اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وفاقی آئینی عدالت نے اصول طے کر دیا ہے کہ ہائیکورٹ سپریم کورٹ اور نہ ہی وفاقی آئینی عدالت کے ماتحت ہے ۔ وفاقی آئینی عدالت سے اسلام آباد ہائیکورٹ کو کیس جلد نمٹانے کی ہدایت کی استدعا پر فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے تحریر کیا اور قرار دیا کہ اکثر اعلیٰ عدلیہ سے ہائیکورٹ کو جلد فیصلوں کی ہدایات کرنے کی درخواستیں کی جاتی ہیں،ملک میں ہر ہائیکورٹ آزاد آئینی عدالت ہے۔ ہائیکورٹ کے تمام فیصلے سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیے جاسکتے ہیں، ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کرنا عدالت کو کسی بھی طرح ماتحت نہیں بناتا۔
ہائیکورٹس کو ہدایات جاری کرنے کے احکامات بہت احتیاط اور مناسب الفاظ میں دیئے جانے چاہئیں، ہائیکورٹس کے پاس مقدمات کی مقرر کردہ تاریخوں کی پالیسی کے ساتھ ساتھ اپنے آزاد روسٹر اور کیس مینجمنٹ کے نظام موجود ہوتے ہیں۔ فیصلہ میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ کوئی بھی حکم یا ہدایت جو ایسی پالیسی یا کیس فکسیشن پر حاوی ہو، ہائیکورٹس کی عدالتی اور انتظامی آزادی میں مداخلت کے مترادف ہے ۔ بلا شبہ بعض اوقات مقدمے کی ہنگامی نوعیت کا تقاضا ہوتا ہے کہ معاملہ واپس بھیجے جانے پر متعلقہ ہائیکورٹ جلد سنے ، ایسے مقدمات میں مناسب الفاظ کا استعمال ہونا چاہئے ۔ اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا جاتا ہے کہ رٹ پٹیشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التواء تصور کی جائے گی، توقع کی جاتی ہے کہ کیس کی فوری نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے جلد از جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔



