بیجنگ (شِنہوا) چینی ریاستی کونسل کی تائیوان امور دفتر نے کہا کہ تائیوان کی ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) کی انتظامیہ نے بیرونی قوتوں کے آگے جھک کر خود کو چینی قوم سے غداری کرنے والوں کے طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔
دفتر کی ترجمان ژانگ ہان نے ایک پریس بریفنگ کے دوران اس سوال پر ردعمل دیا جس میں جاپان اور فلپائن کی جانب سے تائیوان جزیرے کے مشرقی سمندری علاقے کے بارے میں ’’سمندری حدود کے تعین سے متعلق مذاکرات‘‘ کے اعلان پر ڈی پی پی حکام کے ردعمل کے بارے میں پوچھا گیا۔
ژانگ نے کہا کہ چین کی شمولیت کے بغیر ایسے مذاکرات کا آغاز کر کے جاپان اور فلپائن نے چین کے سمندری حقوق اور مفادات کی سنگین خلاف ورزی کی ہے جو بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کے بھی منافی ہے۔ ژانگ نے مزید کہا کہ یہ اقدام ’’مکمل طور پر غیر قانونی اور کالعدم‘‘ ہے۔
ترجمان نے الزام عائد کیا کہ ڈی پی پی حکام نے بیرونی قوتوں کے سامنے جھک کر خود کو ’قوم کے مکمل غدار‘ کے طور پر پیش کیا ہے۔
ژانگ نے کہا کہ جاپان اور فلپائن کے اقدام پر ڈی پی پی کے ردعمل کے خلاف آبنائے تائیوان کے دونوں جانب موجود چینی عوام کی وسیع مذمت کے بعد ڈی پی پی نے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے علیحدگی پسند نظریات کو نئے انداز میں پیش کرنا شروع کر دیا تاکہ عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے اور انہیں گمراہ کیا جا سکے۔
چینی مین لینڈ کی تائیوان کی ڈی پی پی پر بیرونی قوتوں کے آگے جھکنے پر تنقید



