بیجنگ (شِنہوا) چینی حکام نے ادویات کی فروخت اور صحت کی خدمات کے شعبوں میں بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے خلاف ملک گیر مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام صنعت کے نظم و نسق کو بہتر بنانے اور طبی شعبے پر عوامی اعتماد برقرار رکھنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
چین کے قومی صحت کمیشن (این ایچ سی) نے ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ این ایچ سی نے 13 دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر حال ہی میں ایک سرکلر جاری کیا ہے جس میں 2026 کے دوران ادویات کی تقسیم اور طبی خدمات کے شعبوں میں بدعنوانی پر مبنی طریقوں کی اصلاح کے لئے اہم اقدامات کی وضاحت کی گئی ہے۔
سرکلر میں درج 11 بڑے اہداف کے تحت حکام نے طبی کارکنوں پر پرتشدد حملوں اور صحت کے اداروں کے خلاف آن لائن ہراسانی جیسے جرائم کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔
یہ مہم ایسے غیر قانونی مارکیٹنگ طریقوں کو بھی نشانہ بنائے گی جو تعلیمی یا تحقیقی سرگرمیوں کے نام پر چھپائے جاتے ہیں، طبی جمالیات کی صنعت میں ہونے والی خلاف ورزیوں، جن میں غیر لائسنس یافتہ خدمات، غیر منظور شدہ مختصر تربیتی کورسز اور جھوٹے تجارتی اشتہارات شامل ہیں، کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
دیگر زیر نگرانی شعبوں میں کرائے کی کوکھ کی غیر قانونی خدمات، جنین کی جنس کی غیر قانونی شناخت اور جعلی پیدائشی سرٹیفکیٹس کا اجرا شامل ہیں۔
ادویات کی ترسیل اور تقسیم کے شعبے میں ریگولیٹرز نے قیمتوں کو واضح طور پر ظاہر نہ کرنے، قیمتوں میں دھوکہ دہی اور ادویات کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کے لئے ملی بھگت جیسے خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا عہد کیا ہے۔
سرکلر میں طبی عملے کے لئے پیشہ ورانہ اخلاقیات کے معیارات اور یونیورسٹی سے وابستہ ہسپتالوں سمیت صحت کے اداروں میں انسداد بدعنوانی کے قواعد پر سختی سے عملدرآمد پر زور دیا گیا ہے۔
چین کا ادویات کی فروخت اور طبی خدمات میں بے ضابطگیوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا اعلان



