سرد جنگ اپنے جوبن پر تھی، پاک افغان سرحد بارود کی بو سے مہک رہی تھی اور افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں پر سوویت یونین کے آہنی پرندے موت بن کر منڈلا رہے تھے۔ یہ 1980 کی دہائی کا وہ دور تھا جب دنیا کی دو بڑی سپر پاورز بالواسطہ طور پر آمنے سامنے تھیں۔ اسی ہنگامہ خیز دور میں، 16 ستمبر 1987 کو پاکستان کے دور افتادہ اور پرسکون علاقے چترال میں ایک ایسا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا جس نے نہ صرف عالمی میڈیا کی سرخیاں بدل دیں بلکہ واشنگٹن، ماسکو اور کابل کے عسکری ایوانوں میں ہلچل مچا دی۔
یہ کہانی ہے افغان اور سوویت فضائیہ کے ان دو Mi-8/Mi-17 جنگی ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹروں کی، جن کا چترال کی وادی میں اترنا سرد جنگ کا ایک بڑا انٹیلیجنس اور سفارتی ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔
بھٹکی ہوئی پرواز اور ‘سرخ بازوں’ کی آمد
ستمبر کی اس خنک صبح، اپر چترال کے دور افتادہ علاقے زیور گول (واشچ) کے مقامی چرواہے اور دیہاتی روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھے کہ اچانک پہاڑیوں کے پیچھے سے آنے والی ایک بھاری اور خوفناک گڑگڑاہٹ نے فضا کو لرزا دیا۔ یہ آواز وادی کے عام طیاروں جیسی نہ تھی۔ جب مقامی لوگوں نے آسمان کی طرف دیکھا تو دو دیو ہیکل، سبز اور خاکی رنگ کے عسکری ہیلی کاپٹر بادلوں کو چیرتے ہوئے نیچے اتر رہے تھے۔
یہ سوویت ساختہ Mi-8 ہیلی کاپٹر تھے، جو اس دور میں افغان کمیونسٹ حکومت اور سوویت افواج کے لیے رسد، فوجیوں کی نقل و حمل اور اسکاٹ مشنز کا ایک انتہائی اہم ہتھیار تھے۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ یہ ہیلی کاپٹر خراب موسم، گھنے بادلوں، دشوار گزار پہاڑی سلسلوں اور نیویگیشنل آلات کی خرابی کے باعث اپنا راستہ بھول گئے تھے۔ اڑتے اڑتے وہ پاک افغان سرحد عبور کر کے پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے اور ایندھن کی شدید کمی کے باعث چترال کے مقام پر ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہو گئے۔
“آپ افغانستان میں نہیں، پاکستان میں ہیں!”
جب ہیلی کاپٹر زمین پر اترے تو ان کا عملہ شدید الجھن کا شکار تھا۔ انہیں گمان تھا کہ وہ ابھی تک افغان حدود کے اندر ہی اپنے کسی محفوظ بیس کے قریب ہیں۔ مقامی چرواہے اور دیہاتی، جو اپنی بہادری اور مہمان نوازی کے لیے مشہور ہیں، حیرت اور تجسس کے ساتھ ان کے قریب پہنچے۔
ہیلی کاپٹر کے عملے نے، جس میں افغان پائلٹس اور سوویت فضائیہ کے مشیر و تکنیکی ماہرین شامل تھے، اشاروں کی زبان اور ٹوٹی پھوٹی زبان میں مقامی لوگوں سے اپنی لوکیشن جاننا چاہی۔ جب انہیں بتایا گیا کہ:
“یہ افغانستان نہیں، بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا علاقہ چترال ہے۔”
تو عملے کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ سرد جنگ کے اس دور میں ایک حریف ملک کی حدود میں اپنے فوجی اثاثوں کے ساتھ اترنا کسی خودکشی سے کم نہ تھا۔ گھبراہٹ کے اس عالم میں، عسکری پروٹوکول کے مطابق، عملے نے مبینہ طور پر ہیلی کاپٹروں کے حساس الیکٹرانک نظام، خفیہ دستاویزات اور کوڈ بکس کو تلف کرنے کی کوشش کی تاکہ یہ ٹیکنالوجی پاکستان یا اس کے اتحادی امریکہ کے ہاتھ نہ لگ سکے۔ لیکن چترال کے بیدار مغز عوام نے صورتحال کو بھانپ لیا اور فوری طور پر قریبی سیکیورٹی پوسٹ کو مطلع کیا۔
چترال اسکاؤٹس کا ایکشن اور گرفتاری
اطلاع ملتے ہی چترال اسکاؤٹس اور پاک فوج کے جوانوں نے برق رفتاری سے حرکت کرتے ہوئے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ دونوں ہیلی کاپٹروں کے عملے کو، جس میں مجموعی طور پر 6 انتہائی تربیت یافتہ فوجی اہلکار (بشمول افغان پائلٹ اور سوویت سپاہی) شامل تھے، بغیر کسی مزاحمت کے حراست میں لے لیا گیا۔
ان فوجیوں کو چترال اسکاؤٹس کے ہیڈ کوارٹر منتقل کیا گیا، جہاں بین الاقوامی قوانین اور روایتی چترالی مہمان نوازی کے مطابق ان کے ساتھ انتہائی معزز سلوک کیا گیا۔ ان کے لیے گرم چائے اور کھانے کا بندوبست کیا گیا، جس نے ان کے چہروں پر پھیلی خوف اور سراسیمگی کی لہر کو کم کیا۔
مغرب اور پاکستان کے لیے ایک ‘انمول خزانہ’
یہ واقعہ صرف فضائی حدود کی خلاف ورزی کا نہیں تھا، بلکہ یہ مغرب، خاص طور پر امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے (CIA) اور پاک فوج کے لیے ایک بہت بڑا عسکری جیک پاٹ تھا۔ اگرچہ یہ Mi-24 ہائنڈ (جنگی ٹینک) نہیں تھے، لیکن یہ سوویت یونین کے جدید ترین ترامیم سے لیس ٹرانسپورٹ اور اسکاٹ ہیلی کاپٹر تھے، جن کے الیکٹرانک کاؤنٹر میژرز (جیسے راڈار وارننگ ریسیورز اور فلیر سسٹم) کی تکنیکی تفصیلات جاننے کے لیے مغربی ماہرین برسوں سے تڑپ رہے تھے۔
جیسے ہی یہ خبر اسلام آباد پہنچی، اعلیٰ عسکری حکام کے ساتھ ساتھ امریکی ماہرین کی ایک خفیہ ٹیم بھی چترال روانہ کی گئی۔ ان ہیلی کاپٹروں کا باریک بینی سے معائنہ کیا گیا، ان کے نیویگیشن سسٹم اور الیکٹرانک آلات کا مطالعہ کیا گیا، جس سے بعد میں افغان مجاہدین کو سوویت فضائی طاقت کا مقابلہ کرنے میں مزید مدد ملی۔ بعد ازاں، ان ہیلی کاپٹروں کو الگ الگ حصوں میں تقسیم (Disassemble) کر کے مزید گہرے تکنیکی مطالعے کے لیے امریکہ منتقل کر دیا گیا۔
سفارتی حل اور قیدیوں کا تبادلہ
پاکستان نے اس نازک صورتحال کو انتہائی تدبر اور سفارتی مہارت سے ہینڈل کیا۔ چونکہ یہ ایک نادانستہ غلطی اور نیویگیشنل خرابی کا نتیجہ تھا، اس لیے پاکستان نے سوویت یونین اور کابل حکومت کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے بجائے اسے ایک سفارتی پتے (Levearge) کے طور پر استعمال کیا۔
کچھ دن کی تحویل اور ضروری عسکری تحقیقات کے بعد، پاکستان نے سفارتی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے ان 6 قیدیوں کو بحفاظت سوویت اور افغان حکام کے حوالے کر دیا، اور اس کے بدلے کابل حکومت کی قید میں موجود کچھ اہم ترین افراد یا مجاہدین کمانڈروں کی رہائی کو ممکن بنایا۔ تاہم، ان کے ہیلی کاپٹر مستقل طور پر ضبط کر لیے گئے۔
زبانی تاریخ: چترال کے بزرگوں کی یادیں
چترال کے بزرگوں کی زبانی تاریخ (Oral History) میں یہ واقعہ آج بھی اس طرح زندہ ہے جیسے کل کی بات ہو۔ عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ اس دن ہیلی کاپٹروں کی آواز اتنی شدید تھی کہ پورے گاؤں کے بچے اور خواتین سہم گئے۔ بزرگ یاد کرتے ہیں کہ جب پائلٹ ہیلی کاپٹر سے اترے تو وہ طویل پرواز اور خوف کی وجہ سے کانپ رہے تھے۔ چترال کے لوگوں نے حریف ملک کے سپاہی ہونے کے باوجود ان پر حملہ نہیں کیا، بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آنے تک انہیں گھیرے میں رکھا اور امن و امان برقرار رکھا۔
16 ستمبر 1987 کا یہ واقعہ چترال کی تاریخ کا ایک ایسا منفرد باب ہے جہاں عالمی سیاست کے تانے بانے پاکستان کے ان خوبصورت اور پرامن پہاڑوں سے جا ملے۔ آج بھی جب چترال کی تاریخ اور سوویت افغان جنگ کا تذکرہ ہوتا ہے، تو واشچ کے پہاڑوں پر اترنے والے ان “سرخ بازوں” کی کہانی بڑے شوق سے سنائی جاتی ہے، جو یہ یاد دلاتی ہے کہ تاریخ کے دھارے بدلنے کے لیے کبھی کبھی ایک جغرافیائی لغزش ہی کافی ہوتی ہے۔
سرد جنگ اپنے جوبن پر تھی، پاک افغان سرحد بارود کی بو سے مہک رہی تھی اور افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں پر سوویت یونین کے آہنی پرندے موت بن کر منڈلا رہے تھے۔ یہ 1980 کی دہائی کا وہ دور تھا جب دنیا کی دو بڑی سپر پاورز بالواسطہ طور پر آمنے سامنے تھیں۔ اسی ہنگامہ خیز دور میں، 16 ستمبر 1987 کو پاکستان کے دور افتادہ اور پرسکون علاقے چترال میں ایک ایسا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا جس نے نہ صرف عالمی میڈیا کی سرخیاں بدل دیں بلکہ واشنگٹن، ماسکو اور کابل کے عسکری ایوانوں میں ہلچل مچا دی۔
یہ کہانی ہے افغان اور سوویت فضائیہ کے ان دو Mi-8/Mi-17 جنگی ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹروں کی، جن کا چترال کی وادی میں اترنا سرد جنگ کا ایک بڑا انٹیلیجنس اور سفارتی ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔
بھٹکی ہوئی پرواز اور ‘سرخ بازوں’ کی آمد
ستمبر کی اس خنک صبح، اپر چترال کے دور افتادہ علاقے زیور گول (واشچ) کے مقامی چرواہے اور دیہاتی روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھے کہ اچانک پہاڑیوں کے پیچھے سے آنے والی ایک بھاری اور خوفناک گڑگڑاہٹ نے فضا کو لرزا دیا۔ یہ آواز وادی کے عام طیاروں جیسی نہ تھی۔ جب مقامی لوگوں نے آسمان کی طرف دیکھا تو دو دیو ہیکل، سبز اور خاکی رنگ کے عسکری ہیلی کاپٹر بادلوں کو چیرتے ہوئے نیچے اتر رہے تھے۔
یہ سوویت ساختہ Mi-8 ہیلی کاپٹر تھے، جو اس دور میں افغان کمیونسٹ حکومت اور سوویت افواج کے لیے رسد، فوجیوں کی نقل و حمل اور اسکاٹ مشنز کا ایک انتہائی اہم ہتھیار تھے۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ یہ ہیلی کاپٹر خراب موسم، گھنے بادلوں، دشوار گزار پہاڑی سلسلوں اور نیویگیشنل آلات کی خرابی کے باعث اپنا راستہ بھول گئے تھے۔ اڑتے اڑتے وہ پاک افغان سرحد عبور کر کے پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے اور ایندھن کی شدید کمی کے باعث چترال کے مقام پر ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہو گئے۔
“آپ افغانستان میں نہیں، پاکستان میں ہیں!”
جب ہیلی کاپٹر زمین پر اترے تو ان کا عملہ شدید الجھن کا شکار تھا۔ انہیں گمان تھا کہ وہ ابھی تک افغان حدود کے اندر ہی اپنے کسی محفوظ بیس کے قریب ہیں۔ مقامی چرواہے اور دیہاتی، جو اپنی بہادری اور مہمان نوازی کے لیے مشہور ہیں، حیرت اور تجسس کے ساتھ ان کے قریب پہنچے۔
ہیلی کاپٹر کے عملے نے، جس میں افغان پائلٹس اور سوویت فضائیہ کے مشیر و تکنیکی ماہرین شامل تھے، اشاروں کی زبان اور ٹوٹی پھوٹی زبان میں مقامی لوگوں سے اپنی لوکیشن جاننا چاہی۔ جب انہیں بتایا گیا کہ:
“یہ افغانستان نہیں، بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا علاقہ چترال ہے۔”
تو عملے کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ سرد جنگ کے اس دور میں ایک حریف ملک کی حدود میں اپنے فوجی اثاثوں کے ساتھ اترنا کسی خودکشی سے کم نہ تھا۔ گھبراہٹ کے اس عالم میں، عسکری پروٹوکول کے مطابق، عملے نے مبینہ طور پر ہیلی کاپٹروں کے حساس الیکٹرانک نظام، خفیہ دستاویزات اور کوڈ بکس کو تلف کرنے کی کوشش کی تاکہ یہ ٹیکنالوجی پاکستان یا اس کے اتحادی امریکہ کے ہاتھ نہ لگ سکے۔ لیکن چترال کے بیدار مغز عوام نے صورتحال کو بھانپ لیا اور فوری طور پر قریبی سیکیورٹی پوسٹ کو مطلع کیا۔
چترال اسکاؤٹس کا ایکشن اور گرفتاری
اطلاع ملتے ہی چترال اسکاؤٹس اور پاک فوج کے جوانوں نے برق رفتاری سے حرکت کرتے ہوئے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ دونوں ہیلی کاپٹروں کے عملے کو، جس میں مجموعی طور پر 6 انتہائی تربیت یافتہ فوجی اہلکار (بشمول افغان پائلٹ اور سوویت سپاہی) شامل تھے، بغیر کسی مزاحمت کے حراست میں لے لیا گیا۔
ان فوجیوں کو چترال اسکاؤٹس کے ہیڈ کوارٹر منتقل کیا گیا، جہاں بین الاقوامی قوانین اور روایتی چترالی مہمان نوازی کے مطابق ان کے ساتھ انتہائی معزز سلوک کیا گیا۔ ان کے لیے گرم چائے اور کھانے کا بندوبست کیا گیا، جس نے ان کے چہروں پر پھیلی خوف اور سراسیمگی کی لہر کو کم کیا۔
مغرب اور پاکستان کے لیے ایک ‘انمول خزانہ’
یہ واقعہ صرف فضائی حدود کی خلاف ورزی کا نہیں تھا، بلکہ یہ مغرب، خاص طور پر امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے (CIA) اور پاک فوج کے لیے ایک بہت بڑا عسکری جیک پاٹ تھا۔ اگرچہ یہ Mi-24 ہائنڈ (جنگی ٹینک) نہیں تھے، لیکن یہ سوویت یونین کے جدید ترین ترامیم سے لیس ٹرانسپورٹ اور اسکاٹ ہیلی کاپٹر تھے، جن کے الیکٹرانک کاؤنٹر میژرز (جیسے راڈار وارننگ ریسیورز اور فلیر سسٹم) کی تکنیکی تفصیلات جاننے کے لیے مغربی ماہرین برسوں سے تڑپ رہے تھے۔
جیسے ہی یہ خبر اسلام آباد پہنچی، اعلیٰ عسکری حکام کے ساتھ ساتھ امریکی ماہرین کی ایک خفیہ ٹیم بھی چترال روانہ کی گئی۔ ان ہیلی کاپٹروں کا باریک بینی سے معائنہ کیا گیا، ان کے نیویگیشن سسٹم اور الیکٹرانک آلات کا مطالعہ کیا گیا، جس سے بعد میں افغان مجاہدین کو سوویت فضائی طاقت کا مقابلہ کرنے میں مزید مدد ملی۔ بعد ازاں، ان ہیلی کاپٹروں کو الگ الگ حصوں میں تقسیم (Disassemble) کر کے مزید گہرے تکنیکی مطالعے کے لیے امریکہ منتقل کر دیا گیا۔
سفارتی حل اور قیدیوں کا تبادلہ
پاکستان نے اس نازک صورتحال کو انتہائی تدبر اور سفارتی مہارت سے ہینڈل کیا۔ چونکہ یہ ایک نادانستہ غلطی اور نیویگیشنل خرابی کا نتیجہ تھا، اس لیے پاکستان نے سوویت یونین اور کابل حکومت کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے بجائے اسے ایک سفارتی پتے (Levearge) کے طور پر استعمال کیا۔
کچھ دن کی تحویل اور ضروری عسکری تحقیقات کے بعد، پاکستان نے سفارتی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے ان 6 قیدیوں کو بحفاظت سوویت اور افغان حکام کے حوالے کر دیا، اور اس کے بدلے کابل حکومت کی قید میں موجود کچھ اہم ترین افراد یا مجاہدین کمانڈروں کی رہائی کو ممکن بنایا۔ تاہم، ان کے ہیلی کاپٹر مستقل طور پر ضبط کر لیے گئے۔
زبانی تاریخ: چترال کے بزرگوں کی یادیں
چترال کے بزرگوں کی زبانی تاریخ (Oral History) میں یہ واقعہ آج بھی اس طرح زندہ ہے جیسے کل کی بات ہو۔ عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ اس دن ہیلی کاپٹروں کی آواز اتنی شدید تھی کہ پورے گاؤں کے بچے اور خواتین سہم گئے۔ بزرگ یاد کرتے ہیں کہ جب پائلٹ ہیلی کاپٹر سے اترے تو وہ طویل پرواز اور خوف کی وجہ سے کانپ رہے تھے۔ چترال کے لوگوں نے حریف ملک کے سپاہی ہونے کے باوجود ان پر حملہ نہیں کیا، بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آنے تک انہیں گھیرے میں رکھا اور امن و امان برقرار رکھا۔
16 ستمبر 1987 کا یہ واقعہ چترال کی تاریخ کا ایک ایسا منفرد باب ہے جہاں عالمی سیاست کے تانے بانے پاکستان کے ان خوبصورت اور پرامن پہاڑوں سے جا ملے۔ آج بھی جب چترال کی تاریخ اور سوویت افغان جنگ کا تذکرہ ہوتا ہے، تو واشچ کے پہاڑوں پر اترنے والے ان “سرخ بازوں” کی کہانی بڑے شوق سے سنائی جاتی ہے، جو یہ یاد دلاتی ہے کہ تاریخ کے دھارے بدلنے کے لیے کبھی کبھی ایک جغرافیائی لغزش ہی کافی ہوتی ہے۔



