تحریر: منظر نقوی
ایران اور عمان کے درمیان مشترکہ ہرمز کمیٹی (جوائنٹ ہرمز کمیٹی) کا پہلا اجلاس مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ اجلاس نہ صرف آبنائے ہرمز جیسے دنیا کے حساس ترین بحری راستے کے مستقبل پر غور و خوض کے لیے منعقد ہوا بلکہ اس نے یہ پیغام بھی دیا کہ خطے کے ممالک اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے مذاکرات، باہمی احترام اور علاقائی تعاون کو ترجیح دینا چاہتے ہیں۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر پانچ کے تحت ہونے والا یہ اقدام اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ خطے کے ساحلی ممالک اب اپنی ذمہ داریوں کو زیادہ مؤثر انداز میں نبھانے کے لیے تیار ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس کو بحرِ عمان اور بحیرۂ عرب سے ملانے والی اس تنگ آبی گذرگاہ سے روزانہ دنیا کے تقریباً بیس فیصد خام تیل اور بڑی مقدار میں مائع قدرتی گیس (LNG) کی ترسیل ہوتی ہے۔ اسی لیے اس خطے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے اثرات فوری طور پر عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں، تجارت، مہنگائی اور عالمی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے آبنائے ہرمز عالمی سیاست اور طاقت کے توازن کا مرکز بنی رہی ہے۔ مختلف اوقات میں فوجی نقل و حرکت، پابندیوں، بحری محاذ آرائی اور آبنائے کی بندش کی دھمکیوں نے عالمی برادری کو شدید تشویش میں مبتلا رکھا۔ ایسے حالات میں خطے کے ممالک کی جانب سے خود اس حساس آبی گزرگاہ کے مستقبل پر مذاکرات کا آغاز ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی اور عمان کے اعلیٰ نمائندے عبدالعزیز الہنائی کے درمیان ہونے والے پہلے اجلاس میں موجودہ صورتحال، مستقبل کے انتظامی ڈھانچے اور دونوں ساحلی ممالک کے خودمختار حقوق پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ یہ امر قابلِ اطمینان ہے کہ دونوں ممالک نے اس معاملے کو بین الاقوامی قوانین اور عالمی بحری معیارات کے مطابق آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
اس مشترکہ کمیٹی کا مقصد صرف بحری گزرگاہ کی نگرانی یا انتظامی امور تک محدود نہیں بلکہ مستقبل میں جہاز رانی کے نظام، خدمات کی فراہمی، اخراجات کے تعین اور بحری سلامتی جیسے اہم معاملات پر مشترکہ اتفاقِ رائے پیدا کرنا بھی ہے۔ اگر یہ عمل کامیابی سے آگے بڑھتا ہے تو یہ نہ صرف خطے کے لیے بلکہ عالمی تجارت کے لیے بھی ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد فریم ورک فراہم کر سکتا ہے۔
عمان ہمیشہ سے خطے میں اعتدال پسند سفارت کاری اور ثالثی کے کردار کے لیے جانا جاتا ہے، جبکہ ایران مسلسل اس مؤقف کا اظہار کرتا آیا ہے کہ خلیجی سلامتی کی ذمہ داری بنیادی طور پر خطے کے ممالک پر عائد ہوتی ہے۔ دونوں ممالک کا مشترکہ پلیٹ فارم اس سوچ کو عملی شکل دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس سے اعتماد سازی کو فروغ ملے گا اور غلط فہمیوں یا غیر ضروری کشیدگی کے امکانات میں بھی کمی آسکتی ہے۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی اہمیت بھی اس تناظر میں مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگرچہ اس یادداشت کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا تھا، تاہم اب اس کے تحت ایسے عملی ادارہ جاتی اقدامات سامنے آ رہے ہیں جو مستقبل میں دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ ہرمز کمیٹی انہی اقدامات میں ایک نمایاں مثال ہے۔
بین الاقوامی برادری کو بھی اس پیش رفت کو مثبت انداز میں دیکھنا چاہیے۔ دنیا کی معیشت، توانائی کی فراہمی اور عالمی تجارت کا انحصار آبنائے ہرمز میں امن اور بلا تعطل بحری آمدورفت پر ہے۔ اگر ساحلی ممالک باہمی اعتماد اور شفافیت کے ساتھ اس گزرگاہ کا انتظام سنبھالتے ہیں تو اس سے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو فائدہ پہنچے گا۔
یقیناً اس سفر میں متعدد چیلنجز بھی موجود ہیں۔ بحری قوانین، سلامتی کے انتظامات، بین الاقوامی جہاز رانی کے اصول، ماحولیاتی تحفظ، مختلف ریاستوں کے مفادات اور عالمی طاقتوں کی سیاسی ترجیحات جیسے عوامل مستقبل کی راہ میں پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر مذاکرات کا یہ سلسلہ مستقل مزاجی، سیاسی عزم اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے ساتھ جاری رہا تو ان مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
پاکستان بھی اس عمل میں قابلِ تحسین کردار کا مستحق ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت نے ایک ایسا سفارتی ماحول فراہم کیا جس کے نتیجے میں حساس علاقائی معاملات پر براہِ راست اور تعمیری مذاکرات کا آغاز ممکن ہوا۔ ایسے وقت میں جب دنیا کے مختلف خطے جنگ، تصادم اور عدم استحکام کا شکار ہیں، پاکستان کی جانب سے مکالمے اور سفارت کاری کی حمایت ایک مثبت مثال ہے۔
آبنائے ہرمز صرف ایک بحری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ اگر ایران اور عمان اس حساس گزرگاہ کے مستقبل کے لیے مشترکہ، منصفانہ اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق قابلِ عمل نظام تشکیل دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ صرف خطے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے امن، استحکام اور معاشی تحفظ کی ایک نئی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تصادم کے بجائے تعاون، کشیدگی کے بجائے اعتماد اور طاقت کی سیاست کے بجائے مشترکہ ذمہ داری کو فروغ دیتا ہے۔



