لياقت ٿھيم
1۔ کینیڈین ادیب اور سیاح کرسٹوفر اوداچی کی تصنیف ’سندھ ری وزٹیڈ: اے جرنی اِن دی فُٹ پرنٹس آف کیپٹن سَر فرانسس رچرڈ برٹن‘ (سندھ میں دوبارہ: کیپٹن سر فرانسس رچرڈ برٹن کے نقشِ قدم پر ایک سفر) سال 1996 میں شائع ہوئی جس میں اُنہوں نے انیسویں صدی کے مشہور جاسوس، جنگجو، ماہرِ لسانیات اور مورخ، سر رچرڈ برٹن کے سندھ اور انڈیا کے سفر کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ برٹن کی کتاب ’سندھ ری وزٹیڈ‘ 1877 میں شایع ہوئی تھی۔ کرسٹوفر اوداچی نے بھی اپنی کتاب اِسی عنوان سے لکھی ہے جس میں انہوں نے سندھ اور ہندوستان کے انہی شہروں اور قصبوں کے سفرنامے قلمبند کیے ہیں۔ یعنی وہ علاقے جہاں ڈیڑھ صدی قبل رچرڈ برٹن گئے تھے اور اپنے مشاہدات لکھے تھے۔
کیپٹن رچرڈ برٹن، جنرل چارلس نیپیئر کی فوج میں وہ واحد انگریز افسر تھا جو سندھی بول سکتا تھا۔ وہ سندھ میں پہلی مرتبہ تالپور دور حکومت میں آیا۔ پھر سندھ کی فتح کے وقت ( 1843 ) میں دوبارہ آیا۔ سن 1847 میں سندھ میں ہیضے کی وبا پھیلی تو وہ یہاں سے گوا چلا گیا کیونکہ خود اسے بھی ہیضہ لگ گیا تھا۔ اس کے بعد وہ تیسری بار 1871 میں سندھ آیا۔
برٹن کے گھر میں سندھی، پنجابی، بلوچ، سرائیکی، مارواڑی اور گجراتی قوموں کے ملازم ہوتے تھے۔ وہ ان سب سے اُن کی مادری زبان میں بات کرتا تھا۔ اسے تقریباً چوبیس زبانیں آتی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ برٹن نے زبان سیکھنے کا ایک ایسا طریقہ ایجاد کیا تھا جس کے تحت وہ دنیا کی کوئی بھی زبان چار ہفتوں میں سیکھ لیتا تھا۔ اس نے سندھ کی تاریخ، قومیتوں، زبان، مذاہب اور معاشرے کے عام پہلوؤں پر بہت کچھ تحریر کیا۔ وہ شاہ عبداللطیف بھٹائی پر لکھنے والا پہلا یورپی تھا۔
سندھ میں قیام کے دوران گورنر چارلس نیپیئر نے اُسے یہ ذمہ داری دی کہ وہ کراچی کے ریڈ لائٹ علاقے (غالباً موجودہ نیپیئر روڈ) کے بارے میں ایک تفتیشی رپورٹ تیار کرے، کیونکہ ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے سپاہیوں میں پھیلی ہوئی جنسی بیماریوں کے بارے میں بہت فکرمند تھی۔ برٹن نے بڑی محنت سے رپورٹ تیار کر کے نیپیئر کو پیش کی۔ یہ رپورٹ ’کراچی پیپرز‘ کے نام سے مشہور ہوئی، مگر اس میں کمپنی کے سپاہیوں اور افسروں کی جنسی زندگی کے بارے میں ایسے انکشافات تھے کہ یہ دستاویز دوبارہ کبھی منظرِ عام پر نہ آ سکی۔ کہا جاتا ہے کہ اسے ضائع کر دیا گیا تھا۔
ڈیڑھ سو سال پہلے، برٹن نے کراچی سے سکھر تک سندھ میں ریلوے پٹڑی بچھانے کا پہلا سروے کیا تھا۔ اس کے لیے وہ ٹھٹہ، حیدرآباد، سیہون، دادو، لاڑکانہ، قمبر، شکارپور، جیکب آباد اور روہڑی بھی گیا اور ریلوے لائن کا نقشہ تیار کیا۔ سروے میں اُس نے خاص طور پر یہ خیال رکھا کہ ریلوے لائن اُن اضلاع سے گزرے جہاں گندم اور کپاس کی پیداوار زیادہ ہوتی ہو۔ سندھ کے سفر کے دوران لاڑکانہ کے نزدیک ’قمبر‘ شہر میں وہ ایک ناچ گانے والی عورت سے ملا۔ اُس عورت کی بہن نور جان اسے بہت پسند آئی جس کے پاس وہ اکثر جاتا رہتا تھا۔
آپ میں سے بہت سارے لوگوں نے عربی داستانوں کی مشہور کتاب ’الف لیلیٰ‘ کا انگریزی ترجمہ پڑھا ہو گا۔ یہ کتاب رچرڈ برٹن نے عربی سے انگریزی میں ترجمہ کی تھی۔ حقیقت میں وہ خود بھی ایسی ہی داستان کا ایک کردار معلوم ہوتا تھا؛ دن کے وقت گلیوں میں چیزیں بیچنے والا خانہ بدوش اور معلومات اکٹھی کرنے والا جاسوس۔ راتوں کو کتابیں لکھنے والا مورخ اور سندھ میں انگریز حکمت عملی کا اولین معمار۔
