خوف کی حکمرانی اور گھٹن کا قانون

تاثرات: مظہر طفیل

دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قوموں کی ترقی کا راز سخت قوانین کی کثرت میں نہیں بلکہ انصاف، آزادی، اعتماد اور قانون کی یکساں حکمرانی میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ جن معاشروں میں ریاست اپنے شہریوں کو شراکت دار سمجھنے کے بجائے مشکوک نگاہ سے دیکھنا شروع کر دے، جہاں اختلافِ رائے کو خطرہ، تنقید کو جرم اور آزادی اظہار کو ریاستی رٹ کے خلاف سمجھا جانے لگے، وہاں آہستہ آہستہ معاشرتی زندگی پر خوف کے سائے منڈلانے لگتے ہیں۔ ایسے ماحول میں نہ صرف جمہوری اقدار کمزور ہوتی ہیں بلکہ معاشرے کی فکری، علمی اور معاشی ترقی بھی رک جاتی ہے۔ اسی تناظر میں پنجاب میں مجوزہ “انسدادِ عادی مجرمان و سماج دشمن رویہ قانون 2026 ایک ایسے ڈریکولا قانون سازی کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے مختلف حلقوں میں سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہاں اگر پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف کے طرزِ حکمرانی کا بغور جاٸزہ لیا جاٸے تو یہ جمہوری اقدار سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتا۔ ان کی حکومت میں انتظامی اختیارات کا استعمال اس انداز سے کیا جا رہا ہے جس سے معاشرے میں خوف، گھٹن اور بے یقینی کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔ پنجاب پولیس، سی سی ڈی، پیرا فورس اور دیگر ریاستی اداروں کو دیے گئے وسیع اختیارات کے استعمال پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ ان اقدامات کا رخ زیادہ تر سیاسی مخالفین اور عام شہریوں کی جانب محسوس کیا جا رہا ہے ترقی، جدت اور شہروں کی خوبصورتی کے نام پر متعدد افراد کا روزگار متاثر ہوا، کاروبار محدود کیے گئے اور احتجاج کرنے والوں کے خلاف مقدمات قائم کرکے انہیں گرفتار کیا گیا۔ متعدد مواقع پر یہ بھی الزامات سامنے آئے کہ خواتین کی تذلیل کی گئی اور اہلِ خانہ کو بھی دباؤ کا نشانہ بنایا گیا۔ ایسے اقدامات کسی بھی جمہوری معاشرے میں ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو کمزور کرتے ہیں محترمہ مریم نواز شریف کو یہ حقیقت پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ اقتدار ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ ماضی میں ان کا اپنا خاندان بھی سیاسی مشکلات اور آزمائشوں سے گزر چکا ہے۔ اس لیے حکمرانوں کو طاقت کے استعمال میں احتیاط، انصاف اور جوابدہی کو مقدم رکھنا چاہیے، کیونکہ دائمی بادشاہی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے اور ہر صاحبِ اختیار کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوتا ہے پنجاب پہلے ہی معاشی مشکلات، بے روزگاری اور مہنگائی کے شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں بھاری ٹریفک جرمانوں کے ذریعے اربوں روپے وصول کرنا، کاروباری سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کرنا اور انتظامی کارروائیوں کے نتیجے میں شہریوں کے روزگار کو متاثر کرنا عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی مخالفین کے لیے حالات مزید دشوار بنانا بھی ایک ایسے طرزِ حکمرانی کی نشاندہی کرتا ہے جو جمہوری روایات سے ہم آہنگ نہیں اب اگر ان تمام اقدامات کے ساتھ مزید سخت قوانین نافذ کیے جاتے ہیں تو اس سے عوام میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ پنجاب میں اختلافِ رائے اور شہری آزادیوں کے لیے گنجائش مسلسل محدود کی جا رہی ہے۔ ایک مضبوط اور پائیدار ریاست کی بنیاد سختی پر نہیں بلکہ انصاف، قانون کی مساوی حکمرانی، عوامی اعتماد اور بنیادی حقوق کے احترام پر قائم ہوتی ہے۔ اگرچہ کسی بھی ریاست کا یہ حق اور ذمہ داری ہے کہ وہ جرائم کی روک تھام کرے، عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے اور معاشرتی امن برقرار رکھے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس مقصد کے لیے ایسے وسیع اختیارات پر مبنی قوانین ہی واحد راستہ ہیں؟ یا پھر اس نوعیت کی قانون سازی مستقبل میں شہری آزادیوں، سیاسی اختلاف اور بنیادی حقوق کے لیے نئے خطرات پیدا کر سکتی ہے؟ اس قانون کی کئی شقیں ایسی ہیں جن کی تشریح بہت وسیع ہو سکتی ہے۔ جب کسی قانون میں “سماج دشمن رویہ”، “خوف و ہراس”، “گمراہ کن معلومات” یا “اشتعال انگیز مواد” جیسے الفاظ واضح اور محدود تعریف کے بغیر استعمال کیے جائیں تو خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کا اطلاق صرف جرائم پیشہ عناصر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مختلف حالات میں عام شہریوں، صحافیوں، سماجی کارکنوں اور سیاسی مخالفین تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ قانون کی اصل طاقت اس کے سخت ہونے میں نہیں بلکہ اس کے واضح، منصفانہ اور غیر جانب دار ہونے میں ہوتی ہے۔ کسی بھی معاشرے کی تعمیر خوف کے ماحول میں نہیں ہوتی۔ نوجوان نسل اس وقت اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتی ہے جب اسے سوچنے، سوال کرنے، اختلاف کرنے اور نئے خیالات پیش کرنے کی آزادی حاصل ہو۔ اگر ہر اختلاف، ہر تنقید اور ہر غیر روایتی رائے کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے تو تخلیقی صلاحیتیں دم توڑنے لگتی ہیں۔ ایسے خوف زدہ معاشرے سائنس دان، مفکر، موجد اور رہنما پیدا نہیں کرتے بلکہ ایسے افراد پیدا کرتے ہیں جو صرف خاموش رہنا جانتے ہوں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی ریاست کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے قدرتی وسائل نہیں بلکہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ اگر یہی نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں غیر محفوظ محسوس کریں، انہیں یہ احساس ہو کہ اظہارِ رائے یا معمولی اختلاف بھی ان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے، تو وہ یا تو خاموشی اختیار کر لیتے ہیں یا پھر بہتر مواقع کی تلاش میں دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ اس طرح ایک قوم اپنے سب سے قیمتی اثاثے سے محروم ہو جاتی ہے، جبکہ وہی ذہانت، صلاحیت اور محنت دوسرے ممالک کی ترقی کا ذریعہ بن جاتی ہے تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں ضرورت سے زیادہ سخت ریاستی نگرانی نے وقتی طور پر حکومتوں کو سہارا تو دیا، لیکن طویل مدت میں معاشروں کو فکری جمود، معاشی کمزوری اور سیاسی عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا۔ ترقی یافتہ ممالک نے اپنے شہریوں پر اعتماد، مضبوط اداروں، آزاد عدلیہ اور شفاف احتساب کے ذریعے ترقی حاصل کی، نہ کہ خوف اور نگرانی کے مسلسل ماحول کے ذریعے اسی لیے قانون سازی کا بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ جرم اور اختلافِ رائے کے درمیان واضح حد قائم رکھی جائے۔ اگر یہ حد دھندلا جائے تو نقصان صرف افراد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہوتا ہے۔ ایک ایسا ماحول جنم لیتا ہے جہاں لوگ سچ بولنے سے پہلے، سوال پوچھنے سے پہلے اور اپنی رائے دینے سے پہلے کئی مرتبہ سوچتے ہیں۔ یہی کیفیت رفتہ رفتہ ایک زندہ معاشرے کو خاموش معاشرے میں تبدیل کر دیتی ہے۔ کسی بھی حکومت کو یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اقتدار مستقل نہیں ہوتا۔ آج جو اختیارات کسی ایک حکومت کے ہاتھ میں ہیں، کل وہی اختیارات کسی دوسری حکومت کے پاس ہوں گے۔ اس لیے دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ ایسے قوانین بنائے جائیں جو کسی شخصیت یا جماعت کے لیے نہیں بلکہ ریاست، آئین اور عوام کے لیے یکساں طور پر قابلِ قبول ہوں۔ جو قانون آج مخالفین کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے، وہی کل اپنے بنانے والوں کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ قانون سازی کا اصل مقصد عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے، نہ کہ انہیں مسلسل خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا کرنا۔ اگر کسی قانون کے نفاذ کے بعد شہری یہ محسوس کرنے لگیں کہ ہر لفظ، ہر رائے اور ہر اختلاف ان کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے تو یہ صورتِ حال کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے نیک شگون نہیں ہوتی۔ خوف وقتی طور پر خاموشی تو پیدا کر سکتا ہے، مگر اعتماد، وفاداری اور قومی یکجہتی کبھی پیدا نہیں کر سکتا۔ اس وقت پاکستان جن مسائل سے دوچار ہے، ان میں سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری، مہنگائی، گرتی ہوئی معیشت، سرمایہ کاری کی کمی، تعلیمی زوال اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان بنیادی مسائل کا حل مزید سخت قوانین ہیں یا پھر بہتر طرزِ حکمرانی، شفاف احتساب، انصاف کی فراہمی اور عوام کو معاشی مواقع فراہم کرنا؟ اگر بیماری کی تشخیص ہی غلط ہو تو علاج کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہ تاثر بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ اس نوعیت کے قوانین سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کر دیں گے۔ ایک جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے کو جگہ دینا ریاست کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی طاقت کی علامت ہوتا ہے۔ تنقید حکومتوں کے لیے خطرہ نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ ہوتی ہے۔ جب حکومتیں تنقید سننے کے بجائے اس کے دائرے کو محدود کرنے والے قوانین کی طرف بڑھتی ہیں تو سیاسی تقسیم مزید گہری ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح سرمایہ کار بھی صرف وہاں سرمایہ لگاتے ہیں جہاں قانون کی حکمرانی واضح، مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ہو۔ اگر یہ تاثر پیدا ہو کہ ریاستی اختیارات کی تشریح بہت وسیع ہے یا مختلف ادارے اپنی صوابدید پر وسیع فیصلے کر سکتے ہیں تو کاروباری اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ معیشت اعتماد سے چلتی ہے اور اعتماد صرف شفاف، منصفانہ اور متوازن نظام سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ کوئی بھی حکومت ہمیشہ اقتدار میں نہیں رہتی۔ اقتدار آتا بھی ہے اور جاتا بھی ہے۔ آج جو قانون ایک حکومت اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، کل وہی قانون دوسری حکومت کے ہاتھ میں آ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بالغ نظر قیادت ہمیشہ ایسے قوانین بنانے سے گریز کرتی ہے جو مستقبل میں سیاسی انتقام یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا ذریعہ بن سکتے ہوں۔ قانون شخصیات کو سامنے رکھ کر نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو سامنے رکھ کر بنایا جاتا ہے۔ اگر حکومت واقعی معاشرے کو بہتر بنانا چاہتی ہے تو اسے سختی سے زیادہ انصاف، نگرانی سے زیادہ تعلیم، خوف سے زیادہ اعتماد اور پابندیوں سے زیادہ مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ منشیات، جرائم، ہراسانی، جعل سازی اور دیگر سماجی برائیوں کے خلاف کارروائی یقیناً ضروری ہے، لیکن ان جرائم کے خلاف پہلے سے موجود قوانین کو مؤثر انداز میں نافذ کرنا بھی ایک اہم راستہ ہے۔ نئے قوانین اس وقت زیادہ مؤثر ہوتے ہیں جب ان کی ضرورت واضح ہو اور ان کے غلط استعمال کے امکانات کم سے کم ہوں۔ ایک زندہ معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں نوجوان سوال پوچھنے سے نہ ڈریں، صحافی خبر دینے سے نہ گھبرائیں، اساتذہ تحقیق کرنے میں آزاد ہوں، دانش ور اپنی رائے کھل کر پیش کر سکیں اور عام شہری اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کا یقین رکھتا ہو۔ جب معاشرہ خوف کے بجائے اعتماد پر قائم ہوتا ہے تو وہاں تخلیق، تحقیق، سرمایہ کاری اور قومی ترقی کے نئے دروازے کھلتے ہیں۔ آج پاکستان کو ایسے قوانین سے زیادہ ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کو روزگار دیں، صنعتوں کو فروغ دیں، تعلیم کے معیار کو بہتر بنائیں، انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط کریں۔ قومیں صرف پابندیوں سے نہیں بلکہ امید، انصاف اور مساوی مواقع سے ترقی کرتی ہیں۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ہر اہم قانون سازی سے پہلے تمام متعلقہ حلقوں، قانونی ماہرین، انسانی حقوق کے نمائندوں، صحافیوں، وکلا، تعلیمی اداروں اور سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں تاکہ ایسا متوازن قانون وجود میں آئے جو جرائم کا مؤثر سدباب بھی کرے اور شہری آزادیوں کو بھی غیر ضروری طور پر محدود نہ کرے۔ قومی اتفاقِ رائے سے بننے والے قوانین زیادہ دیرپا اور قابلِ قبول ہوتے ہیں۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ریاست کی طاقت کا معیار اس کے سخت قوانین نہیں بلکہ اس کا انصاف ہوتا ہے۔ عوام کو خوفزدہ کر کے وقتی خاموشی تو حاصل کی جا سکتی ہے، مگر پائیدار امن، مضبوط معیشت، فکری ترقی اور قومی یکجہتی کبھی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ ایک مضبوط ریاست وہ نہیں جو ہر آواز کو قابو میں رکھے، بلکہ وہ ہے جو ہر شہری کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی بات کہنے، سوچنے اور آگے بڑھنے کا اعتماد دے۔ قانون کا مقصد معاشرے کو محفوظ بنانا ہونا چاہیے، مقید بنانا نہیں۔ اگر قانون عوام کے دلوں میں اعتماد پیدا کرنے کے بجائے خوف پیدا کرے تو اس پر نظرِ ثانی ہی دانش مندی کا تقاضا ہوتی ہے۔ یہی راستہ ایک مضبوط، باوقار، ترقی یافتہ اور حقیقی معنوں میں جمہوری پاکستان کی طرف لے جا سکتا ہے۔



  تازہ ترین   
پاکستان کی افغان سرحد پر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں، 29 خارجی جہنم واصل
شہریوں کی حفاظت ترجیح، حالیہ دہشتگرد حملوں کے بعد بڑی کارروائی کی: عطا تارڑ
ایران امریکہ نے ایک دوسرے پر حملے روکنے پر اتفاق کر لیا، امریکی نیوز ویب سائٹ
سندھ رینجرز کیمپ حملہ: سات روز قبل افغانستان سے پاکستان آئے، گرفتار دہشتگرد کا دعویٰ
سلووینیا نے ایران کیخلاف جنگ امریکہ اور اسرائیل کی بڑی غلطی قرار دیدی
حالیہ حملوں کے بعد امریکہ کے ساتھ اتوار کو تکنیکی مذاکرات میں شرکت نہیں کی، ایران
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا بجٹ اجلاس آج ہوگا
کراچی میں رینجرز کیمپ پر بھارتی حمایت یافتہ تنظیم کا حملہ، 3 جوان شہید





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر