اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)اسلام آباد میں سرکاری ملازمین کا بجٹ کے خلاف شاہراہ دستور پر احتجاج جاری ہے۔
سرکاری ملازمین کی پارلیمنٹ جانے کی کوشش میں پولیس سے مزاحمت میں ایک شخص زخمی ہوگیا، اسلام آباد پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
سرکاری محکموں کے ملازمین پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کر رہے ہیں، احتجاج کے باعث شاہراہ دستور کو ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا ہے۔
چیف آرگنائزر اگیگا رحمان باجوہ نے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج ہوگا۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین مطالبات شامل کئے جائیں، 10 مارچ 2025ء کے معاہدے کی تمام شقوں پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے، تمام ایڈہاک ریلیف الاؤنسز بنیادی تنخواہ میں ضم کر کے پے سکیل 2026ء متعارف کرایا جائے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 100 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2026ء شامل کیا جائے، 50 ہزار روپے سے کم تنخواہ لینے والے ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے۔
چیف آرگنائزر اگیگا نے مزید کہا کہ ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کی ریگولرائزیشن کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں، دورانِ سروس وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کی بھرتیاں بحال کی جائیں، نجکاری کی فہرست میں شامل اداروں کیلئے مشترکہ کمیٹیاں بنائی جائیں، سرکاری ملازمین کی ماہانہ اجرت کم از کم 50 ہزار روپے مقرر کی جائے۔



