فلسطین، غزہ اور لبنان میں انسانی حقوق کی پامالی: عالمی ضمیر کا امتحان

تحریر: منظر نقوی
انسانی حقوق اس وقت اپنی اصل روح کھو دیتے ہیں جب انہیں مخصوص خطوں، مخصوص قوموں یا مخصوص سیاسی مفادات کے تحت دیکھا جائے۔ انسانی حقوق کسی
ایک ملک یا قوم کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہیں۔ آج دنیا فلسطین، غزہ اور لبنان میں ایک ایسے المیے کا مشاہدہ کر رہی ہے جس نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ معصوم شہری، بچے، خواتین، بزرگ، مریض اور بے گھر خاندان ایسے حالات کا سامنا کر رہے ہیں جہاں زندگی، عزت، تحفظ، خوراک، علاج اور رہائش جیسے بنیادی حقوق مسلسل پامال ہو رہے ہیں۔

فلسطین کا مسئلہ جدید تاریخ کے طویل ترین انسانی بحرانوں میں سے ایک ہے۔ کئی دہائیوں سے فلسطینی عوام قبضے، بے دخلی، نقل و حرکت کی پابندیوں، گرفتاریوں، گھروں کی مسماری اور بنیادی آزادیوں سے محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔ غزہ میں یہ بحران اپنی بدترین شکل اختیار کر چکا ہے۔ وہاں کے عوام مسلسل خوف، بھوک، بیماری، تباہ شدہ گھروں، تباہ حال اسپتالوں اور محدود امدادی رسائی کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ صرف سیاسی تنازعہ نہیں بلکہ انسانی بقا کا سوال ہے۔

غزہ محض ایک جنگ زدہ علاقہ نہیں بلکہ انسانوں کا گھر ہے۔ وہاں بچے اسکول جانے کے بجائے ملبے کے ڈھیر دیکھتے ہیں۔ مائیں اپنے بچوں کے لیے خوراک اور دوا تلاش کرتی ہیں۔ اسپتال زخمیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور طبی سہولیات ناکافی ہیں۔ جب گھروں کو نشانہ بنایا جائے، جب پناہ گاہیں محفوظ نہ رہیں، جب امداد تک رسائی مشکل بنا دی جائے تو یہ معاملہ صرف علاقائی سیاست تک محدود نہیں رہتا بلکہ عالمی انسانی قانون اور اخلاقی ذمہ داری کا سوال بن جاتا ہے۔

فلسطینی قیدیوں کے حقوق بھی عالمی توجہ کے مستحق ہیں۔ قیدی بھی انسان ہیں اور انہیں بنیادی انسانی احترام، طبی سہولت، قانونی رسائی اور بین الاقوامی نگرانی کا حق حاصل ہے۔ جنگ یا سکیورٹی کے نام پر انسانی وقار کو معطل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر دنیا قیدیوں، بے گھر افراد، زخمیوں اور بچوں کے حقوق کے تحفظ میں ناکام ہو جائے تو انسانی حقوق کے تمام دعوے کمزور پڑ جاتے ہیں۔

لبنان بھی اس خطے کی کشیدگی کا ایک بڑا متاثرہ ملک ہے۔ وہاں عام شہری مسلسل خوف، حملوں، معاشی دباؤ، نقل مکانی اور عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔ لبنان کے عوام پہلے ہی سیاسی اور معاشی بحرانوں سے گزر رہے تھے، اب سرحدی کشیدگی اور فوجی کارروائیوں نے ان کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ شہری آبادی کو نشانہ بنانا یا انہیں خوف میں مبتلا رکھنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ بین الاقوامی قانون واضح طور پر کہتا ہے کہ جنگ کے دوران بھی شہریوں، اسپتالوں، امدادی کارکنوں اور بنیادی تنصیبات کا تحفظ لازم ہے۔

بین الاقوامی انسانی قانون واضح ہے کہ شہریوں کا تحفظ لازم ہے، قیدیوں کے ساتھ باوقار سلوک ضروری ہے، انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے اور اجتماعی سزا کی کسی مہذب دنیا میں کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن فلسطین، غزہ اور لبنان کے عوام کی مسلسل تکلیف ظاہر کرتی ہے کہ قوانین صرف اس وقت مؤثر ہوتے ہیں جب طاقتور ریاستیں انہیں انصاف کے ساتھ نافذ کرنے کی نیت رکھتی ہوں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں دنیا کی بڑی طاقتوں کو اپنی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ امریکہ، روس، چین، برطانیہ، یورپی ممالک اور دیگر بااثر ریاستوں کو اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ آگے آنا چاہیے۔ انسانی حقوق کو اتحادوں، فوجی مفادات یا سیاسی فائدے کے زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ انہیں تمام متاثرہ انسانوں، خاص طور پر بچوں، خواتین، بزرگ شہریوں، زخمیوں، قیدیوں اور بے گھر خاندانوں کے حق میں آواز بلند کرنی چاہیے۔

اقوام متحدہ کو بھی بیانات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ سلامتی کونسل، جنرل اسمبلی، انسانی حقوق کونسل اور امدادی اداروں کو جنگ بندی، محفوظ راستوں، طبی امداد، خوراک کی فراہمی اور تعمیر نو کے لیے زیادہ فوری اور مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ او آئی سی، عرب لیگ اور دیگر علاقائی فورمز کو بھی مذمتی بیانات تک محدود رہنے کے بجائے مضبوط اور متحد کردار ادا کرنا چاہیے۔

انسانی حقوق کو طاقتور اور کمزور قوموں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ غزہ کے ایک بچے کی زندگی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی دنیا کے کسی بھی حصے میں ایک بچے کی زندگی ہے۔ ایک فلسطینی خاندان کی عزت اتنی ہی اہم ہے جتنی کسی بھی دوسرے خاندان کی عزت۔ لبنان کے ایک عام شہری کی تکلیف بھی اسی عالمی توجہ کی مستحق ہے جو دنیا کسی دوسرے خطے کے متاثرین کے لیے ظاہر کرتی ہے۔

طاقتور ممالک کی خاموشی اکثر ناانصافی کے لیے ڈھال بن جاتی ہے۔ جب بڑی طاقتیں عمل نہیں کرتیں تو خلاف ورزیاں جاری رہتی ہیں۔ جب عالمی ادارے تقسیم کا شکار رہتے ہیں تو شہری امید کھو دیتے ہیں۔ جب سیاسی مفادات اخلاقی ذمہ داری پر غالب آ جاتے ہیں تو انسانیت خود کمزور ہو جاتی ہے۔

دنیا کو فوری طور پر شہریوں کے خلاف تشدد کے خاتمے، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، اسپتالوں اور اسکولوں کے تحفظ، بے گھر خاندانوں کی محفوظ واپسی اور بحالی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر احتساب کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ امن ملبے، خوف اور ناانصافی پر قائم نہیں ہو سکتا۔ امن عزت، مساوات، مکالمے اور انسانی زندگی کے احترام پر قائم ہوتا ہے۔

انسانی حقوق یا تو عالمگیر ہیں یا پھر بے معنی ہیں۔ دنیا کو ثابت کرنا ہوگا کہ اس کے پاس تمام انسانوں کے لیے ایک ہی معیار ہے۔ فلسطین، غزہ اور لبنان محض علاقائی مسائل نہیں بلکہ عالمی انسانی ضمیر کا امتحان ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بڑی طاقتیں دوہرے معیار سے اوپر اٹھیں اور جرأت، انصاف اور رحم دلی کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں۔



  تازہ ترین   
امریکا کے ایرانی تنصیبات پر حملے، کویت اور بحرین میں جوابی میزائل داغ دیئے گئے
خارجی کمانڈرز منشیات کے عادی، غیراخلاقی حرکات میں ملوث ہیں: گرفتار دہشت گرد
ایران کے پاس 21 سے 22 فیصد میزائل باقی، معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
تنخواہوں میں 10 تا15 فیصد اضافے کی تجویز، حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے
پاکستان اور روس میں غیر قانونی امیگریشن اور منشیات کی روک تھام کیلئے معاہدے
اشیائے ضروریہ پر پرچون قیمت پرنٹ کرنا لازمی قرار دینے کا فیصلہ
بیوٹی پارلرز، سکن کلینک اور ہیلتھ کلب کے سامان پر ٹیکس کمی کا امکان
امریکا ایران جنگ بندی کیلئے پاکستان کی ثالثی کی حمایت کرتے ہیں: روس





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر