واشنگٹن(نیشنل ٹائمز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز کہا کہ وہ ایران کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کے مرکز، جزیرہ خارگ کا کنٹرول سنبھالنا چاہتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی فوج اس جزیرے پر تیزی سے قبضہ تو کر سکتی ہے ، لیکن یہ قدم امریکی فوجیوں کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے اور جنگ کو مختصر کرنے کے بجائے مزید طول دے سکتا ہے ۔ جزیرہ خارگ خلیج کے شمالی سرے پر ایرانی ساحل سے 16 میل (26 کلومیٹر) کے فاصلے پر واقع ہے ، جو آبنائے ہرمز سے تقریباً 300 میل (483 کلومیٹر) شمال مغرب میں ہے ۔ یہ جزیرہ ایسے گہرے پانیوں میں واقع ہے جو ان بڑے ٹینکرز کو لنگر انداز ہونے کی سہولت دیتے ہیں جو ایرانی سرزمین کے اتھلے (کم گہرے ) ساحلی پانیوں کے قریب نہیں آ سکتے ۔28 فروری کو جنگ شروع ہونے سے پہلے ، ایران کی تیل کی برآمدات کا 90 فیصد حصہ اسی جزیرے سے ہوتا تھا۔ اس پر قبضہ کرنے سے ایران کی توانائی کی تجارت شدید متاثر ہوگی اور تہران کی معیشت پر زبردست دباؤ آئے گا۔ واضح رہے کہ ایران پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) میں تیسرا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے ۔
جزیرے پر قبضہ کرنے سے شاید ایران کی معیشت پر فوری اثر نہ پڑے ، کیونکہ جنگ کی وجہ سے ملک کی تیل کی برآمدات پہلے ہی بہت حد تک کم ہو چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق امریکی فوجیوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جن میں ممکنہ طور پر کیمروں سے لیس “فرسٹ پرسن ویو (FPV) ڈرونز” بھی شامل ہیں، جو پہلے ہی یوکرین میں لاکھوں کی تعداد میں استعمال ہو رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا، “کسی بھی کامیاب حملے کے بعد، ایرانی حکومت ان حملوں کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر جاری کرے گی اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے مناظر کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرے گی۔”امریکی سنٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سابق کمانڈر جوزف ووٹل نے مارچ میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگرچہ جزیرہ خارگ پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے صرف 800 سے 1,000 فوجیوں کی ضرورت ہوگی، لیکن انہیں لاجسٹک بیک اپ کی ضرورت ہوگی جس کی حفاظت بھی کرنی پڑے گی۔ووٹل نے کہا کہ وہاں فوجی بہت زیادہ خطرے کی زد میں ہوں گے اور انہوں نے اس بات پر شک ظاہر کیا کہ جزیرے پر قبضہ کرنے سے کوئی خاص تزویراتی فائدہ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنا ایک “عجیب” فیصلہ ہوگا، اگرچہ امریکا ضرورت پڑنے پر ایسا کر سکتا ہے ۔