2۔ ’اینکسیشن ائنڈ دی اَن ہیپی ویلی‘ امریکی اسکالر میتھیو اے کُک کی سندھ کے ایک خاص تاریخی مرحلے کے بارے میں لکھی گئی تصنیف ہے۔ یہ کتاب آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے 2021 میں شائع کی ہے۔ سندھ کے لیے اَن ہیپی ویلی (افسردہ وادی) کی اصطلاح پہلی بار کیپٹن رچرڈ برٹن نے اپنی تصنیف ’سندھ: دی اَن ہیپی ویلی‘ میں استعمال کی تھی، جو اُس نے غالباً 1870 میں لکھی تھی۔
میتھیو کُک کے مطابق سندھ کی فتح کے بعد انگریزوں نے یہاں مارشل لا نافذ کر دیا تھا تاکہ شورش، جرائم اور بغاوت کو سختی سے کچلا جا سکے۔ اس کے بعد چارلس نیپیئر نے سندھ میں ظلم و جبر کا بازار گرم کر دیا۔ کسی شخص کے خلاف عام شکایت پر بھی پھانسی دے دی جاتی تھی۔ بغیر ثبوت کے کورٹ مارشل کر کے بے شمار لوگوں کو سزائے موت دی گئی۔ ایسے واقعات بھی ہوئے کہ پچاس پچاس افراد کو قطار میں کھڑا کر کے گولیوں سے اڑا دیا گیا۔
کتاب میں بتایا گیا ہے کہ فروری 1843 میں جب انگریز فوج حیدرآباد کے قلعے میں داخل ہوئی تو کئی مہینوں تک قلعے کو لوٹا جاتا رہا۔ زنان خانے کی تلاشی لینے کے لیے حیدرآباد میں فحاشی کے اڈوں سے عورتیں بلائی گئیں، جو معزز خاندانوں کی خواتین کی تلاشی لے کر اُن سے سونا اور زیورات چھین لیتی تھیں۔ جب امیروں کے محلات میں کچھ باقی نہ بچا تو اُن کا فرنیچر، کپڑے، آئینے، الماریاں، قیمتی پردے، یہاں تک کہ بچوں کے جھولے تک باہر نکال لیے گئے، اور ہر ہفتے اُن کی نیلامی کی جاتی تھی۔
’اینکسیشن ائنڈ دی اَن ہیپی ویلی‘ دراصل سندھ کی خونریز جنگ کے بعد میجر جیمس اُوٹ رَم اور جنرل نیپیئر کے درمیان سندھ میں طرز حکومت پر شدید اختلافات کے بارے میں ہے۔ اُوٹ رَم سندھ کے خلاف جنگ اور قبضے کا حامی نہیں تھا۔ سندھ کی فتح کے بعد نیپیئر نے جو ظلم برپا کیا، اُس کے بارے میں میجر اُوٹ رَم نے انگریزی پریس میں لکھا، لندن میں برطانوی پارلیمنٹ کو خطوط بھیجے اور گورنر جنرل ایلنبرو سے بھی شکایت کی۔ تب بمبئی سے ’کیتھ ینگ‘ نامی ایک اٹارنی جنرل یہاں بھیجا گیا تاکہ سندھ میں عدالتوں کا نظام قائم کیا جا سکے۔ مگر نیپیئر نے کہا: ’کون سا قانون؟ یہاں وہی ہو گا جو میں کہوں گا۔‘ یہ خط و کتابت بھی کتاب میں دی گئی ہے۔
سندھ آنے سے پہلے جنرل نیپیئر امریکہ میں انگریز فوج کی جانب سے جنگوں کی کمان کر چکا تھا۔ اُس وقت امریکہ میں انگریز مخالف خانہ جنگی زوروں پر تھی اور اُس کی سرکوبی کے لیے جنرل نیپیئر اہم برطانوی کمانڈروں میں شمار ہوتا تھا۔ جب وہ سندھ آیا تو اُس کی عمر ستر برس تھی۔ اُس کی بڑی گھنی داڑھی تھی اور وہ نہایت سخت گیر اور بے رحم شخص تھا۔
’اینکسیشن ائنڈ دی اَن ہیپی ویلی‘ میں سندھ کے لوہانہ ہندوؤں کے بارے میں بھی تفصیل سے لکھا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق ناؤں مل (جو ایک لوہانہ تھا) کے بڑوں کے ساتھ ہونے والے کے واقعات (مثال طور کے طور پر جبری ختنے ) کو انگریزوں نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا تاکہ برطانوی عوام کو یہ باور کرایا جا سکے کہ سندھ کے مسلمان حکمران بہت تعصب پرست ہیں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بچانے کے لیے تالپور اقتدار کا خاتمہ لازمی ہے۔ مصنف کے مطابق سندھ کے تاجروں نے انگریزوں کا ہر قدم پر ساتھ دیا، کیونکہ ایسٹ انڈیا کمپنی اُن کے تجارتی مفادات کے تحفظ اور پورے برصغیر میں اُنہیں شراکت داری دینے کے لیے تیار تھی۔
کتاب کے آخر میں مصنف نے وہ تمام علمی ذرائع بھی درج کیے ہیں جہاں سے اُسے سندھ کے بارے میں تحقیقی مواد ملا۔ ان میں برٹش لائبریری اورینٹل اینڈ انڈیا آفس کلیکشن، لندن اور مہاراشٹر اسٹیٹ آرکائیوز نمایاں ہیں۔



