لہاسا (شِنہوا) چین نے جنوب مغربی شی زانگ خودمختار علاقے میں قدیم تحریری نسخوں کے تحفظ اور استعمال کے منصوبے پر 11 کروڑ یوآن (تقریباً ایک کروڑ 61 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر) سے زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ ان میں پوٹالا محل کے کھجور کے پتوں پر لکھی گئی تحریریں بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق یہ منصوبہ 2018 میں شروع کیا گیا تھا۔ اس کے پہلے 2 مراحل مکمل ہو چکے ہیں اور حتمی جانچ بھی پاس کر چکے ہیں جبکہ تیسرا مرحلہ جاری ہے اور توقع ہے کہ یہ 2026 کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔ یہ بات علاقے کے ثقافتی ورثے کے ادارے نے بتائی۔
اس منصوبے کے تحت اب تک 893 اوراق پر مشتمل کھجور کے پتوں پر لکھی گئی مذہبی و تاریخی تحریریں اور 10 ہزار 401 اوراق پر مشتمل تبتی کاغذی نوادرات بحال کئے جا چکے ہیں جبکہ 15 ہزار اوراق پر مشتمل کھجور کے پتوں کے مخطوطات کی فہرست سازی مکمل ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ 36 ہزار سے زائد اوراق پر مشتمل قدیم دستاویزات کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کیا گیا ہے اور متن کی شناخت کا عمل بھی مکمل کیا گیا ہے۔
اس منصوبے کے دوران بحالی، احتیاطی تحفظ، ڈیجیٹل طریقے سے محفوظ کرنے، تکنیکی معیار بنانے اور مقامی ماہرین کی تربیت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
پوٹالا محل یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل ہے جس میں مختلف زبانوں کی تقریباً 40 ہزار قدیم کتابیں اور دستاویزات محفوظ ہیں۔ ان میں سب سے اہم مجموعہ کھجور کے تقریباً 30 ہزار پتوں پر لکھی گئی مذہبی تحریروں پر مشتمل ہے۔
جنوب مغربی چین کے شی زانگ میں قدیم تحریری نسخوں کے تحفظ پر بھاری سرمایہ کاری



