غازیِ کشمیر: کرنل سردار شیر احمد خان (سابق صدر آزاد جموں و کشمیر)

تحریر: لطیف شاہ

​تحریکِ آزادیِ کشمیر اور آزاد جموں و کشمیر کی تاریخ میں چند شخصیات ایسی ہیں جنھوں نے نہ صرف قلم اور سیاست سے بلکہ اپنی شمشیر اور عسکری صلاحیتوں سے بھی تاریخ کا رخ موڑا۔ انھی عظیم المرتبت رہنماؤں میں ایک نمایاں نام کرنل سردار شیر احمد خان کا ہے، جو ایک نڈر فوجی، مخلص سیاست دان اور آزاد کشمیر کے سابق صدر تھے۔ ان کی سیاسی و عسکری زندگی کا ایک یادگار سنگِ میل پاکستان کا شہر راولپنڈی بھی ہے، جہاں کالج روڈ پر واقع ان کی رہائش گاہ ایک وقت میں باقاعدہ “کشمیر ہاؤس صدارتی ایوان (Presidency)” کا درجہ رکھتی تھی۔ 1950ء کی دہائی میں یہ صدارتی ایوان پاکستان کے اعلیٰ فوجی جنرلز، اور نامور پاکستانی و کشمیری سیاست دانوں، بالخصوص بانیِ آزاد کشمیر غازیِ ملت سردار محمد ابراہیم خان اور کے ایچ خورشید (سابق صدر آزاد کشمیر) جیسی عظیم شخصیات کی آمد و رفت کا مرکز اور تحریکِ آزادی کا کلیدی گڑھ تھا۔ اس تاریخی دور کی ایک اور اہم ترین بات یہ ہے کہ سابق وزیراعظم و صدر آزاد کشمیر بیرسٹر چوہدری سلطان محمود کے والدِ محترم، تحریکِ آزادی کے مایہ ناز رہنما چوہدری نور حسین، کرنل سردار شیر احمد خان صاحب کی صدارتی کابینہ میں بحیثیت وزیر شامل رہے۔ یہ گھر آج بھی وہاں موجود ہے اور ان تمام تاریخی فیصلوں اور عظمت کا امین ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ کشمیر کی آزادی اور وہاں کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کیا۔

​کرنل سردار شیر احمد خان کی زندگی کا آغاز ایک کڑے اور جاندار عسکری ماحول میں ہوا۔ وہ ایک روایتی فوجی تھے جن کے رگ و پے میں شجاعت اور وطن پرستی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔
​عسکری مہارت: انہوں نے برطانوی ہند کی فوج (سدھنتی پلٹن) میں تربیت حاصل کی اور دوسری جنگِ عظیم میں بھی حصہ لیا، جہاں انہوں نے جنگی حکمتِ عملی اور قیادت کے گُر سیکھے۔
​1947ء کی جنگِ آزادی: جب 1947ء میں ڈوگرہ راج کے خلاف تحریکِ آزادی کا آغاز ہوا، تو سردار شیر احمد خان نے اپنی فوجی ملازمت کو خیرباد کہہ دیا اور مجاہدینِ کشمیر کی صف اول میں شامل ہو گئے۔
​محاذِ جنگ پر قیادت: انہوں نے پونچھ اور دیگر محاذوں پر ڈوگرہ فورسز اور بھارتی فوج کے خلاف بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ ان کی عسکری حکمتِ عملی کی بدولت مجاہدین نے وسیع علاقہ دشمن کے چنگل سے آزاد کروایا، جسے آج ہم “آزاد کشمیر” کے نام سے جانتے ہیں۔
​1947ء کی جنگِ آزادی میں بے مثال جرات، غیر معمولی جنگی حکمتِ عملی اور دادِ شجاعت دینے پر حکومت اور عوام کی طرف سے انہیں بلند ترین اعزازات سے نوازا گیا:
​شیرِ جنگ: محاذِ جنگ پر دشمن کے دانت کھٹے کرنے اور شیر جیسی بہادری دکھانے پر انہیں “شیرِ جنگ” کا خطاب دیا گیا۔
​فخرِ کشمیر: تحریکِ آزادیِ کشمیر کے لیے ان کی لازوال قربانیوں اور خدمات کے اعتراف میں انہیں ریاست کا مایہ ناز اور باوقار اعزاز “فخرِ کشمیر” عطا کیا گیا، جو ان کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
​بحیثیت ڈیفنس ایڈوائزر (مشیرِ دفاع) خدمات
​جنگِ آزادی کے فوراً بعد، جب آزاد جموں و کشمیر کی ابتدائی حکومت قائم ہو رہی تھی، تو نوآزاد خطے کو بیرونی جارحیت سے بچانے اور دفاعی لائن کو مضبوط کرنے کے لیے ایک ماہر عسکری دماغ کی ضرورت تھی۔ اس نازک وقت پر کرنل سردار شیر احمد خان کو حکومتِ آزاد کشمیر کا ڈیفنس ایڈوائزر (مشیرِ دفاع) مقرر کیا گیا۔
​اس منصب پر رہتے ہوئے انہوں نے درج ذیل اہم خدمات سرانجام دیں:
​دفاعی حکمتِ عملی کی تشکیل: انہوں نے نوزائیدہ ریاست کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ایک جامع اور مضبوط دفاعی پلان تیار کیا، تاکہ دشمن کی ممکنہ پیش قدمی کو روکا جا سکے۔
​لوکل فورسز اور مجاہدین کی تنظیمِ نو: جنگِ آزادی میں حصہ لینے والے مختلف مجاہدین اور مقامی دستوں کو ایک باقاعدہ اور ڈسپلن یافتہ فورس (آزاد کشمیر ریجمنٹ) کی شکل دینے میں ان کا کردار مرکزی تھا۔ انہوں نے اپنی عسکری مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے ان دستوں کی تربیت اور کمانڈ کے نظام کو بہتر بنایا۔
​حکومت اور فوج میں پل کا کردار: بحیثیت مشیرِ دفاع، انہوں نے آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت اور محاذِ جنگ پر موجود عسکری کمانڈروں کے درمیان ایک بہترین پل کا کام کیا، جس سے جنگی فیصلوں میں تیزی اور یکسوئی پیدا ہوئی۔ ان کی اسی عسکری بصیرت کو دیکھتے ہوئے بعد میں انہیں ریاست کے سب سے اعلیٰ عہدے کے لیے منتخب کیا گئے۔
​کالج روڈ راولپنڈی کی رہائش گاہ: 1950ء کی دہائی کا “سیاسی گڑھ”
​کرنل سردار شیر احمد خان 1950ء میں راولپنڈی کے مشہور کالج روڈ پر مقیم ہوئے اور ان کا وہ تاریخی گھر آج بھی کالج روڈ راولپنڈی میں شان سے موجود ہے۔
​1950ء کی دہائی میں یہ رہائش گاہ تحریکِ آزادیِ کشمیر اور آزاد کشمیر کی سیاست کا ایک عظیم “سیاسی گڑھ” (Political Hub) بن چکی تھی۔ اس دور میں کشمیر کی آزادی کے متوالے، چوٹی کے سیاست دان، عسکری رہنما اور بیوروکریٹس اسی گھر میں اکٹھے ہوا کرتے تھے۔ یہ گھر اس لحاظ سے غیر معمولی تاریخی اور اسٹریٹجک حیثیت کا حامل ہے کہ یہ صرف ان کی نجی رہائش گاہ نہیں تھی، بلکہ ایک وقت میں اسے سرکاری کشمیر ہاؤس (صدارتی ہاؤس/Presidency) کا درجہ حاصل رہا، جہاں بیٹھ کر ریاست کے مستقبل اور نوزائیدہ آزاد حکومت کے حوالے سے کئی اہم اور تاریخی فیصلے کیے گئے۔
​جنگِ آزادی اور دفاعی مشیر کے طور پر خدمات دینے کے بعد، سردار شیر احمد خان نے محسوس کیا کہ اب قوم کو بندوق کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام اور بہتر انتظامیہ کی بھی ضرورت ہے۔ چنانچہ انہوں نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور صدارت کے منصب پر فائز ہوئے۔
​آزاد کشمیر کی صدارت (1952-1956): کرنل سردار شیر احمد خان 22 جون 1952ء سے 30 مئی 1956ء تک آزاد جموں و کشمیر کے چوتھے صدر کے منصب پر فائز رہے۔ یہ دور آزاد کشمیر کی تاریخ میں داخلی استحکام، آئینی ارتقا اور ابتدائی ریاستی ڈھانچے کی تعمیر کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔
​سیاسی اصول اور سادگی: ان کا دورِ صدارت سادگی، دیانت داری اور قانون کی بالادستی کا بہترین نمونہ تھا۔ وہ ایک کھرے اور اصول پسند انسان تھے، جنہوں نے کبھی ذاتی یا قبائلی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح نہیں دی۔
​تعمیر و ترقی اور بحالی: بحیثیت صدر، ان کے دور کا سب سے بڑا چیلنج جنگ زدہ خطے کی بحالی اور مہاجرین کی آباد کاری تھا۔ انہوں نے 1952ء سے 1956ء کے دوران آزاد کشمیر میں انتظامی ڈھانچے کو مضبوط کرنے، کچہریوں اور تھانوں کا نظام قائم کرنے، اور تعلیم و صحت کی بنیادی سہولیات دور دراز علاقوں تک پہنچانے کے لیے انقلابی اقدامات کیے۔

