تحریر: رضوان الحق
یہ جلالپور جٹاں ہے۔ انیسویں صدی اپنی پہلی دہائی پار کر چکی ہے۔ کشمیر کے پہاڑوں سے آنے والے شالباف اس قصبے کو اپنا مسکن بنا رہے ہیں۔ انہی خاندانوں میں ایک نام صدیق جو کا بھی تھا، جو اپنی والدہ کے ہمراہ کشمیر سے جلالپور جٹاں آئے اور یہاں گرم شالیں تیار کرنے کا کارخانہ قائم کیا۔
‘صدیق جو’ ایک ماہر اور ہنرمند شالباف تھے۔ اپنی محنت کی بدولت جلد ہی معاشرے میں ایک منفرد مقام حاصل کر لیا۔ آج بھی شیلوخ مشن ہسپتال کے سامنے واقع “مسجد جو” ان کے خانوادے کی یادگار کے طور پر موجود ہے۔
صدیق جو کے دو بیٹے تھے، احد جو اور احمد جو۔
احمد جو کے ہاں کرم الٰہی جو پیدا ہوئے، جو بعد ازاں کرم الٰہی حکیم کے نام سے معروف ہوئے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ محکمہ قانون سے وابستہ ہوئے اور اس دور میں بطور پلیڈر خدمات انجام دیں۔ اس زمانے میں وکالت کے پیشے سے وابستہ افراد کو پلیڈر کہا جاتا تھا، جو آج کے ایڈووکیٹ کے مساوی حیثیت رکھتے تھے۔
کرم الٰہی حکیم کی ملازمت کا بیشتر عرصہ جہلم میں گزرا۔ ان کی اولاد میں فیض الٰہی حکیم، محمد حسین حکیم، حکیم چراغ علی قریشی ایڈووکیٹ اور عائشہ بی بی شامل تھے
محمد حسین حکیم جلالپور جٹاں میں پیدا ہوئے۔ چونکہ ان کے والد کی بطور پلیڈر تعیناتی جہلم میں تھی، اس لیے ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے ایف سی کالج لاہور سے ایم اے انگلش کیا۔ آپ نے انڈین فنانس ڈیپارٹمنٹ کے تحریری امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کی، لیکن صحت کی خرابی کے باعث یہ ملازمت اختیار نہ کر سکے اور تدریس کے شعبے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔
پروفیسر صاحب نے پنجاب کے مختلف تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دیں جن میں اٹک، ساہیوال، جھنگ، گوجرانوالہ اور گجرات کے کالج نمایاں ہیں۔ ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ کے مطابق آپ خالصہ کالج گوجرانوالہ کے پہلے مسلمان پرنسپل بھی تھے۔
جھنگ میں تدریسی فرائض کے دوران عالمی شہرت یافتہ سائنس دان اور نوبیل انعام یافتہ عبدالسلام بھی آپ کے شاگردوں میں شامل تھے۔
ڈاکٹر سعید اختر درانی بیان کرتے ہیں کہ ایک موقع پر ان کی ملاقات ڈاکٹر عبدالسلام سے ہوئی تو انہوں نے بتایا:
“میں ایک زمانے میں پڑھائی میں کچھ لاپروا ہو گیا تھا۔ پروفیسر محمد حسین حکیم نے میرے والد صاحب کو کالج بلا کر کہا کہ اگر اس نے اپنی روش نہ بدلی تو اسے کالج سے اٹھوا کر کسی کام پر لگا دیا جائے گا۔ اس سرزنش کے بعد میں نے تعلیم میں کبھی غفلت نہیں کی۔”
آپ کے شاگردوں میں ممتاز قانون دان اور سابق چیف جسٹس محمد رستم کیانی بھی شامل تھے، جو بعد ازاں اکثر آپ سے ملاقات کے لیے گجرات آیا کرتے تھے۔
گورنمنٹ انٹرمیڈیٹ کالج گجرات
گورنمنٹ انٹرمیڈیٹ کالج گجرات، جو شہر کا پہلا کالج تھا، آپ اس کے پرنسپل بھی رہے۔ 1939ء میں جب اس ادارے کو زمیندار کالج میں ضم کیا گیا تو آپ نے اس فیصلے کی مخالفت کی۔ آپ کا موقف تھا کہ زمیندار کالج ضرور بنایا جائے، لیکن گورنمنٹ انٹرمیڈیٹ کالج کی تاریخی شناخت بھی برقرار رکھی جائے۔
قائداعظم کا قیام:
جولائی 1944ء میں جب محمد علی جناح مختصر دورے پر گجرات تشریف لائے تو ان کا قیام و طعام محمد حسین حکیم کی رہائش گاہ “فیض الٰہی منزل” میں ہوا۔
فیض الٰہی منزل، جیل چوک گجرات میں واقع یہ شاندار عمارت تقریباً 1930ء میں مکمل ہوئی۔ محمد حسین حکیم نے اپنے مرحوم بھائی فیض الٰہی کی یاد میں اس عمارت کا نام “فیض الٰہی منزل” رکھا۔
سروس شوز اور استاد کا احترام:
سروس شوز فیکٹری کے پارٹنرز چوہدری محمد حسین اور چوہدری نذر محمد، گورنمنٹ انٹرمیڈیٹ کالج گجرات میں پروفیسر محمد حسین حکیم کے شاگرد تھے اور اپنے استاد کے لیے انتہائی مودب تھے، ان کا بے پناہ احترام کرتے تھے۔
محمد حسین حکیم گجرات کی مٹی کے ان فرزندوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم و تعلیم کے لیے وقف کر دی۔ وہ نہایت منظم، نفیس اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔ ذہنی طور پر انتہائی مضبوط تھے، اگرچہ عمر بھر صحت کے مسائل کا سامنا کرتے رہے۔
سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر مجاہد کامران کے والد سید شبیر حسین شاہ اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں:
“1934ء میں میٹرک کے بعد میں نے گورنمنٹ انٹرمیڈیٹ کالج گجرات میں داخلہ لیا۔ وہاں پرنسپل محمد حسین حکیم تھے۔ وہ غالباً صحت کی وجوہ سے شادی نہ کر سکے، مگر ان کا شمار اس زمانے میں صوبے کے انگریزی کے بہترین اساتذۂ میں ہوتا تھا۔”
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی چراغ علی حکیم کے بچوں کی تعلیم و تربیت میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی ذاتی زندگی تنہا گزاری اور شادی نہیں کی۔
11 ستمبر 1972ء کو علم کا یہ چراغ بجھ گیا۔ آپ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے اور اپنی محبوب رہائش گاہ، فیض الٰہی منزل، کے صحن میں آسودۂ خاک ہوئے۔



