان ایک جونیئر وکیل کے ساتھ نامناسب جنسی تعلق میں ملوث تھے اور انہیں برطرف کیا جانا چاہیے۔