​کرنل سردار شیر احمد خان ایک درویش صفت، نڈر اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔ صدارت کے اعلیٰ عہدے پر رہنے کے باوجود انہوں نے ہمیشہ ایک عام شہری کی طرح سادہ اور بااصول زندگی گزاری۔ ان کی گفتگو میں عسکری رعب بھی تھا اور ایک مخلص رہنما کی نرمی بھی۔ وہ سدھن قبیلے اور پورے آزاد کشمیر میں انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
​ان کی علالت کے دور کا ایک انتہائی اہم اور یادگار تاریخی واقعہ یہ ہے کہ جب وہ شدید علیل تھے اور سی ایم ایچ (CMH) راولپنڈی میں زیرِ علاج تھے، تو ان کی عسکری و قومی خدمات کے اعتراف اور احترام میں صدرِ پاکستان فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان خصوصی طور پر ہسپتال میں ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔ یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ ترین قیادت ان کا کس قدر احترام کرتی تھی۔ اس یادگار اور تاریخی موقع پر، ان کے فرزند سردار ظفر اقبال خان (جو اس وقت ایک چھوٹے بچے تھے) خود اس ہسپتال کے کمرے میں موجود تھے اور اس عظیم اور تاریخی لمحے کے چشم دید گواہ ہیں۔
​23 جنوری 1972ء کو وہ اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کا نام اور عظیم خدمات تاریخِ کشمیر میں ہمیشہ قائم رہیں گی۔
​کرنل سردار شیر احمد نے اپنی زندگی میں دو مرتبہ شادی کی۔ ان کی پہلی زوجہ کا تعلق پلندری سے تھا اور وہ ان کی ماموں زاد تھیں۔ انہوں نے دوسری شادی عراق سے کی جب وہ برٹش انڈین آرمی میں میجر تھے اور عراق میں ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے۔
​ان کی پہلی زوجہ سے 4 بچے ہیں اور وہ تمام وفات پا چکے ہیں، جبکہ دوسری زوجہ سے ان کے 6 بچے ہیں جن میں سے ایک بیٹی وفات پا گئی ہے اور 5 بچے حیات ہیں۔ ان کے 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں یوکے (UK) میں مقیم ہیں، جبکہ ایک بیٹا راولپنڈی میں مقیم ہے۔
۔ ان کے فرزند سردار ظفر اقبال خان آج کل لندن میں مقیم ہیں اور اپنے والد کی زندگی، خدمات اور تحریکِ آزادیِ کشمیر سے متعلق تاریخی معلومات اور یادوں کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ راقم کی سردار ظفر اقبال خان صاحب سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر گفتگو رہتی ہے، اور انہی کی زبانی کرنل سردار شیر احمد خان کی زندگی، جدوجہد اور تاریخی خدمات کے بہت سے اہم پہلو جاننے کا موقع ملا ہے۔
​کرنل سردار شیر احمد خان کی زندگی اس بات کی دلیل ہے کہ ایک سچا سپاہی صرف میدانِ جنگ ہی میں نہیں، بلکہ مشیرِ دفاع کے طور پر اور 1952ء سے 1956ء تک کے صدارتی دور کے ایوانوں میں بھی اپنے ملک و قوم کا حقیقی محافظ ہوتا ہے۔ آج آزاد کشمیر کی عوام جس آزادی کی فضا میں سانس لے رہی ہے، اس کے پیچھے کرنل شیر احمد خان جیسے غازیوں کا خون، پسینہ اور انتھک سیاسی و عسکری بصیرت شامل ہے۔ وہ تاریخِ کشمیر کا ایک ایسا روشن ستارہ ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا۔




  تازہ ترین   
ٹرمپ کی آج رات ایران میں بڑی کارروائی کی دھمکی، تیل تنصیبات پر قبضے کا عندیہ
قومی اقتصادی سروے پیش، حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام
لیڈر کی رہائی کیلئے احتجاج کریں مگر اداروں کو نشانہ نہ بنائیں: خواجہ آصف
بھارت کی پانی روکنے کی کوشش کے دور رس نتائج نکلیں گے: دفتر خارجہ
بجٹ کل 3 بجے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا: طارق فضل چودھری
ایران کے بحرین، اردن اور کویت میں امریکی اہداف پر حملے، آبنائے ہرمز بند
ایرانی رہنماؤں نے درخواست کر دی، بمباری جلد روک دی جائیگی: امریکی صدر کا دعویٰ
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا عالمی برادری سے فلسطینیوں کی نسل کشی پر کارروائی کا مطالبہ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر