پوٹھوہار کا نوجوان: شعور، علم اور سماجی بیداری سے مستقبل کی تعمیر کا سفر

تحریر: محمد نذیر

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے، ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

علامہ اقبالؒ کا یہ پیغام آج بھی خطۂ پوٹھوہار کے نوجوانوں کے لیے اسی طرح معنی خیز اور امید افزا ہے جیسے ایک صدی قبل تھا۔ پوٹھوہار کی سرزمین اپنی تہذیبی عظمت، تاریخی اہمیت، ثقافتی رنگا رنگی، عسکری روایات، علمی شخصیات اور محنتی عوام کے باعث ہمیشہ پاکستان کے نمایاں خطوں میں شمار ہوتی رہی ہے۔ اس دھرتی نے ملک کو بے شمار سپاہی، اساتذہ، دانشور، سیاستدان، صحافی، ڈاکٹر، انجینئر اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی قابل شخصیات فراہم کی ہیں جنہوں نے نہ صرف قومی سطح بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ عسکری میدان میں پوٹھوہار کو خصوصی شناخت حاصل رہی ہے، یہاں سے متعدد اعلیٰ فوجی افسران اور سپہ سالار ابھرے جن میں جنرل محمد موسیٰ خان، جنرل جہانگیر کرامت، جنرل اشفاق پرویز کیانی اورجنرل قمر جاوید باجوہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر شامل ہیں۔ سیاسی میدان میں بھی اس خطے نے اہم قومی رہنما پیدا کیے جن میں چوہدری نثار علی خان، شیخ رشید احمد، راجہ پرویز اشرف اور صدیق خان عباسی قابل ذکر ہیں۔ علم و ادب، صحافت اور دانش کے میدان میں احمد ندیم قاسمی، مستنصر حسین تارڑ اور متعدد دیگر اہلِ قلم نے قومی فکری زندگی کو جِلا بخشی۔ اسی طرح اس خطے کے ہزاروں اساتذہ، ڈاکٹرز، انجینئرز، صحافی، کاروباری شخصیات اور سماجی کارکن ملک و قوم کی خدمت میں مصروف ہیں۔ یہ تمام شخصیات اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ پوٹھوہار کی سرزمین صلاحیتوں سے مالا مال ہے اور اگر آج کے نوجوان علم، کردار اور محنت کو اپنا شعار بنا لیں تو وہ بھی مستقبل میں اسی روایت کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔کم وساٸل سیاسی عناد اور معاشرے میں بڑھتی بے چینی و ناانصافی کے باوجود آج بھی پوٹھوہار کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں، بلند حوصلوں اور روشن خوابوں کے مالک ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان صلاحیتوں کو وہ مواقع میسر ہیں جن کی بنیاد پر وہ اپنی اور اپنے علاقے کی تقدیر بدل سکیں؟ کیا نوجوانوں کو وہ تعلیمی، سماجی اور فکری ماحول فراہم کیا جا رہا ہے جو انہیں ایک باشعور، ذمہ دار اور فعال شہری بنا سکے؟ حقیقت یہ ہے کہ پوٹھوہار سمیت پاکستان کے اکثر علاقوں میں نوجوانوں کو روزگار، معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات، تحقیق کے مواقع، کھیلوں کے میدانوں، لائبریریوں اور فنی تربیت کے مراکز کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان مسائل کے باوجود اگر کسی طبقے میں تبدیلی کی سب سے زیادہ صلاحیت موجود ہے تو وہ نوجوان نسل ہی ہے کیونکہ قوموں کی تعمیر کا عمل نوجوانوں کی سوچ، کردار اور عزم سے ہی وابستہ ہوتا ہے۔ دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی معاشرے میں مثبت تبدیلی آئی تو اس کے پیچھے نوجوانوں کا شعور، ان کی جدوجہد اور ان کا اجتماعی کردار موجود تھا۔ آج خطۂ پوٹھوہار کے نوجوانوں کے سامنے بھی یہی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقے کے مسائل کو سمجھیں، اپنے حقوق اور فرائض سے آگاہ ہوں اور محض تنقید یا شکایت تک محدود رہنے کے بجائے تعمیری کردار ادا کریں۔ ترقی یافتہ معاشرے وہ نہیں ہوتے جہاں نوجوان صرف حالات کا رونا روتے رہیں بلکہ وہ معاشرے آگے بڑھتے ہیں جہاں نوجوان تبدیلی کا حصہ بنتے ہیں، اپنے خیالات کو مثبت انداز میں پیش کرتے ہیں اور اپنے اردگرد کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرتے ہیں۔ موجودہ دور کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن کا دور کہا جاتا ہے جہاں سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے۔ فیس بک، ایکس (ٹوئٹر)، انسٹاگرام، یوٹیوب، ٹک ٹوک اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نوجوانوں کے ہاتھ میں ایک ایسی طاقت بن چکے ہیں جو رائے عامہ کی تشکیل، آگاہی کی ترویج اور سماجی تبدیلی کے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا کا ایک بڑا حصہ غیر ضروری تنازعات، ذاتی اختلافات، سیاسی نفرتوں، کردار کشی اور بے مقصد بحثوں کی نذر ہو جاتا ہے جبکہ اس پلیٹ فارم کی اصل قوت علم، شعور اور سماجی خدمت میں پوشیدہ ہے۔ اگر پوٹھوہار کے نوجوان ان ذرائع کو مثبت انداز میں استعمال کریں تو وہ اپنے علاقوں میں تعلیم، صحت، ماحولیات، ٹریفک، پینے کے صاف پانی، کھیلوں کی سہولیات اور دیگر عوامی مسائل کو اجاگر کر سکتے ہیں۔ وہ حکومتی اداروں کی توجہ عوامی مسائل کی جانب مبذول کرا سکتے ہیں، نوجوانوں کے لیے روزگار اور تعلیمی مواقع کی معلومات عام کر سکتے ہیں، فلاحی سرگرمیوں کو فروغ دے سکتے ہیں اور معاشرے میں مثبت سوچ کو فروان چڑھا سکتے ہیں۔ آج دنیا بھر میں سماجی تبدیلی کی متعدد تحریکیں سوشل میڈیا ہی کے ذریعے کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور نوجوان ان تحریکوں کا اہم ستون بنے ہوئے ہیں۔ پوٹھوہار کے نوجوان بھی اگر اپنی توانائیوں کو مثبت سمت میں استعمال کریں تو وہ اپنے علاقے کے لیے ایک نئی مثال قائم کر سکتے ہیں۔ تاہم کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی صرف سوشل میڈیا کے ذریعے ممکن نہیں ہوتی بلکہ اس کی بنیاد علم اور تعلیم پر استوار ہوتی ہے۔ تعلیم وہ طاقت ہے جو انسان کو شعور عطا کرتی ہے، اس کی سوچ کو وسعت دیتی ہے اور اسے صحیح اور غلط میں فرق کرنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں مطالعے کی روایت کمزور پڑتی جا رہی ہے، کتاب سے تعلق محدود ہوتا جا رہا ہے اور نوجوانوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیا کے فوری اور سطحی مواد تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوٹھوہار سمیت پورے ملک میں ایک علمی اور فکری بیداری کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ لائبریریوں کا قیام، مطالعاتی حلقوں کی تشکیل، علمی و ادبی نشستوں کا انعقاد، تحقیق کی حوصلہ افزائی اور نوجوانوں میں کتاب دوستی کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ جب نوجوان کتاب سے رشتہ جوڑ لیتا ہے تو اس کی شخصیت میں سنجیدگی، برداشت، تحقیق اور تنقیدی شعور پیدا ہوتا ہے۔ وہ صرف مسائل کی نشاندہی نہیں کرتا بلکہ ان کے حل بھی تلاش کرتا ہے۔ یہی وہ خصوصیات ہیں جو ایک باشعور قوم کی تعمیر کرتی ہیں۔ پوٹھوہار کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں علم و ادب کی شاندار روایات موجود رہی ہیں اور آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ان روایات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے نئی نسل تک منتقل کیا جائے۔ اسی طرح فنی تعلیم اور جدید مہارتوں کا حصول بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ای کامرس اور دیگر جدید شعبے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھول رہے ہیں۔ اگر نوجوان ان شعبوں میں مہارت حاصل کریں تو وہ نہ صرف اپنی معاشی حالت بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ ملکی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں سماجی خدمت کا جذبہ بھی فروغ پانا چاہیے۔ خون کے عطیات، تعلیمی معاونت، شجرکاری مہمات، صفائی مہمات، مریضوں کی مدد، یتیموں اور ضرورت مندوں کی کفالت اور قدرتی آفات کے دوران امدادی سرگرمیوں میں نوجوانوں کی شمولیت معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ ایک باشعور نوجوان صرف اپنی ذات کے لیے نہیں جیتا بلکہ وہ اپنے معاشرے، اپنے علاقے اور اپنے وطن کے لیے بھی سوچتا ہے۔ آج پوٹھوہار کو محض سڑکوں، عمارتوں اور ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت نہیں بلکہ اسے ایک ایسے فکری اور تعلیمی انقلاب کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کو شعور، تحقیق، برداشت، دیانت، خدمتِ خلق اور قومی ذمہ داری کے جذبے سے آراستہ کرے۔ ایسا انقلاب جو نوجوانوں کو یہ احساس دلائے کہ ترقی صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری خصوصاً نوجوان نسل کا بھی فرض ہے۔ اگر نوجوان اپنی توانائیاں ذاتی مفادات، لسانی تعصبات، سیاسی نفرتوں اور غیر ضروری تنازعات کے بجائے علم، تعلیم، اتحاد اور سماجی خدمت کے لیے وقف کر دیں تو پورا خطہ ترقی کی نئی منازل طے کر سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پوٹھوہار کے نوجوان اپنے قلم، اپنی آواز، اپنے کردار اور اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو عوامی خدمت اور اجتماعی بھلائی کے لیے استعمال کریں۔ وہ اپنے حقوق کے لیے مہذب انداز میں آواز بلند کریں، اپنے علاقوں کے مسائل کو اجاگر کریں، تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیں، کتاب اور تحقیق سے اپنا رشتہ مضبوط کریں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن اور مستحکم مستقبل کی بنیاد رکھیں۔ کیونکہ تاریخ ہمیشہ ان قوموں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے نوجوانوں کو شعور، علم اور کردار کی دولت سے مالا مال کرتی ہیں۔ اگر پوٹھوہار کا نوجوان جاگ جائے، علم کو اپنا ہتھیار بنا لے، تحقیق کو اپنا راستہ بنا لے، اتحاد کو اپنی طاقت بنا لے اور خدمتِ انسانیت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لے تو وہ دن دور نہیں جب یہ خطہ صرف جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے نہیں بلکہ علمی، فکری، تعلیمی اور سماجی ترقی کی ایک روشن مثال کے طور پر پورے پاکستان کے لیے مشعلِ راہ بن جائے گا، اور تب اقبالؒ کا یہ خواب بھی حقیقت کا روپ دھار لے گا کہ اس زرخیز مٹی سے ایسی نسلیں جنم لیں جو اپنے عزم، کردار اور علم کی طاقت سے قوموں کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔



  تازہ ترین   
پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی میں ترامیم منظور، پٹرولیم مصنوعات کے سٹریٹیجک ذخائر بڑھانے کی ہدایت
آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ سب سے آگے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے: رانا ثناء
پاکستان اور امریکا کی سٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے: اسحاق ڈار
کل سے بارشوں کا نیا طاقتور سپیل داخل ہونے کا امکان، سیلاب کا خدشہ
امریکا کی غیر قانونی بحری ناکہ بندی مزید کشیدگی تصور ہوگی: ایرانی فوج
میر پور ڈویژن کے انتخابات: ن لیگ 7 نشستوں پر کامیاب، پیپلزپارٹی کی 4 سیٹیں
حملے عارضی طور پر روکے، مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی ہوگی: ٹرمپ
میرپور نے شیر پر مہر لگا کر اعلان کر دیا ترقی ن لیگ سے جڑی ہے: مریم اورنگزیب





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر