قاہرہ (شِنہوا) گزشتہ 3 ماہ کے دوران ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں خلیج بھر میں امریکی ففوجی اڈوں پر جوابی حملے ہوئے اور آبنائے ہرمزمیں جہاز رانی کا عمل درہم برہم ہو گیا جس نے عالمی منڈیوں اور علاقائی سکیورٹی کے ڈھانچے میں ہیجان برپا کر دیا ہے۔
چونکہ یورینیم کی افزودگی اور سمندری تنازعات پر اختلافات کو ختم کرنے کے لئے وقفے وقفے سے کی جانے والی سفارتی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اس لئے اس تنازع کے اثرات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس دور رس تصادم نے نہ صرف مشرق وسطیٰ کے جغرافیائی سیاسی منظر نامے کو یکسر بدل دیا ہے بلکہ بیرونی سکیورٹی ضامنوں پر بعض علاقائی ریاستوں کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ اس صورتحال نے سکیورٹی میں خود انحصاری اور زیادہ متنوع تزویراتی شراکت داریوں کی ضرورت کے بڑھتے ہوئے احساس کو جنم دیا ہے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر ایک فوجی مہم کا آغاز کیا جس میں ملک بھر کے شہروں کو نشانہ بنایا گیا اور بنیادی طور پر میزائل سائٹس اور جوہری تنصیبات پر حملے کئے گئے۔
تہران نے اس کا جواب کویت، بحرین، قطر، اردن، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز کے پے در پے حملوں سے دیا جس کے بعد آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے اقدامات کئے۔
اس کے فوراً بعد حزب اللہ نے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے شمالی اسرائیل میں راکٹ اور ڈرون داغے۔ اسرائیل نے جواباً پورے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کئے اور بعد میں جنوبی لبنان میں اپنی بمباری اور زمینی کارروائیوں کو تیز کر دیا۔
بعد ازاں ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر لڑائی عارضی طور پر رک گئی۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے 8 اپریل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کرانے میں مدد کی جس نے 1979 کے بعد اسلام آباد میں دونوں فریقوں کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کے براہ راست مذاکرات کی راہ ہموار کی۔
تاہم یورینیم کی افزودگی، منجمد ایرانی اثاثوں اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر گہرے اختلافات کے باعث مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہو سکی۔
اگلے ہفتوں میں ایران نے ایک ترمیمی 14 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا۔ اس کے فوراً بعد امریکہ نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کو نکالنے کے نام پر “پروجیکٹ فریڈم” آپریشن شروع کیا۔ دونوں فریقین نے اس سٹریٹجک آبی گزرگاہ کے قریب ایک دوسرے پر جہازوں پر حملے کرنے کے الزامات لگائے۔
حالیہ دنوں میں دشمنی کی آگ دوبارہ بھڑک اٹھی ہے۔ امریکی سنٹرل کمانڈنے ایران کے جزیرہ قشم پر ایسے حملے کئے جنہیں اس نے دفاعی کارروائی قرار دیا جس کے جواب میں تہران نے خلیج میں امریکی اڈوں پر نئے میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیئے۔
مبصرین کا کہنا ہے گزشتہ3ماہ ایک جغرافیائی و سیاسی آزمائشی مرحلے کے طور پر سامنے آئے ہیں جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کے ممالک نے تہران، واشنگٹن اور تل ابیب کے علاقائی اثر و رسوخ پر ازسر نو غور شروع کر دیا ہے۔
ایران جنگ نے مشرق وسطیٰ میں سلامتی کے نظام کی ازسرنو تشکیل اور تزویراتی تنوع کو فروغ دیا



