ایئر کموڈور بی۔کے۔ داس — پاکستان فضائیہ اور سول ایوی ایشن کے معماروں میں شامل ایک عظیم شخصیت

پاکستان کی ابتدائی تاریخ میں چند ایسی شخصیات بھی موجود ہیں جنہوں نے ملک کے دفاعی اور انتظامی ڈھانچے کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کا ذکر نسبتاً کم ہوتا گیا۔ ایئر کموڈور بلونت کمار داس، جنہیں بی۔کے۔ داس کے نام سے جانا جاتا ہے، انہی عظیم شخصیات میں سے ایک تھے۔ وہ پاکستان فضائیہ کے ابتدائی افسران میں شامل تھے اور ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نہ صرف پاکستان ایئر فورس کی پیشہ ورانہ بنیادیں مضبوط کیں بلکہ بعد ازاں سول ایوی ایشن کے شعبے کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی دیانتداری، پیشہ ورانہ مہارت، فرض شناسی اور قومی خدمت کی ایک روشن مثال ہے۔

ابتدائی زندگی اور تعلیمی پس منظر

بلونت کمار داس 30 اپریل 1918ء کو برطانوی ہندوستان کے شہر گورکھپور میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک تعلیم یافتہ اور باوقار مسیحی خاندان سے تھا۔ ان کے والد پریم ناتھ داس اپنے دور کی ایک معروف شخصیت تھے جبکہ والدہ کانسٹنس پریم ناتھ داس ایک ممتاز ماہرِ تعلیم تھیں اور ایک معروف تعلیمی ادارے کی پرنسپل کے فرائض انجام دیتی تھیں۔ ایسے علمی ماحول میں پرورش پانے والے بی۔کے۔ داس نے بچپن ہی سے نظم و ضبط، محنت اور تعلیم کی اہمیت کو سمجھا۔ انہوں نے زراعت کے شعبے میں بیچلر آف سائنس کی ڈگری حاصل کی، تاہم ان کا اصل شوق ہوابازی تھا جس نے انہیں فضائیہ کی طرف راغب کیا اور بعد ازاں یہی شوق ان کی زندگی کا مقصد بن گیا۔

رائل انڈین ایئر فورس میں شمولیت اور جنگِ عظیم دوم

1940ء میں انہیں حکومت کے زیرِ سرپرستی فلائنگ ٹریننگ پروگرام کے لیے منتخب کیا گیا، جو اس زمانے میں ایک بڑا اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ اپنی کامیاب تربیت کے بعد 3 مارچ 1941ء کو انہیں رائل انڈین ایئر فورس میں کمیشن دیا گیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران انہوں نے مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دیں اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، قائدانہ اوصاف اور فضائی مہارت کے باعث اعلیٰ افسران کی توجہ حاصل کی۔ جنگی حالات میں خدمات انجام دینے سے انہیں عملی تجربہ حاصل ہوا جو بعد میں پاکستان فضائیہ کی تشکیل میں انتہائی مفید ثابت ہوا۔

قیامِ پاکستان اور پاکستان فضائیہ میں شمولیت

1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد بی۔کے۔ داس نے پاکستان کا انتخاب کیا اور نومولود رائل پاکستان ایئر فورس میں شامل ہوگئے۔ اس وقت پاکستان فضائیہ وسائل، افرادی قوت اور بنیادی ڈھانچے کے لحاظ سے شدید مشکلات کا شکار تھی۔ ایسے حالات میں بی۔کے۔ داس جیسے تجربہ کار افسران نے نئی فضائیہ کو منظم کرنے اور اسے ایک مؤثر فورس بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی خدمات نے پاکستان فضائیہ کے ابتدائی سالوں میں استحکام پیدا کرنے میں اہم حصہ ڈالا۔

مختلف اسکواڈرنز اور ایئر بیسز کی قیادت

پاکستان فضائیہ میں خدمات کے دوران بی۔کے۔ داس کو متعدد اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ دسمبر 1947ء میں انہیں نمبر 9 اسکواڈرن کا آفیسر کمانڈنگ مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے نمبر 6 اسکواڈرن کی کمان بھی سنبھالی۔ اس کے علاوہ وہ آر پی اے ایف اسٹیشن لاہور اور بعد میں پی اے ایف اسٹیشن پشاور کے کمانڈر بھی رہے۔ ان عہدوں پر رہتے ہوئے انہوں نے نہ صرف فضائی آپریشنز کو بہتر بنایا بلکہ جوانوں اور افسران کی تربیت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے بھی اہم اقدامات کیے۔ ان کی قیادت میں فضائیہ کے کئی اداروں نے نمایاں ترقی کی۔

پی اے ایف کالج کے کمانڈنٹ کے طور پر کردار

1954ء میں انہیں پی اے ایف کالج کا کمانڈنٹ مقرر کیا گیا۔ یہ وہ ادارہ تھا جہاں مستقبل کے فضائی افسران کی تربیت کی جاتی تھی۔ بی۔کے۔ داس نظم و ضبط کے معاملے میں انتہائی سخت اور اصول پسند تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہر کیڈٹ نہ صرف ایک بہترین فوجی بنے بلکہ کردار، اخلاق اور پیشہ ورانہ مہارت میں بھی مثالی ہو۔ ان کے دور میں پی اے ایف کالج میں تربیتی معیار کو مزید بہتر بنایا گیا اور نوجوان افسران میں قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دیا گیا۔

سول ایوی ایشن کی ترقی میں تاریخی خدمات

1961ء میں بی۔کے۔ داس کو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن اینڈ ٹورازم مقرر کیا گیا۔ یہ ان کے کیریئر کا ایک اہم مرحلہ تھا جہاں انہوں نے فوجی خدمات کے بعد ملکی ہوابازی کے شعبے کی ترقی پر توجہ دی۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے کئی بین الاقوامی فضائی معاہدے کیے جنہوں نے ملک کو عالمی فضائی نیٹ ورک سے جوڑنے میں مدد دی۔ انہوں نے ہوائی اڈوں کی توسیع، جدید آلات کی خریداری اور نئے انفراسٹرکچر کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی کوششوں سے پاکستان کی سول ایوی ایشن نے بین الاقوامی سطح پر نمایاں ترقی حاصل کی۔

بین الاقوامی معاہدے اور سفارتی کامیابیاں

بی۔کے۔ داس نے 1963ء میں سوویت یونین کے ساتھ فضائی سروسز کے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے جس سے دونوں ممالک کے درمیان فضائی روابط قائم ہوئے۔ 1965ء میں انہوں نے ہوائی اڈوں کی تعمیر کے لیے جدید مشینری کی خریداری کا معاہدہ بھی کیا۔ اسی سال پولینڈ کے ساتھ فضائی خدمات کا معاہدہ بھی ان کی نگرانی میں طے پایا۔ یہ معاہدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ صرف ایک فوجی افسر ہی نہیں بلکہ ایک کامیاب منتظم اور سفارتی صلاحیتوں کے حامل رہنما بھی تھے۔

ذاتی زندگی اور ایک دردناک سانحہ

بی۔کے۔ داس کی ذاتی زندگی میں ایک ایسا سانحہ پیش آیا جس نے انہیں عمر بھر متاثر رکھا۔ ان کے بیٹے دلیپ داس، جو “جانی داس” کے نام سے بھی جانے جاتے تھے، بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں کے دوران لاپتہ ہوگئے۔ بعد ازاں ان کے بارے میں یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ انہیں گرفتار کرکے ہلاک کردیا گیا تھا۔ ایک باپ کی حیثیت سے بی۔کے۔ داس نے اپنے بیٹے کی تلاش میں بے شمار کوششیں کیں اور بلوچستان میں طویل عرصہ گزارا، مگر انہیں کبھی مکمل حقیقت معلوم نہ ہوسکی۔ یہ واقعہ ان کی زندگی کے سب سے المناک ابواب میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

شخصیت، کردار اور یادگار خدمات

بی۔کے۔ داس کو جاننے والے افراد انہیں انتہائی دیانتدار، محنتی، نرم دل اور اصول پسند انسان قرار دیتے ہیں۔ سابق ایئر چیف مارشل اسغر خان نے انہیں غیر معمولی ایمانداری اور فرض شناسی کا حامل شخص قرار دیا۔ ان کے ساتھی افسران کے مطابق وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرتے تھے۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ سچی محنت، دیانتداری اور قومی خدمت انسان کو تاریخ میں ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔

وفات اور تاریخی ورثہ

20 مارچ 2002ء کو ایئر کموڈور بی۔کے۔ داس 83 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ اگرچہ آج ان کا نام عام طور پر کم لیا جاتا ہے، لیکن پاکستان فضائیہ اور سول ایوی ایشن کی تاریخ میں ان کی خدمات ہمیشہ سنہری حروف میں لکھی جائیں گی۔ وہ ان معماروں میں شامل تھے جنہوں نے پاکستان کے فضائی شعبے کی بنیادوں کو مضبوط کیا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط نظام چھوڑا۔ ان کی زندگی اور خدمات آنے والے افسران اور نوجوانوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گی۔



  تازہ ترین   
آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کب ہو گی، شیڈول جاری
امریکا کے ساتھ اگلے ایک سے دو روز میں معاہدہ ہو سکتا ہے: عباس عراقچی
امریکا ایران امن معاہدے پر دستخط جی 7 اجلاس کی سائیڈ لائن پر متوقع
ایران کے ساتھ معاہدے پر ہفتے کے آخر یا پیر کو دستخط ہو سکتے ہیں، ٹرمپ
ایف بی آر نے کھانے پینے، گھریلو استعمال کی اشیاء پر ٹیکسوں کی بھرمار کر دی
معاہدے میں کیے گئے تمام وعدوں کو لازمی طور پر پورا کیا جانا چاہیے، باقر قالیباف
کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافہ، تنخواہ دار طبقے پر سرچارج ختم
لکی مروت میں شہریوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خودکش حملہ آور کو ناکام بنا دیا





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر