کوٹلی(نیشنل ٹائمز)چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انسانی جانیں 12سیٹوں سے زیادہ اہم ہیں ،ایکشن کمیٹی کے خط کے جواب میں مسئلے کا حل بتایا تھا،تجویز دی کہ ٹروتھ کمیشن بنایا جائے اور تحقیقات ہوں ،کمیشن کی رپورٹ آنے تک احتجاج ختم اور کارروائی روکنے کی تجویز دی،کشمیر کے حالات بہتر کرنے کیلئے یہ واحد راستہ ہے ، کوٹلی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورے کشمیر کو بند کئے رکھنا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے ،یہ عام کشمیری کو سزا دینے کے مترادف ہے ،انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ انٹرنیٹ پر پابندی ختم کرے ،ہم مل کر آزاد کشمیر کے تمام مسائل پرامن طریقے سے حل کریں گے ،اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ آپ کس کی حکومت دیکھنا چاہتے ہیں ،کشمیر کے پہاڑوں میں شیر کا وہ شکار ہوگا کہ تاریخ یاد رکھے گی، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کشمیریوں سے متعلق وزیر دفاع کے بیان پر آج تک جواب نہیں دیا۔
جب تک خواجہ آصف کابینہ میں ہیں ہم سمجھیں گے یہ حکومت کی پالیسی ہے ،انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیرمیں کچھ لوگ ہرشخص کو غدار اور قاتل قرار دیتے ہیں، لگتا ہے وہ پورے کشمیر کو دہشت گرد قرار دینا چاہتے ہیں، ایف آرآئی سے جیالوں کو نہیں ڈرایا جا سکتا، ہم سب قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سپاہی ہیں،پارٹی کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے والوں کو نہیں بھولیں گے ،انتخابات کے بعد خود ان معاملات کو دیکھوں گا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ آزادکشمیر میں پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے ،آزاد کشمیر کے الیکشن میں پیپلز پارٹی مقبول جماعت ہے ،ٹکٹ کے اتنے خواہشمند تھے کہ ہم پریشان ہوگئے ،پارٹی کو ہدایت کی کہ صرف وفادار ساتھیوں کو ٹکٹ دینا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مطلوب انقلابی کے بیٹے کو اسمبلی میں عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے دیکھیں، کیونکہ یہ خاندان ہمیشہ عوام اور پارٹی کے ساتھ کھڑا رہا ہے ،بینظیر بھٹو کی جلاوطنی کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے انہو ں نے کہا کہ اس مشکل دور میں کبھی لندن اور کبھی دیگر مقامات پر رہنا پڑا، مگر پارٹی کارکنوں نے ساتھ نہیں چھوڑا،انہوں نے چودھری یاسین کی وفاداری کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ مشکل وقت میں پارٹی اور خاندان کے ساتھ کھڑے رہے ،وفاداری کی مثال قائم کی ۔



