غزہ ،تل ابیب(نیشنل ٹائمز)غزہ سٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد شہید اور 18 زخمی ہو گئے ۔ شہری دفاع کے ترجمان محمود بسال کے مطابق شہید ہونے والوں میں 4بچے بھی شامل ہیں ۔ غزہ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی کا معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ ہے ، تاہم علاقے میں وقفے وقفے سے اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ اسرائیلی سپریم کورٹ نے سینئر جج کے گھر پر انتہا پسند مذہبی مظاہرین کے دھاوے کو عدالتی نظام پر حملہ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے ۔ پولیس نے سپریم کورٹ کے نائب صدر نوام سولبرگ کے گھر میں توڑ پھوڑ کرنے والے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا۔ مظاہرین حالیہ دنوں میں فوجی بھرتی سے گریز کرنے والے الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔ سپریم کورٹ کے صدر اسحاق امیت نے کہا کہ یہ اقدام “سرخ لکیر” عبور کرنے کے مترادف ہے ۔ اسرائیل کی سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے ریڈ کراس کی فلسطینی قیدیوں سے ملاقات پر عائد پابندی ختم کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دے دیا ۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حکومت پابندی کے لیے کوئی موثر جواز پیش نہیں کر سکی، فیصلے کے بعد ریڈ کراس نے قیدیوں تک دوبارہ رسائی کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے اسرائیلی حکام سے مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے فیصلے کو اہم قرار دیتے ہوئے اس پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے ۔
غزہ:اسرائیلی بربریت جاری ، 10افراد شہید، 18زخمی



