شی آن (شِنہوا) چین کے شمال مغربی میدانوں میں گندم کی کٹائی ختم ہونے کے بعد کائی جیاپو گاؤں میں ایک اور مصروف موسم شروع ہو جاتا ہے۔
یہ گاؤں، جو صوبہ شانشی کے دارالحکومت شی آن سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے، کبھی ایک غریب اور سادہ سا دیہی علاقہ تھا۔ آج یہ گاؤں کٹائی کے بعد خالی ہونے والے کھیتوں، پرانے گھروں اور دیواروں کو فنکاروں کے لئے کھلی تخلیقی مقام میں تبدیل کر چکا ہے۔
مئی کے آخر سے نومبر تک یہاں ایک آرٹ فیسٹیول منعقد ہوتا ہے جسے “مانگبا” کہا جاتا ہے۔ اس دوران نمائشیں، پرفارمنسز، بازار اور دیگر عوامی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، جو کٹائی کے بعد دیہی زندگی میں ایک نیا رنگ اور رفتار شامل کرتی ہیں۔ “مانگبا” کا مطلب چینی زبان میں یہ ہے کہ “کام ختم ہو گیا”۔
اس فیسٹیول کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور شی آن اکیڈمی آف فائن آرٹس کے نوجوان استاد کوئی کائی من کا کہنا ہے کہ “یہ آرٹ فیسٹیول بذات خود ایک فن پارہ ہے۔”
تجرباتی فن میں مہارت رکھنے والے کوئی کے لئے “کام” صرف دیوار پر پینٹنگ یا گیلری میں نصب کوئی آرٹ انسٹالیشن نہیں ہے، بلکہ یہ گاؤں کی زندگی سے جڑی ایک طویل المدتی تخلیقی مشق ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں چین میں زیادہ فنکار اور آرٹ کے طلبہ دیہی علاقوں کی طرف واپس جا رہے ہیں۔ وہ گاؤں کی دیواروں پر پینٹنگ کرتے ہیں، کھیتوں کے کنارے انسٹالیشنز بناتے ہیں، پرانے گھروں کی تزئین و آرائش کرتے ہیں اور دیہی عوامی زندگی کا حصہ بنتے ہیں۔ کائی جیاپو اس رجحان کی ایک مثال ہے کہ معاصر فن کس طرح چین کے دیہات میں نئی زمین تلاش کر رہا ہے۔
یہ واپسی چینی فن کی ایک قدیم روایت کی بھی بازگشت ہے۔
1950 اور 1960 کی دہائیوں سے بہت سے چینی فنکار اور آرٹ کے طلبہ دیہات، کارخانوں اور پیداواری مقامات کا رخ کرتے رہے ہیں، جہاں وہ کسانوں، مزدوروں اور عام روزمرہ زندگی سے، جو عوامی سطح پر ہوتی ہے، تحریک حاصل کرتے ہیں۔
دیہی زندگی میں رنگ بھرنے کے لئے فنکاروں کی چین کے شمال مغربی گاؤں میں واپسی



