واشنگٹن(نیشنل ٹائمز) امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف اس ہفتے تیسرے مرحلے کی فوجی کارروائیاں مکمل کر لی ہیں۔
سینٹ کام کے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکی افواج نے زمینی اور بحری پلیٹ فارمز سے آپریٹ کرنے والے جنگی طیاروں، ڈرونز اور بحری جہازوں کے ذریعے داغے گئے انتہائی درست ہتھیاروں سے تقریباً 140 ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں میں ایران کے میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری صلاحیتیں، اسلحہ ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورکس اور ساحلی نگرانی کے مراکز شامل تھے۔
سینٹ کام کے مطابق اس ہفتے تین راتوں کے دوران مجموعی طور پر 300 سے زائد اہداف پر کارروائیاں کی گئیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے امریکی صدر کی ہدایت پر کیے گئے تاکہ ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
سینٹ کام نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت بدستور جاری ہے، جبکہ مئی کے آغاز سے اب تک امریکی افواج نے 800 سے زائد تجارتی جہازوں اور 40 کروڑ بیرل خام تیل کی محفوظ ترسیل میں معاونت فراہم کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری پیغام میں امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ کارروائی پاسدران انقلاب کی جانب سے قبرص کے پرچم بردار بحری جہاز پر حملے کے بعد کی گئی ہے۔
سینٹ کام کےمطابق ایرانی حملے کے بعد عملے کا ایک رکن لاپتہ ہے، حملے سے جہاز پر آگ لگ گئی اور انجن روم کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے جہاز اپنا سفر جاری رکھنے سے قاصر ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کو اس سے قبل بھی تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد طرز عمل بہتر بنانے اور مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی پاسداری کا موقع دیا گیا تھا، تاہم ایران ایک بار پھر اس میں ناکام رہا۔
سینٹ کام کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی اہداف پر حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کیے جا رہے ہیں۔



