مکاؤ (شِنہوا) ایشیا بحرالکاہل اقتصادی تعاون (اپیک) کے وزرائے سیاحت کا 13واں اجلاس ہفتے کے روز چین کے مکاؤ خصوصی انتظامی علاقے (ایس اے آر) میں منعقد ہوا جس میں 21 رکن ملکوں کے سیاحتی حکام نے شرکت کی اور خطے میں سیاحتی تعاون کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا۔
“ڈیجیٹل جدت، مشترکہ بااختیاری: سیاحت کے ذریعے ایشیا بحرالکاہل برادری کی تعمیر” کے عنوان کے تحت مندوبین نے ڈیجیٹل جدت اور باہمی تعاون کو فروغ دے کر خطے کے سیاحتی شعبے کو مستحکم بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
ایشیا بحرالکاہل خطے میں سیاحت کے مسلسل فروغ کے پیش نظر مندوبین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صنعت کی رفتار برقرار رکھنے کے لئے مضبوط روابط اور پالیسیوں میں ہم آہنگی انتہائی اہم ہے۔
وزارتی اجلاس کے ساتھ ساتھ مکاؤ میں بدھ سے جمعرات تک اپیک سیاحتی ورکنگ گروپ کا 67 واں اجلاس بھی منعقد ہوا۔
پیرو کے وفد کی سربراہ جولیا جیسس کالداس رامیریز نے کہا کہ یہ اجلاس مختلف ملکوں کو اپنی ترجیحات میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور انہیں عملی اقدامات میں تبدیل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تبادلے مختلف تاریخوں اور ثقافتوں کے احترام اور قدردانی کو فروغ دیتے ہیں اور اس کا دائرہ صرف سیاحت تک محدود نہیں۔
ملائیشیا کے وزیر سیاحت، فنون اور ثقافت تیونگ کنگ سنگ نے شِنہوا کو بتایا کہ بہتر فضائی روابط، ایک سے زیادہ مقامات پر مشتمل سیاحت اور بہترین تجربات کے تبادلے سے ایشیا بحرالکاہل دنیا کے لئے مزید پرکشش سیاحتی خطہ بن سکتا ہے۔
متعدد شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ سفری سہولیات سیاحتی تعاون کی بنیاد ہیں۔ روسی وفد کی رکن ایرینا کوزلووا نے کہا کہ الیکٹرانک ویزا اور ویزا میں نرمی جیسے اقدامات نے سفر کو آسان بنایا اور ثقافتی روابط کو فروغ دیا ہے جو معیشتوں کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل کی علاقائی ڈائریکٹر برائے ایشیا سارہ وانگ نے کہا کہ خطے میں بغیر رکاوٹ سفر کو ممکن بنانے اور ویزا کے مسائل حل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
وانگ کے مطابق مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجی سفری منصوبہ بندی، سرحدی انتظام اور منزلوں کے انتظام سمیت پورے سیاحتی نظام میں انقلابی تبدیلی لا رہی ہے۔
انڈونیشیا کی وزیر سیاحت ویدیانتی پتری وردھانا نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی بلارکاوٹ سفری تجربات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسان رسائی، تیزتر امیگریشن خدمات اور سہل ادائیگی کے نظام سیاحوں کے تجربات کو بہتر بناتے ہیں۔
مندوبین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو انسانی تعلقات کا متبادل نہیں بلکہ معاون ہونا چاہیے۔
تیونگ نے کہا کہ چین نے سمارٹ سیاحتی مقامات، ڈیجیٹل ادائیگیوں، مصنوعی ذہانت کی خدمات اور جدید ٹرانسپورٹ کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ ٹیکنالوجی اہم ہے لیکن گرمجوشی اور انسانی روابط ہی مہمان نوازی کی اصل روح ہیں۔
جولیا کالداس نے کہا کہ ڈیجیٹل سیاحت کا حصہ بنانے کے لئے درمیانے درجے کے کاروبار اور مقامی برادریوں کی استعداد کارمیں اضافہ چین کا ایک قابل تقلید اقدام ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیرو میں سمارٹ سیاحت دیہات، دیہی علاقوں اور مقامی ثقافتوں کو پائیدار انداز میں ترقی دینے اور ان کے تحفظ میں مدد دے سکتی ہے۔
مکاؤ نے “مکاؤ، چین” کے نام سے “مہمان معیشت” کی حیثیت سے ورکنگ گروپ کے اجلاس میں شرکت کی اور اپنی سیاحتی صنعت کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی۔
مکاؤ کے سرکاری سیاحتی دفتر کی ڈائریکٹر ماریا ہیلینا ڈی سینا فرنینڈس کے مطابق یہ تقریب مکاؤ کی مہمان نوازی، مقامی کھانوں، تخلیقی صنعتوں اور چینی و مغربی ثقافتوں کے امتزاج کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا بہترین موقع ہے۔
اتوار کو مہمانوں نے شہر کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے قدیم چین کی نمائش، مقامی روایتی کھانوں کی تیاری کے لئے ثقافتی مصنوعات اور مکاؤ عجائب گھر کے ذریعے شہر کی تاریخ اور ثقافت کو قریب سے دیکھا۔
چین جو 2026 میں اپیک کا میزبان ملک ہے، نومبر میں صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر شین زین میں اپیک رہنماؤں کے 33ویں اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
مکاؤ میں اپیک کے رکن ملکوں کا باہم مربوط اور جدت پر مبنی سیاحت کو فروغ دینے کا عزم



