سر سید احمد خان: ایک شخص، ایک عزم، ایک انقلاب

تحریر: مرزا علی پنجابی

ایک قصہ مشہور ہے کہ محمدن اینگلو اورینٹل کالج کے ایک طالب علم نے ہاسٹل کے ایک ملازم کو ہدایت دی کہ وہ ڈائننگ ہال سے ان کا کھانا لا کر ان کے کمرے میں رکھ دے۔ جب طالب علم رات کو اپنے کمرے میں پہنچا تو اس کا کھانا غائب تھا۔ ملازم نے اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا کہ اس نے کھانا ان کے کمرے میں ہی رکھا تھا لیکن شاید اسے کوئی بلی کھا گئی۔ ناراض طالب علم نے اس ملازم کی پٹائی کر دی۔ سر سید کی سوانح عمری “رفقائے سر سید” لکھنے والے پروفیسر افتخار احمد خان لکھتے ہیں کہ ہاسٹل کے وارڈن مولوی سلیمان نے طالب علم کی شکایت سر سید سے کی۔ سر سید نے فوری نوٹس جاری کرتے ہوئے اس طالب علم کو اسی شام تک کالج چھوڑ دینے کا حکم دیا۔ جب طلبہ نے یہ سنا تو وہ اس حکم کے احتجاج میں جمع ہونے لگے۔ ان کا یہ استدلال (دلیل) تھا کہ اگر طلبہ کو ملازمین کے ساتھ برے برتاؤ کی وجہ سے نکالا جاتا ہے تو ملازمین پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔ طلبہ نے سر سید سے اپیل کی کہ اس طالب علم کو معاف کر دیا جائے۔ سر سید نے انہیں جواب دیتے ہوئے لکھا: “آپ کی ضد ساری حدیں پار کر گئی ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے سوا ہر کوئی غلط ہے۔ میرا فیصلہ نہیں بدلے گا اور کالج کا قانون توڑنے اور ملازم کو پیٹنے کے لیے طالب علم کو ہاسٹل چھوڑنا ہی ہوگا”۔ شدید دباؤ کے باوجود سر سید اپنے فیصلے پر قائم رہے۔ دراصل شدید دباؤ کے درمیان اپنے فیصلے پر جمے رہنا ان کی شخصیت کی ایک بڑی خصوصیت تھی۔

جب سن اٹھارہ سو سترہ (1817) میں دہلی میں سر سید کی پیدائش ہوئی، اس وقت مغل بادشاہ اکبر شاہ ثانی کی حکومت تھی۔ اس دور میں دہلی میں تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار لوگ رہا کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ سر سید کے اسلاف (آباؤ اجداد) اکبر بادشاہ کے زمانے میں افغانستان کے ہرات سے ہندوستان آئے تھے۔ ان کی انگریزی میں کبھی کوئی باقاعدہ تعلیم نہیں ہوئی تھی لیکن انہوں نے اپنی کوششوں سے انگریزی بولنی اور پڑھنی سیکھ لی تھی۔ انہوں نے سن اٹھارہ سو سینتیس (1837) میں برطانوی حکومت کے صدر امین کے دفتر میں ملازمت شروع کی۔ اس کے بعد وہ ہندوستان کے کئی شہروں میں بطور ریڈر اور منصف تعینات رہے۔ انگریزوں کے زمانے کے ایک پولیس افسر جارج گراہم نے اپنی کتاب “دی لائف اینڈ ورک آف سر سید احمد خان” میں اپنے دوست کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا: “وہ درمیانے قد کے لحیم شحیم (مضبوط جسم کے) شخص ہیں، ان کا وزن تقریباً ایک سو بیس کلو ہے۔ ان کا چہرہ شیر جیسا ہے جو ان کے پختہ ارادے اور توانائی کی کہانی کہتا ہے۔ وہ زبردست قہقہہ لگاتے ہیں اور دوسروں کی طرح چٹکلوں (لطیفوں) کا مزہ بھی لیتے ہیں۔ وہ کئی سالوں سے رنڈوے (ودھر) ہیں، انہوں نے صرف ایک شادی کی تھی۔ وہ بہت زبردست مقرر ہیں۔ جب وہ اپنے جذبات کو دباتے ہیں تو ان کے ہونٹ کانپنے لگتے ہیں۔ وہ صبح چار بجے اٹھتے ہیں اور دیر رات تک کام کرتے ہیں”۔

سن اٹھارہ سو ستاون (1857) میں انگریزوں کے خلاف بغاوت کے وقت سید احمد بجنور میں تعینات تھے۔ اس وقت شیکسپیئر نام کا ایک انگریز بجنور کا کلکٹر ہوا کرتا تھا۔ بیس مئی اٹھارہ سو ستاون کو نواب محمود خان نے اس علاقے پر اپنا کنٹرول کر لیا تھا۔ جارج گراہم لکھتے ہیں کہ سید احمد نے محمود سے مل کر وہاں موجود انگریزوں کو ان کی خواتین اور بچوں سمیت محفوظ نکالنے کا انتظام کروایا۔ محمود نے سید سے کہا کہ وہ انگریزوں کا ساتھ چھوڑ کر ان سے آ ملیں۔ سید احمد کا جواب تھا: “نواب صاحب! انگریزوں کی حکومت ہندوستان سے اتنی آسانی سے ختم نہیں کی جا سکتی”۔ سید احمد درست ثابت ہوئے۔ بغاوت کو بجنور، دہلی اور ہر جگہ کچل دیا گیا۔ دہلی سے بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو جلاوطن کیا گیا کیونکہ انہوں نے مسلم اشرافیہ (کلیل طبقے) کو اپنے ہاں پناہ دی تھی۔ حفیظ ملک نے اپنی کتاب “سر سید احمد: ہسٹری آف ریولٹ ان ڈسٹرکٹ آف بجنور” میں لکھا تھا کہ بغاوت کے بعد بنائے گئے خصوصی کمیشن نے تین ہزار تین سو چھ (3306) لوگوں پر مقدمہ چلایا تھا۔ ان میں سے دو ہزار پچیس (2025) لوگوں پر جرم ثابت ہوا تھا، جن میں سے تین سو بانودے (392) لوگوں کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا تھا۔ کرنل جارج گراہم نے تسلیم کیا کہ وہ ایک ایسا خوفناک وقت تھا جب کئی بے قصور لوگوں کو بھی قصوروار لوگوں کے ساتھ سزا بھگتنی پڑی تھی۔ ان بے قصور لوگوں میں سید احمد کے چچا اور چچازاد بھائی بھی تھے جنہیں انگریزوں کی حمایت کرنے والے سکھ فوجیوں نے مار دیا تھا۔ انگریز حکومت نے سر سید کو ان کی وفاداری کے لیے سونے کے تمغے (گولڈ میڈل) سے نوازا تھا۔

سن اٹھارہ سو اٹھاون (1858) میں سر سید نے ایک رسالہ شائع کیا جس کا عنوان تھا “اسبابِ بغاوتِ ہند” ، جس میں انہوں نے اس عام تاثر کی تردید کی کہ 1857 کی بغاوت کا منصوبہ مسلمانوں نے بنایا تھا۔ جب انگریز حکومت نے اس رسالے کا ترجمہ کروایا تو گورنر جنرل لارڈ کیننگ نے اسے ایک سخت ملامت (ریبوک) قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ اعجاز احمد اپنی کتاب “سر سید، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اینڈ نیشنل پولیٹکس” میں لکھتے ہیں کہ جب ہاؤس آف کامنز میں اس رسالے پر بحث ہوئی تو وزیرِ خارجہ سیلڈ بیڈن نے اس کی مخالفت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ رپورٹ کے مصنف کو فوراً گرفتار کیا جائے۔ لیکن پارلیمنٹ میں انہیں حمایت حاصل نہ ہو سکی۔ زیادہ تر برطانوی اخبارات نے رپورٹ کی حمایت کی اور حکومت سے درخواست کی کہ وہ رپورٹ کی تجاویز پر عمل درآمد کرے۔

سن اٹھارہ سو انسٹھ (1859) میں سر سید احمد کے بیٹے محمود کو شمال مغربی صوبے کی جانب سے کیمبرج یونیورسٹی میں پڑھنے کے لیے منتخب کیا گیا۔ سید احمد نے بھی چھٹی لی اور اپنے دونوں بیٹوں اور ملازم چھجو کے ساتھ انگلینڈ روانہ ہو گئے۔ اس وقت ان کی عمر باون (52) برس تھی۔ سر سید انگلینڈ میں سترہ مہینے رہے۔ انہوں نے کیمبرج اور آکسفورڈ یونیورسٹیوں اور مشہور ایٹن اور ہیرو اسکولوں کا دورہ کیا۔ وہیں سے انہیں ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک کالج شروع کرنے کی ترغیب ملی۔ ہندوستان واپسی کے تین مہینوں کے اندر انہوں نے “تہذیب الاخلاق” میگزین کا پہلا شمارہ شائع کیا۔ اس شمارے نے پورے ہندوستان میں تہلکہ مچا دیا۔ راجموہن گاندھی نے اپنی کتاب “ایٹ لائفز: اے اسٹڈی آف ہندو مسلم انکاؤنٹر” میں لکھا کہ سید احمد نے اپنے رسالے میں لکھا کہ غلامی قرآن میں ممنوع ہے۔ کثیر الازدواجی (ایک سے زیادہ شادیاں) کو اسی وقت جائز ٹھہرایا جا سکتا ہے جب شوہر تمام بیویوں کے ساتھ برابر کا سلوک کرے۔ سرکاری لوٹ مار اور قرض سے ملنے والا سود جائز نہیں ہے اور موجودہ دور میں رہ رہے مسلمان ‘اجتہاد’ یعنی ان موضوعات پر آزادانہ فیصلہ لینے کے لیے آزاد ہیں جن کا ذکر قرآن یا کسی حدیث میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن میں ایسا کچھ بھی نہیں لکھا ہے جو ان کی اپنی ترقی کے لیے انگریزی اور سائنس کی تعلیم حاصل کرنے میں رکاوٹ بنے۔ ایسا این اکرام نے اپنی کتاب “ماڈرن مسلم انڈیا” میں لکھا ہے۔ ان خیالات کی وجہ سے اسلامی انتہا پسندوں نے انہیں کافر، ملحد اور یہاں تک کہ کرسٹان یعنی عیسائی کہنا شروع کر دیا۔ ان خیالات نے مسلم معاشرے کے ٹھہرے ہوئے پانی کو پوری طرح ہلا کر رکھ دیا۔

سن اٹھارہ سو چھہتر (1876) میں سینتیس (37) سال کی ملازمت کے بعد سر سید نے ریٹائرمنٹ لے لی اور علی گڑھ میں آ کر بس گئے۔ جب سر سید نے مسلمانوں کے لیے کالج کھولنے کی مہم شروع کی تو اسے انگریزوں کی پوری حمایت حاصل ہوئی۔ یو پی کے گورنر سر ولیم میئر نے علی گڑھ میں انہیں پچھہتر (75) ایکڑ زمین فراہم کی جس کا استعمال پہلے برطانوی فوج کر رہی تھی۔ وائسرائے لارڈ نارتھ بروک نے اپنے ذاتی فنڈ سے دس ہزار روپے دیے۔ ان کے بعد آنے والے وائسرائے لارڈ لٹن نے آٹھ جنوری اٹھارہ سو ستتر (1877) کو محمدن اینگلو اورینٹل کالج کا سنگِ بنیاد رکھا، حالانکہ کالج دو سال پہلے ہی وجود میں آ چکا تھا۔



  تازہ ترین   
ایران کا اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں آپریشن روکنے کا اعلان
امریکا حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا براہ راست ذمہ دار، واشنگٹن اسرائیل کی پشت پناہی بند کرے: ایران
اسرائیل کی ایران کے مختلف شہروں میں بمباری، ماہشہر پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر بھی حملہ
آزاد جموں و کشمیر سے متعلق غیر ضروری اور بے بنیاد بیانات مسترد
بجٹ پر تحفظات دور کرنے کیلئے صدر مملکت اور وزیر اعظم کی ملاقات آج ہوگی
بیروت حملے کا بدلہ، ایران نے اسرائیل پر میزائل برسا دیے: اسرائیل کا جوابی وار، تبریز، اصفہان میں متعدد دھماکے
اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو امریکا حصہ نہیں لے گا: ٹرمپ کا نیتن یاہو کو واضح پیغام
آج رات تہران کو جلنا چاہیے، اسرائیلی وزیر بن گویر کا ایرانی حملوں پر سخت ردعمل





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر