بیجنگ (شِنہوا) ’’چین میں رات کے وقت باہر نکلتے ہوئے میری سب سے بڑی فکر یہ ہوتی ہے کہ نائٹ مارکیٹ میں اتنے زیادہ لذیذ سنیکس ہوتے ہیں کہ کہیں وزن نہ بڑھ جائے۔ ‘‘ روس کی 31 سالہ تاتیانا کوچی رووا نے ہنستے ہوئے کہا کہ وہ چین کے جنوب مغربی صوبے گوئی ژو کے دارالحکومت گوئی یانگ میں رہنے کے اصل “خطرے” کو یہی سمجھتی ہیں۔
تاتیانا 2016 میں گوئی ژو یونیورسٹی میں چینی زبان سیکھنے کے لئے گوئی یانگ آئی تھیں۔ بعد میں انہوں نے ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی، نوکری حاصل کی اور اسی شہر میں مستقل سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ “گوئی یانگ رہنے کے لئے ایک بہترین جگہ ہے۔ یہاں زندگی کی رفتار پرسکون ہے اور رات کی رونقیں جاندار ہیں۔”
وہ اور ان کے شوہر اکثر رات گئے باربی کیو کھانے باہر نکلتے ہیں، جبکہ دوستوں کے ساتھ گزاری گئی شامیں اکثر مقامی بارز میں ختم ہوتی ہیں۔ تاہم جو چیز انہیں آج بھی سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے، وہ یہاں امن و امان اور تحفظ کا احساس ہے۔
انہوں نے کہا کہ “یہاں کے بارز میں، میں اپنا سامان میز پر ہی چھوڑ کر جا سکتی ہوں اور مجھے یہ فکر نہیں ہوتی کہ کوئی اسے اٹھا لے گا۔ یہ چیز مجھے زبردست ذہنی سکون دیتی ہے۔”
تاتیانا سوشل میڈیا پر گوئی ژو صوبے کی تصاویر اور ویڈیوز باقاعدگی سے شیئر کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “میری پوسٹس دیکھ کر بیرون ملک موجود میرے بہت سے دوستوں نے اس جگہ کو اپنی سفری فہرست میں شامل کر لیا ہے۔”
پوری دنیا سے چین آنے والے سیاحوں میں اب اس طرح کی کہانیاں عام ہو چکی ہیں۔ ویزا فری پالیسیوں میں توسیع، سفری سہولیات میں بہتری اور ہمہ جہت عوامی سہولیات کی بہتری کی بدولت چین کے بین الاقوامی سفر کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور بہت سے غیر ملکی مسافر تحفظ کی ایک ایسی سطح کا تجربہ کر رہے ہیں جو انہیں آزادی سے گھومنے پھرنے کی اجازت دیتی ہے۔
تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے یہ سیاح چین میں نظر آنے والے روزمرہ کے مناظر کو شیئر کرنے میں تیزی سے سرگرم ہیں، جیسے سڑک کے کنارے دکانوں پر دکانداروں کا پرسکون ہو کر سونا، عوامی مقامات پر لاوارث پڑے سوٹ کیس جنہیں کوئی ہاتھ نہیں لگاتا اور بغیر کسی خوف کے رات کو اکیلے باہر نکلنے کی آزادی۔
بیجنگ میں زیر تعلیم ایک ہسپانوی طالبہ اینا حال ہی میں اپنے تین دوستوں کو پہلی بار چین کے دورے پر لے کر آئیں۔ اس گروپ نے چین کے مشرقی شہر شنگھائی کے مصروف تجارتی اضلاع میں اپنے سامان کی فکر کئے بغیر سارا دن تصاویر بنانے میں گزارا۔
اینا نے کہا کہ “میں یہاں خود کو بالکل پرسکون محسوس کرتی ہوں۔ یہاں تک کہ رات گئے اکیلے پیدل چلنے سے بھی مجھے کوئی گھبراہٹ نہیں ہوتی۔”
جو چیز بہت سے چینی شہریوں کے لئے ایک عام سی روٹین معلوم ہو سکتی ہے وہ دراصل بہت سے بین الاقوامی مسافروں کی بنیادی تشویش یعنی سکیورٹی کا بہترین جواب ہے۔ سیاحوں کے لئے دن ہو یا رات، کسی اجنبی جگہ پر چوکنا رہے بغیر بالکل آزادانہ گھومنے پھرنے کی یہ سہولت دنیا کے بہت سے دوسرے مقامات پر ایک عیاشی تصور کی جائے گی۔
غیر ملکی بلاگرز نے چین میں روزمرہ زندگی کے پرامن اور محفوظ احساس کو اپنے کیمروں میں قید کر لیا



